تذکرہ علمائے باجوڑ دسویں قسط: تحریر بلال یاسر

0

تقی الاتقیاء شیخ القرآن حضرت مولانا محمد جمیل صاحب نوراللہ مرقدہ
آپ کی پیدائش باجوڑ ایجنسی کے تحصیل واڑہ ماموند اور افغانستان کے بیچ حد بندی کرنے والے ڈریونڈ لائن کے اس پار برہ چینگئی میں ہوئی ، آپ کے والد حضرت ولی ایک نیک پارسا دیندار آدمی تھے جن کی ذاتی شہرت ان کے نام کے بجائے ان کے عُرف صاحب الحق سے ہوئی ، آپ کا تعلق ترکانی قوم کے ذیلی شاخ مُلان سے تھا، آپ کے خاندان میں پُشت در پُشت علماء چلے آتے رہے تھے اس لیے آپ کو بھی علم دین کے حصول سے دلی لگاؤ تھا۔
دین علم کے حصول کا آغازآپ نے گھر سے کیا ، ناظرہ اور ابتدائی رسائل گھر پر پڑھنے کے بعد صرف و نحو کی کتابیں پڑھنے کے لیے دیر کے علاقے کوٹو کا رُخ کیا ، طویل عرصے تک وہاں پڑھتے رہے ، اس دوران علوم عقلیہ کا چرچا بہت زیادہ ہونے لگا آپ کی دل میں بھی اُمنگ پیدا ہوئی اور باجوڑ میں علوم عقلیہ میں وقت کے امام کی حیثیت رکھنے والے عالم جامع المعقولات حضرت مولانا قاضی عبدالغفور عُرف جار قاضی صاحب کے پاس تشریف لے گئے اور کئی سال تک منطق ، معانی اور فلسفہ کی کتب پڑھ کر علوم میں کامل رسوخ حاصل کیا، کچھ عرصہ آپ نے حضرت مولانا قاضی مسیح اﷲ رحمہ اللہ (نویکلے باجوڑ) کے ہاں بھی گذارا ، اور استفادہ کیا ۔
دورہ حدیث کے لیے آپ نے دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی کا رُخ کیا، جہاں شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ کے زیر انتظام جاری دورہ حدیث میں آپ نے داخلہ لے لیا ، اور جبال العلم محدثین شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمٰن مینوی رحمہ اللہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمنان مینوی رحمہ اللہ سے صحاح ستہ پڑھ کر دستا ر فضیلت حاصل کی۔
آپ نے فراغت سے قبل ہی امام انقلاب قاطع الشرک والبدعۃ شیخ القرآن مولانا محمد طاہری پنج پیری رحمہ اﷲ سے تعلق استوار کرلیا تھا، فراغت سے قبل ہی دس مرتبہ رمضان شریف میں دورہ تفسیر پڑھنے کے لیے دارالقرآن پنج پیر جا کر ان سے قرآن کے اسرار و رُموز سیکھ لیے تھے ، ان کا اثر قبول کرلیا تھا، اور شرک و بدعت کے ظلمت کو مٹانے او رتوحیدو سنت کا چراغ روشن کرنے کی غرض سے ان کے قافلے میں شامل ہوگئے تھے، لہذا فراغت کے بعد اسی مشن توحیدوسنت کے فروغ او رشرک و بدعت کے تردید کو اپنا وطیرہ بنالیا۔اپنے علاقے کی جامع مسجدمیں درس قرآن کریم سے درس و تدریس کا آغاز کیا، آہستہ حلقہ درس وسیع ہوتا چلا گیا، پھر رمضا ن المبارک میں باقاعدہ مستقل طور پر دورہ تفسیر پڑھانا شروع کردیا، جو طویل عرصے تک جاری رہا ، قرآن کے ذریعے سے لوگوں کی اصلاح کا عمل جاری رکھا ، آپ کی درس اتنی مقبولیت اختیار کرگئی کہ پھر آپ روزانہ کئی مساجد میں درس قرآن دیا کرتے تھے۔
