کامران تهجے کیا پتہ کہ لوگ تیری بہادری یاد کرینگے

0

تحریر :انورشاہ اورکزئی چند روز پشاورکے علاقے فقیرآباد میں رہزنوں نے ایک معمولی سے موبائل فون کے لئے معصوم طالبعلم کامران کی جان لی۔دراز قد اور خوبصورت وخوب سیرت کامران کو علاقے میں اس کی شرافت کی وجہ سے شہرت حاصل تھی۔ اس کے والد سرکاری سکول میں استاد ہیں جو اپنے علاقے کرم ایجنسی میں خدمت سرانجام دے رہے ہیں ۔اچھے اخلاق کی وجہ سے شہید کامران کے والد حکیم استاد سے گائوں کے لوگ اور طلباء بہت متاثر ہیں ۔ والد کی آمدنی کم ہونے کی وجہ سے بہت مشکل سے کامران نے پشاور سے ایف اے سی کیا اور میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں کم نمبر حاصل کئے تھی جس کی وجہ سے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکاا،وہ والدین کی خواہش پر دوبارہ امتحان کی تیار ی میں مصرو تھا اور اس کے لئے پشاور میں ایک نجی ہا سٹل میں رہائیش پزیر تھا ۔کامراناپنے والدین ،رشتہ داروں اور دوستوں کو چھوڑ کر فانی دنیا سے حقیقی اور ابدی دنیا میں چلا گیا۔اس نے وہاں سے والدین کے نام ایک خط بھیجا ہے ۔کامران اپنے خط میں لکھتا ہے ۔ اسلام علیکم ! باباجی امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے۔ عرض ہے کہ میں نے آپ لوگوں سے بے وفائی کا مظاہرہ کیا جس پر میں آپ سے معافی چاہتا ہوں ،بابا جی !مجھے معلوم تھا کہ بے رحم چور مجھے آ پ سے اور امی سے جد ا کرنا چاہتے ہیں مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ بعد میں میرے ہم عمر باتیں بنائیں کہ کامران نے خوف کی وجہ سے چوروں کو اپنا موبائل دیدیااسے جان پیاری تھی ۔بابا جی میں ڈرنے والا نہیں تھا اور نہ ہی میں نے کھبی بزدلی دکھائی ہے ۔ بابا جی ! میں آپ کو سچ بتانا چاہتا ہو کہ مجھے یہاں اس دنیا میں ایک خوبصورت محل ملا ہے اور اس محل میں تمام تر سہولیات میسر ہیں ۔ بابا جی ! جب میں دوستوں کے ساتھ ہاسٹل سے دودھ لینے باہر گیا اور راستے میں ہی ایک موٹر سائیکل روکا اور موٹرسائیکل پر تین بے رحم چور سوار تھے ،جنہوںنے مجھ سے موبائل فون چھیننا چاہا جس پر میں نے مزاحمت کا فیصلہ کیا ۔باباجی! مجھے معلوم تھا کہ گولی کھانی پڑے گی اور میں نے پختون روایات برقرار رکھیں بزدلی نہیں دکھائی اور وہ موبائل جو آپ نے مجھے دیا تھا وہ رہزنوں کو نہیں دیا ۔باباجی ! جب مجھے گولی لگ گئی تو پرندے کے طرح زمین پر گرپڑا اورچور بھاگنے لگے،دوستوں نے مجھے اُٹھایا اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا۔ہسپتال میں بہت سردی تھی اورمجھے تکلیف بہت رہی تھی ۔بابا جی بے تخاشہ خون بہہ رہا تھا۔اس وقت آپ لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ آپ کا پیارا بیٹا کامران ہسپتال میں ایک سٹریچر پر پڑا ہے ورنہ آپ لوگ گرم بستر پر آرام نہ کررہے ہوتے،بابا جی میں سوچ رہا تھا کہ امی اور بہنیں کیسے ہونگی اور میں تھوڑا بہت دکھی بھی ہوا کہ گھر سے کوئی فون نہیں کرتا اور سارے کے سارے سوئے ہوئے ہیں یا قصداً خیریت دریافت نہیں کرتے ،بابا جی کیا آپ لوگوں کو نیند آرہی تھی ؟