پولیٹیکل انتظامیہ سیکورٹی دینے کے بجائے بھتہ لینے میں مصروف؟

0

پولیٹیکل انتظامیہ کی بے شمار چیک پوسٹیں ہونے کے باوجود کوہ سفید کے دامن اور پاک افغان سرحد کے قریب واقع حسین وادی اور سرسبز شہر پارہ چنار میں باربار دھماکوں کی گونج پولیٹیکل انتظامیہ کی بے بسی ہے۔ یا دہشت گردوں کی طاقتور ہونے کا ثبوت ۔؟ سوال اٹھتا ہے ۔۔۔کہ انتظامیہ کے تمام تر اقدامات اور انتظامات کیوں دھرے کے دھرے رہ گئے اور دہشت گردوں نے اس علاقے کو خون میں نہلا دیا ۔
اس میں اہم بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ چودہدری نثار نے ایک پریس ریلزجاری کیا ہے اُس کے مطابق کہ پولیٹیکل انتظامیہ کو 24نومبر اور 14دسمبر کو ایک الرٹ جاری کیا تھا کہ کسی وقت بھی اس طرح واقعہ ہوسکتا ہے مگر پھر بھی پولیٹیکل انتظامیہ نے وزیر داخلہ چوہدری نثار کی بات کو ایک کان سے سن کر اور دوسری کان سے نکال دیا۔اس کے علاوہ پولیٹیکل انتظامیہ نے واضح طور پر نہیں کہا ہے کہ آیا یہ خودکش دھماکہ تھا یا نصب شدہ بم دھماکہ تھا۔عینی شاہدین کے مطابق یہ ایک خودکش دھماکہ تھا مگر انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خودکش نہیں تھا بلکہ ایک کریٹ میں بم نصب کیا گیا تھا اُدھر تحریب طالبان پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہاں گیا ہے کہ خودکش دھماکہ تھا ۔تاحال پولیٹیکل انتظامیہ نے عوام اور میڈیا کو واضح طور پر نہیں کہا گیا ہے کہ کسطرح دھماکہ تھا۔چیک پوسٹیں بھی قائم ہیں اور لیوی اہلکار تلاشیاں بھی لے رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی حملہ �آوار ہدف تک پہنچ گئے ؟ آخر کیوں ؟؟ کیا پولیٹیکل اہلکار صرف اور صرف رشوت اور بھتہ لینے کے لئے موجود رہتے ہیں ۔ دوسری جانب حکمران ہیں کہ وہ ان واقعات کی صرف مذمت کرکے جان چھڑا لیتے ہیں اور مظلوم عوام چاہے اہل تشیع ہوں یا اہلسنت۔۔۔ اس طرح آوازیں کب تک سنیں گے ؟ اگر دیکھا جائے آپریشن ضرب غضب کے بعد دہشتگردوں کی کاروائیوں میں کمی آچکی ہے کیونکہ ضرب غضب کے دوران بہت سے دہشتگرد ہلاک اوربعض فرار ہوگئے ہیں ۔ مگر پھر بھی ایک جگہ کو ٹارگٹ کرنا پولیٹیکل انتظامیہ کی ناکامی ہوسکتی ہے کیونکہ پولیٹیکل انتظامیہ سیکیو رٹی کے نام پر چیک پوسٹیں تو قائم کر رہی ہے مگر اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہورہے ۔ پولیٹیکل انتظامیہ سیکورٹی دینے کے بجائے بھتہ لینے،رقم بڑھانے ،پولیٹیکل انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو گفٹ دینے ،جس میں ڈرائی فروٹ بھی شامل ہیں جو ہر ہفتہ دئیے جاتے ہیں۔اگر پولیٹیکل ایجنٹ ،اے پی ایز ،پولیٹیکل تحصیلداران اور پولیٹیکل محررز رقم بڑھانے پر مزید توجہ نہ دے تو ممکن ہے کہ اس طرح واقعات مستقبل میں رونما نہ ہوجائے ۔اگر کوئی بھی صحافی پولیٹیکل انتظامیہ کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں تو پھر اُس کو گرفتار کرتے ہیں اور قتل کی دھمکی بھی دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ گھر پر چھاپے مارتے ہیں ۔جب بھی اس طرح واقع رونما ہوتے ہیں تو پولیٹیکل انتظامیہ کے اعلیٰ حکام میڈیا کی فون آٹینڈ نہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا والے ایسا سوال پوچھتے ہیں جس سے پولیٹیکل انتظامیہ کی بدنامی ہوتی ہے ۔
