"قبائلی غبز” تحریر : شکیل مومند

0
قبائلی عوام فاٹا سیکر ٹریٹ سے تنگ اور عاجز آ چکے ہیں جبکہ عام آدمی کے لیے فاٹا سیکر ٹریٹ جانا بے معنی ہے ۔ آپ ایک درخواست فاٹا سیکر ٹریٹ میں دینگے وہ آپکو اتنا تنگ کریں گے کہ آپکی درخواست سے فائل بنا دی جائے گی۔ آپ اپنے ساتھ ڈائری نمبر نوٹ کرتے جائیں ۔فلاح افسر کے پاس آپکی درخواست ہے۔ جب آپ جائیں گے تو آپکو صاف بتا دیں گے کہ اس درخواست پر کام جاری ہے اور فاٹا سیکر ٹریٹ کے آفسران پوری توجہ سے آپکی درخواست پر غور کر رہے ہیں۔ نتیجہ آخر میں صفر ہی رہے گا ۔ یہ مہربانی بھی پرویز مشرف صاحب کی ہے جنہوں نے فاٹا سیکر ٹریٹ کا قیام 2002 عمل میں لایا گیا۔ جس کا ظاہری مقصد یہ ہی تھا کہ قبائلی علاقہ جات کے انتظامی امور کی انجام دہی میں بے جاں رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور مختلف انتظامی شعبہ جات کو یکجا کیا جائے۔ قبائلی علاقہ جات کے تمام متعلقہ محکمہ جات کو اس سیکر ٹریٹ کے ما تحت کر دیا گیا ۔ شروع سے ہی اس سیکر ٹریٹ کے قیام کے ضمن میں خدشات اور اختلاف رائے کا اظہار ہوتا رہا۔ بہت سے وکلاء ، ماہرین تعلیم،صحافیوں اور سیاستدانوں کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سیکر ٹریٹ کا قیام کسی بڑی خرابی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ سیکر ٹریٹ اس قابل ہے کہ قبائلی علاقہ جات کا انتظام بہتر طریقے سے چلا سکے۔ گورنر کے پاس اپنی انتظامی مشینری بھی موجود ہے۔ فاٹا سیکر ٹریٹ سے مختلف امور میں متاثرہ عوام کا واسطہ پڑتا رہا ہے۔ مشرف صاحب کی دوسری مہربانی میں فاٹا میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس(LGO) کی طرز پر 2002 میں فاٹا لوکل گورنمنٹ ریگولیشن ترتیب دیا ۔ جب بلدیاتی انتخابات کو پورے ملک میں لاگو کیا جارہا تھا تو اس وقت قبائلی علاقہ جات کو یہ کہہ کر بلدیاتی انتخابات کی دسترس سے باہر رکھا گیا۔ کہ وہاں کی عوام ایسا نہیں چاہتی فاٹا سیکر ٹریٹ میں بھی یہ تاثر پایا گیا کہ قبائل کے لوگ کوئی نیا سسٹم قبول نہیں کرتے۔ روایات کی سخت پاسداری کرتے ہیں اور موجودہ سسٹم ان کو اس لیے نامناسب لگتا ہے کہ وہ اس کے عادی ہیں۔ اور اپنی رسموں کو کسی بھی دوسرے حکومتی نظام کی نسبت بہتر سمجھنے کی وجہ سے قبائلی روایات کی پاسداری کو زیادہ آسان سمجھتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کی بجائے صوبہ سرحد کے گورنر نے دسمبر 2002 میں ایک نوٹس جاری کیا جو عبوری ایجنسی کونسلز کے ذریعے ترقیاتی اور اہم علاقائی امورمیں مقامی لوگوں کی شمولیت کو سہل بنانے کے متعلق تھا۔ ان کونسلز کے لیے تین سال کا دورانیہ مقرر کیا گیا۔ منطقی اعتبار سے تو ان کونسلز کو پولیٹیکل انتظامیہ کی مداخلت کے بغیر منتخب ہونا تھا مگر عملاً ایسا کہی دکھائی نہ دیا۔ ہر ایجنسی کونسل میں ممبران کی تعداد کل آبادی کے تناسب کے اصول پر طے کی گئی۔ 70 % نمائندے رواج کے مطابق جرگے کے ذریعے چنے گئے اور باقی 30% فیصد نشستیں قبائلی عمائدین علماء ماہرین عورتوں اور اقلیتوں کے لیے مختص تھیں جن پر تقرری پولیٹیکل ایجنٹ اور فاٹا سیکر ٹریٹ کرتا تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے دسمبر 2004 میں ایجنسی کونسلز کے انتخابات کا ڈرامہ رچایا تھا وہاں نہ کوئی الیکشن شیڈول نظر آیا ، نہ پولینگ اسٹیشن حتیٰ کے الیکشن کمیشن بھی اس عمل میں شامل نہیں تھا۔ بحر حال اس صورت حال میں بھی تمام تر ایگز یکٹیو اختیارات پولیٹکل ایجنٹ کے پاس ہی رہتے ہیں۔ اور اسی کا فیصلہ حتمی سمجھا جاتا ہے۔ البتہ پولیٹیکل ایجنٹ کونسل کے ممبران کو مختلف مانیٹرینگ کمیٹیوں اور سب کمیٹیوں کے لیے نامزد کرتا ہے۔ لیکن یہ کمیٹیاں بھی PA کے ماتحت ہی کام کرتی ہیں۔ ایجنسی کونسل کی تشکیل کے ذریعے قبائلی علاقہ جات کے عوام کا ترقیاتی عمل میں شرکت کا دیرینہ مطالبہ دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مزید ان کے TOR نا ہونے کی بنا پر اختیارات اور حدود علمداری نا معلوم رہی۔ اور بالآ خر انکو نامزد کونسل کو بھی ختم کر دیا گیا۔ قبائلی عوام 2017 میں بلدیاتی انتخابات کے انتظار میں ہیں اور تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں۔ سیاسی اصلاحات کی غرض سے یونین کونسل کی سطح پر مقامی لوگوں کو علاقے کے معاملات میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ قبائلی علاقوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کو قائم کرنے کا جائزہ لیا گیا ۔ حکومت فاٹا میں بلدیاتی اداروں کے قیام کی منظوری دے گا ۔ایجنسیوں اور ایف آر زمیں بلدیاتی حلقہ بندیوں کے لیے اعلیٰ اختیارتی اتھارٹی قائم کی جائے گی اور اس نظام کے تحت ترقیاتی کاموں زراعت، آب پاشی، ٹریفک منجمنٹ ، ثقافتی سرگرمیوں کے اختیارات بھی ناظمین اور کونسلروں کے سپرد کی جائے گی۔ اور با قاعدہ بلدیاتی نمائندوں کو NFC ایوارڈ کے ذریعے فنڈز ملیں گے جس کے قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں نے با قاعدہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری شروع کر رکھی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ قبائلی علاقے تعمیر و ترقی سے آباد رہیں۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.