یا آپ لوگ اسی امید کے ساتھ سوئے تھے کہ بیٹا کامران پشاور میں ہے اور اپنے ہی کمبل پر سویا ہوگا یا میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے لئے تیاری کررہا ہوگا۔ بابا جی یا شائد آپ اسی امید پر آرام سے سوئے ہونگے کہ پشاور میں سیکورٹی سخت ہے اورروز بروز سرچ آپریشن کیا جارہا ہے اور ہاسٹلو ں میں پولیس والے چیکنگ کرتے ہیں کہ کوئی واقعہ پیش نہ آجائے ،بابا جی آپ غلط فہمی میں مبتلا تھے اور سو گئے تھے ۔ مگر بابا جی !مجھے اچانک خیریت ہوئی کہ تمام دوست اور نہ جانے والے بھی ہسپتال میں تھے میں نے پوچھا کہ یہ لوگ کیوں آئے ہیں تو کسی نے کہا کہ کامران آپ کے لئے آئے ہیں کیونکہ آپ معصوم، بے گناہ اور اچھے اخلاق والے ہو ہم آپ کو اس دنیا سے جانے نہیں دینگے۔ بابا جی ! میرے دوست آئے تھے میرے دونوں آنکھیں بند تھیں مگر میں پھر بھی دیکھ رہا تھا ۔سب دوست دعا کرنے اور خون دینے میں مصروف تھے،بابا جی مجھے خون کی گیارہ ڈرپس دی گئیں مگروہ کسی کام نہ آئیں ۔ ڈاکٹر بھی رو رہے تھے کہ جوان ہے ،طالب علم ہے ،والدین نے ڈاکٹر بننے کیلئے بھیجا تھا،بہت خوبصورت ہے ،درازقد ہے ،بہت اچھا لگ رہا ہے اور کیسے والدین اور بہنوں سے جدا ہوجائے ۔مگر باباجی درد زیادہ تھا یا میں بے وفا تھا؟ یہ مجھے معلوم نہیں ۔ بابا جی!ڈاکٹروں نے چار کھنٹے تک کوششیںکیںمگر وہ کامیاب نہ ہوسکے اور میری آنکھیںہمیشہ کے لئے بند ہوگئیں۔بابا ہسپتال میں تمام دوست رو رہے تھے کہ کامران چل بسا مگر میں زندہ تھا ،بابا آپ کی خواہش تھی کہ میرا پیار بیٹا کامران خیبر میڈیکل کالج میں پڑھے اور ڈاکٹر بن جائے۔بابا جی وہ خواہش تو آپ کی پوری نہ ہوسکی مگر میری وہ خواہش پوری ہوگئی کیونکہ جب میری آنکھیں بند ہوئیںتو دوستوں نے ایمبولینس میں لٹا کر کے ایم سی فرانزک ڈیپارٹمنٹ کے جانب روانہ کیا میرا خیال تھا کہ دوست میراایڈمیشن کروارہے ہیں مگر وہ میرا پوسٹ مارٹم کر وا رہے تھے ،اس وقت میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب میرے ابو نے مجھے ڈاکٹر بننے کے لئے پشاور بھیجا ہے اور میرے لئے ایڈمیشن کا بندوبست کریں مگر ڈاکٹر انکاری تھا۔ بابا ! پوسٹ مارٹم کے بعد دوستوں نے آپ سے ملوانے کیلئے مجھے گاڑی میں بہت عزت واخترام کے ساتھ لٹا کر روانہ کیا ۔ جیسے ہی گاڑی کرم ایجنسی میں داخل ہوئی تو فضاء کچھ عجیب تھی مجھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ کرم ایجنسی ویران ہوگئی ہے یا کچھ اور معاملہ ہے خیر جب بگن داخل ہونے لگے تو آپ سمیت تمام رشتہ دار وں اور دوستوں کی پیاری خوشبو محسوس ہوئی کیونکہ تمام دوست اور رشتہ دار راستقبال کیلئے کھڑے تھے ۔بابا جی آپ لوگ کیوں کھڑے تھے خیر تو تھی؟؟ بابامیں نے آپ کو دیکھا آپ تو بہت پریشان کھڑے تھے میں نے آپ کو آوا ز بھی دی مگر آپ نے نہیں سنی۔ڈرائیور نے بہت تیزی سے گاڑی آپ کے سامنے سے نکال لے گیامیں نے ڈرائیور سے کہا کہ پلیز گاڑی روک لو بابا سے ملناہے مگر وہ نہیں مان رہا تھا ۔ بابا جب ہماری گاڑی رکی تو لوگوں کا ہجوم تھاجو رو رہے تھے۔