پارہ چنار شہر میں داخل ہونے کے لئے پولیٹیکل انتظامیہ کی چھپری سے لیکر پارہ چنار شہر تک 10 ،وسطی کرم سے لیکر پارہ چنار شہر تک 30 سے زائد اورپاک افغان باڈر سے لیکر پارہ چنار شہر تک 15 چیک پوسٹیں قائم ہیں ۔ جو کل 55 چیک پوسٹوں سے زائد بنتے ہیں اور اسی چیک پوسٹوں میں کالے کپڑوں میں ملبوس پولیٹیکل انتظامیہ کے لیوی اہلکار اور سفید کپڑوں میں ملبوس پولیٹیکل محررز نظر آئیں گے ۔اس کے باوجود پھولوں کی طرح پارہ چنار شہر میں دھماکے ہونا سوالیہ نشان ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے دہشتگرد اپنے عزائم میں کامیاب ہوتے ہیں ۔کیا یہ پہلا دھماکہ ہے کہ پارہ چنار شہر میں ہورہا ہے ؟ نہیں جی !اس سے پہلے بھی پارہ چنار میں مختلف ادوار میں آٹھ دھماکے ہوئے ہیں اور یہ نوواں دھماکہ تھا جو سبزی منڈی میں ہوا ہے اور اس دھماکے میں 25افراد جاں بحق اور 91 افراد زخمی ہوئے ہیں۔پہلا دھماکہ مئی 2007 ء میں عید گاہ مارکیٹ میں ہوا تھا جس میں تقریباً سات افراد جاں بحق ہوئے تھے،دوسرا دھماکہ فروری 2008میں ڈاکٹر ریاض کے ایک سیاسی جلسہ میں ہوا تھا جس میں پچاس سے زائد بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔تیسرا دھماکہ 2011کشمیر چوک میں ہوا تھا جس میں آٹھ افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔چوتھا سولہ فروری 2012پنجابی بازار میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں ستر سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے ۔پانچواں دھماکہ 2012آخر میں الفاروق ہوٹل کے باہر ہوا تھا جس میں پچیس افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔چھٹا دھماکہ 13دسمبر 2015ء میں لنڈا بازار کباڑ مارکیٹ میں ہواتھا،ساتواں 18مارچ 2016عثمانیہ مارکیٹ پارہ چنار میں ہواتھا جس میں جانی نقصان نہیں ہوا تھا مگر اس میں ملوث سرکاری ٹیچر سید مہدی شاہ گرفتار ہو تھا ۔آٹھواں دھماکہ عیدگاہ مارکیٹ میں ہوا جس میں 23افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔دہشتگردی کے بعد گزشتہ کئی سالوں سے کرم ایجنسی میں پولیٹیکل انتظامیہ کی مکمل رٹ بحال ہوچکی ہے اور جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہے اور ہر چیک پوسٹ پر چیکنگ بھی ہوتے ہیں لیکن وہ صرف اوورلوڈ گاڑیوں سے بھتہ لینے کے لئے اور ڈرائیورز پر دباؤڈالنے کے لئے ہوتے ہیں ۔بار بار ایک جگہ کو ٹارگٹ کرنا پولیٹیکل انتظامیہ کی بے بسی ظاہر کرتی ہے ۔کرم ایجنسی میں دو فریق رہتے ہیں اس وجہ سے ہی علاقے کو حساس قرار دیا گیا ہے مگر اب دو نو ں فریق نے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کر دئیے ہیں ۔ اور دونوں فریق ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں اور رشتے بھی جوڑ دئیے ہیں ۔دوہزار سات میں دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہے حد سے زیادہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچایا ہیں ۔آمن کی فضاء قائم کے بعد اب پارہ چنار میں دھماکوں کی آوازیں سننا شروع ہوگئی ہے۔اگرپولیٹیکل انتظامیہ کو ہی اس طرح دھماکوں کی ذمہ دار ٹھہرا یا جائے تو غلطی نہیں ہوگی کیونکہ جب ایک علاقے میں کوئی معمولی یا بڑا واقعہ ہوتا ہے تو پولیٹیکل انتظامیہ فوراً بلکہ فوراً سے پہلے حدودی ذمہ داری کے تحت گرفتاری کرتے ہیں کیونکہ گرفتاری میں انتظامیہ کو مالی طور پر بہت فائدہ ہوتا ہے ۔گرفتاری کے وقت یہ خیال نہیں رکھتے کہ یہ اسکول کا بچہ ہے یا بوڑھاشخص ہے ۔ بس گرفتارہی کرتے ہیں ۔جب بھی کوئی سفارش آتا ہے یا جیب میں پیسے ڈال دیا جائے تو موقع پر ہی رہا کرتے ہیں اور بعض کو سلاحوں کے پیچھے دھکیل دیتے ہیں جس کو کئی روز بعد ضمانت کے ساتھ ساتھ پیسے لیکر رہا کرتے ہیں ۔اب پارہ چنار میں جو دھماکے ہورہے ہیں تو چاہیے کہ حدودی ذمہ داری کے تحت پولیٹیکل ایجنٹ ،اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ،پولیٹیکل تحصیلدار یا پولیٹیکل محررز کو ہی گرفتار کیا جائے ۔کیونکہ وہ ہی علاقے کا بادشاہ اورذمہ دار ہوتا ہے ۔ اس حوالے سے ممبر قومی اسمبلی ساجد حسین طوری نے بھی کہا ہے کہ اس دھماکے کے ذمہ دار پولیٹیکل ایجنٹ کرم ہے کیونکہ جگہ جگہ چیک پوسٹیں بھی قائم ہے جامہ تلاشی بھی ہوتی ہے پھربھی اس طرح حملے ہونا سمجھ سے بالاتر ہے ۔اُس کا یہ بھی کہنا تھا کہ سینکڑوں کی تعداد میں لیوی اہلکار اور پولیٹیکل محررز صرف اور صرف بھتہ لینے کے لیے کھڑے ہیں اور جو حرام آمدنی ہوتی ہے اس میں پولیٹیکل انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا باقاعدہ طور پر حصہ ہوتا ہے ۔اُس نے جاں بحق اور زخمیوں
کے لئے مالی امداد میں اضافہ کا مطالبہ کیا ہے ۔ساجد کے مطابق جو پیکچ دیا جارہا ہے وہ ناکافی ہے ۔ایم این اے نے گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیٹیکل انتظامیہ کو پارہ چنار دھماکے کے ذمہ دار ٹھہرائے کیونکہ انتظامیہ کے ہاتھوں میں سب کچھ ہے ۔
اطلاعات کے مطابق بم ایک فروٹ کریٹ میں رکھا گیاتھا جو سبزی منڈی میں اس وقت ایک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جب لوگ ناشتے کے بعد خریداری اور حلال روزی کمانے کے عرض سے سبزی منڈی میں موجود تھے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کریٹ کہا ں سے اور کیسے لایا گیا اس بات کا جواب پولیٹیکل انتظامیہ کے پاس ہی ہونا چاہیے تاکہ عوام کو بتایا جائے کہ اس میں کس کا ہاتھ ہوسکتا ہے ۔اگر یہ کریٹ ٹل سے لایا گیا ہو تو ضروری بات ہے کہ گاڑی نے چھپری ،کیمن ،بگن ،علی زئی ،آڑاولی،ششو،پیر قیوم ،گلاب گل ،بالشخیل،مالی کلہ ،غلام جان پل اور دیگر چیک پوسٹوں کو کراس کیا ہوگا اور ہر چیک پوسٹ پر اسی ہی گاڑی سے پانچ سو روپے لیا ہوگا ۔