بابا ! وہ کیوں رو رہے تھے ؟؟ اور بابا جی سب لوگ حیران و پریشان تھے ،مجھے بھی حیرت ہوئی اور سوچاکہ لوگ کیوں پریشان ہیں،بابا جی اس وقت امی کہاں تھیں؟امی سے ملنا تھا مگر وہ نظر نہیں آرہی تھیں ۔ بابا جی پھرتھوڑی دیر میں امی بھی آگئیں پھر میںنے امی سے پوچھا کہ امی لوگ کیوں پریشان کھڑے ہیں ؟امی نے جواب نہیں دیا اور صرف یہ کہا کہ بیٹا تم بہت بے وفا ہو۔ باباجی!جب مجھے گھر میں رکھا گیا اور میں نے سکون کا سانس لیا ،رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگ بھی چیخ چیخ کر رو رہے تھے اور بے رحم چوروں کو بددعائیں دے رہے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اف ایک موبائل دے دیتا ۔اف ایک موبائل دے دیتا۔ باباجی !میں نے دوبارہ کوششیں کی کہ آ پ سے اور امی سے ملوں۔ مگر آپ لوگ مجھ سے دور تھے یا میں آپ لوگوں سے دور تھا ؟ مگر میں دور نہیں تھا میں تو آپ کے دلوں میں تھا مگر آ پ لوگ مجھ سے دور تھے ۔ بابا! لوگ میرے لئے قبرستان میں قبر کھود نے کے لئے گئے ہوئے تھے مگر آپ لوگوں نے کچھ نہیںکہا کہ قبر کھود نے کی ضرورت نہیں کامران زندہ ہے۔کامران کے اوپر مٹی ڈالنا تو دور کی بات ہے ۔بابا جی !آ پ ،امی اور بہنوں نے بہت پیا ر دیا تھا اور میرا بہت خیال رکھا تھا مگرسب کیسے راضی ہوگئے کہ کامران کو دفنا دیا جائے ۔بابا جی امی اور بہنوں سے پوچھ لینا کہ قبر کھودنے اور قبر میں رکھنے کی اجازت کیوں دی تھی؟؟یا یہ آپ لوگوں کی مرضی نہیں تھی یا شریعت کے مطابق گائوں کے لوگوںنے بڑے بڑے پتھر رکھ کر مٹی کا انبار لگایا یا اس طرح ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی حقیقی دنیا میں چلا جاتا ہے تو اس کے اوپر بڑے بڑے پتھر رکھ دئیے جاتے ہیں ۔باباجی جب لوگوں نے مجھے اُٹھایا تو میں نے دیکھا کہ سب کے سب پریشان تھے اور امی چیخ چیخ کر رور ہی تھیں ۔پوچھ لینا کہ کیوں رو رہی تھیں؟ میں نے لوگوں سے کہا کہ امی کے لئے تو تھوڑ دیر کو مجھے رکھ دو مگر کوئی راضی نہیں تھا۔بہت سے لوگ میرے پیچھے آرہے تھے جنازہ میں لوگوں کا ہجوم تھا جو مجھے دیکھنے کو بے صبری کا مظاہرہ کررہے تھے ۔بابا پلیز سب لوگوں سے پوچھنا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ کیوں آئے تھے اور بار بار مجھے دیکھ رہے تھے اور عیدگاہ میں بھی بے صبری کا مظاہرہ کررہے تھے ؟ بابا ! جب لوگوں نے مجھے قبر میں اتارا اور قبرپر بڑے بڑے پتھر رکھ دئیے اور پھر مٹی کا انبارلگادیا تو مولانا صاحب آئے اور قرآنی کریم کی تلاوت کے بعد حدیت مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کامران شہید ہے اس نے بزدلی نہیںدکھائی ۔بابا اس پر میں فخر کرتا ہو ں اور بابا پھر میں پرسکون ہوگیا، یہاںمجھے کوئی تکلیف نہیں ہے ۔بابا میں کم عمر تھا اسی وجہ سے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا ۔افسوس تو صرف اس بات پر ہورہا ہے کہ آپ کی امید یں اور خواہش پوری نہ کرسکا ۔بابا میں امید رکھتا ہو کہ آپ لوگ مجھے معاف کرینگے ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.