اگر یہ کریٹ سے ٹل سے لوئر کرم کے راستہ سے آیا ہوگا تو بہتر ہے کہ اے پی اے اور تحصیلدارلوئر کرم سے پوچھ لیا جائے،اگر یہی کریٹ سنٹر ل سے آیا ہوگا تو سنٹرل کرم انتظامیہ سے پوچھ لینا چاہیے اور خاص طور پر پارہ چنار شہر داخل ہونے والے چیک پوسٹوں پر پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکار کھڑے ہیں اُس سے اور سٹی محرر سے جواب طلب کیا جائے تاکہ آئندہ کے لئے ایسے دھماکوں کی آواز عوام نہ سنیں ۔اور یہ کریٹ سے افغانستان سے لایا
ہوگا تو وہاں پر بھی پولیٹیکل انتظامیہ کی چیک پوسٹیں قائم ہے تو کس طرح بغیر چیکنگ لایا گیا یا دال میں کچھ کالا ہے۔کریٹ والے افراد نے ہی تمام چیک پوسٹوں کو کراس کیا ہوگا یا اسی کریٹ پارہ چنار کے شہرمیں بارود سے بھرا ہوگا مگر پھر بھی ذمہ داری پولیٹیکل انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے ۔ یا صحیح معنوں میں ہی دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کی جائے خواہ وہ اہل سنت کے ہویا اہل تشیع کے ہو یا باہر سے غیر مسلم ہوں۔
دھماکے کے بعدمذ مت کرنے والوں کو چاہیے کہ مذمت کرنے سے گریز کریں اور صحیح معنوں میں ڈیوٹی سرانجام دیں ۔ ہر ایک سیاسی پارٹی میڈیا پر ہی کہتے ہیں کہ آمن کی فضاء قائم ہے اور دہشتگرد ختم ہوچکے ہیں ۔اصل میں نقصان غریب عوام کا ہوتا ہے اسی وجہ سے ہی کسی کو اتنا درد نہیں ہوتا ہے جتنا غریب عوام برداشت کرتا ہے۔دھماکے کے ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان محمد خراسانی گروپ نے قبولی کی ہے اور کہا ہے کہ یہ آصف چھوتو اور اسحا ق رد عمل تھا اور اس طرح دھماکے کئے جائیں گے ۔چند روز پہلے افغانستان میں قندھار اورکابل میں بھی دھماکے ہوئے تھے چونکہ حملوں کا الزام پاکستان پر لگا یا تھا ۔پاکستان نے تما م الزامات کی تردید کی ۔اب پارہ چنار دھماکے کو ہر انگل سے دیکھنا چاہیے کہ حقیقت میں اس دھماکے کے منصوبہ بندی کہاں ہوئی ہے اور اس میں کون ملوث ہیں ؟
چیف آف ارمی سٹاف قمر جاوید باجوہ نے بھی پارہ چنار کا دورہ کیا ہے اور انہوں نے ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور زخمیوں کے عیادت کی ۔اور اس با ت پر زور دیا ہے کہ زخمیوں کو ہر قسم سہولیات میسر ہو۔دورے کے موقع پر پورے ایجنسی کو سیکورٹی فورسز نے اپنے قبضے میں لے رکھ تھا اور پارہ چنار شہر میں کرفیوں نافذ کردی گئی تھی تمام لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکررہ گئے تھے ۔لوکل میڈیا پرسنز کو بھی اجازت نہیں تھی ۔
اگر پولیٹیکل انتظامیہ صحیح معنوں میں چیک پوسٹوں پرچیکنگ کا سلسلہ سخت کریں تو ممکن ہے کہ اسیے دھماکے مستبقل نہ ہوجائے مگر ممکن نہیں ہے کہ پولیٹیکل انتظامیہ بھتہ لینے سے گریز کریں کیونکہ لیوی اہلکاروں سے پولیٹیکل محررز،پولیٹیکل محررز سے پولیٹیکل تحصیلدار اور پولیٹیکل تحصیلدار سے اعلیٰ حکام پیسے مانگتے ہیں ۔اب پاک فوج کو چاہیے کہ وہ خود چیک پوسٹوں کی نگرانی کریں۔

نوٹ:باجوڑ ٹائمز اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.