ابتداء میں جب آپ نے مسئلہ توحید بیان کرنا شروع کیا تو گھر والے بھی مخالفت پر اُتر آئے ، والد نے مکمل بائیکاٹ کردیا، یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو گھر چھوڑنے کا حکم دیا ، آپ نے بلا چوں و چرا گھر کو خیر آباد کہہ دیا ، پھر جب آپ کے والد پر صورت حال واضح ہوئی مسئلہ سمجھ آگیا لیکن اپنے قوم کے افراد کی مخالفت اسی طرح برقرار رہی ، اس دوران زگئ ملاخیل نے آپ کے گھر پر لشکرکشی بھی کی ، مسئلہ توحید کے خاطر آپ کے گھر کے درو دیوار بھی جاہل مولویوں اور عوام کے زیر عتاب آئے ، آپ نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا، اﷲ کا فضل وکرم ہوا لوگوں کو مسئلہ توحید کی سمجھ آنے لگی ، جس کے بعد آپ نے سکھ کا سانس لیا۔
آپ کے مشہور اساتذہ میں چند مشہور علمائے کرام کے نام یہ ہیں، شیخ القرآن علامہ محمد طاہر پنج پیری نوراللہ مرقدہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمٰن مینوی ؒ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمنان مینوی ؒ ، جامع المعقول حضرت مولانا قاضی عبدالغفور رحمہ اللہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی مسیح اللہ صاحب ؒ جیسے جید علمائے کرام شامل ہیں۔
آپ نے طویل عرصے تک درس و تدریس کے شعبے کو اپنائے رکھا، اس دوران ہزاروں علماء و طلباء اور عوام الناس نے آپ سے استفادہ کیا ،ان میں کچھ ایسے رجال کار بھی آپ کے حلقہ درس میں شامل ہوئے جو آگے چل کر اس مشن کو فروغ دیتے گئے ، قابل ذکر نام یہ ہے، حضرت مولانا قاسم جمیلی صاحب (استاد حدیث دارالفرقان حیات آباد پشاور) ، حضرت مولانا ذاکراﷲ صاحب (مدیر جامعہ مدینۃ العلوم نویکلے باجوڑ) ، مولانا رحمت جان ، مولانا خاپورجان ، مولانا شیرعالم ، مفتی عبدالرحیم صاحب ، مولانا شیرذادہ، مولانا زیراعلی خان ، مولانا عبدالحلیم وغیرہ ۔
1978ء کو آپ نے زندگی میں ایک بڑے فریضے کے لیے حجاز مقدس کی طرف رخت سفر باندھاحج کے آدائیگی کے سلسلے میں ، آپ کا یہ سفر بذریعہ بحری جہاز تھا ، کئی دنوں کے بامشقت سفر کے بعد آپ حرمین شریفین پہنچے اور حج بیت اﷲ کی سعادت حاصل کی ، اسی طرح آپ نے روس کے خلاف جہاد میں بھی بذات خود شرکت کی ، اور کئی معرکے لڑے ، ایک معرکے دوران آپ جس کمرے میں محصور تھے ، پوری چھت گرنے سے آپ اندر پھنس گئے تھے ، لیکن اللہ نے بغیر کسی خراش کے آپ کو وہاں سے صحیح سلامت نکالا اور یوں آپ نے اپنی زندگی ہی میں دین اسلام کے تمام بڑے ارکان باالفعل ادا کرلیے تھے۔
آپ کو اللہ تعالیٰ نے تین نارینہ اولاد سے نوازا تھا ، سب سے بڑے فرزند مولانا محمد قاسم جمیلی صاحب ہیں جو کہ جید عالم دین اور خطیب ہیں، باجوڑ میں آپریشن سے قبل مدرسہ فرقانیہ گڑیگال میں فنون کے جید ترین اساتذہ میں شمار ہوتے تھے، جب کہ آج کل جامعہ دارالفرقان حیات پشاور میں استاد حدیث ہونے کے ساتھ ساتھ جامع مسجد بیت المکرم فیز 4 حیات آباد پشاور میں پیش امام و خطیب بھی ہیں، جبکہ دوسرے فرزند ڈاکٹر سراج الدین ہیں جو کہ طب کے شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ سب سے چھوٹے فرزند حسن فی الحال زیر تعلیم ہے۔
اللہ والوں کی دنیا سے رخصتی کے عجیب قصے تو زبان زد عام ہیں، لیکن اللہ کے اس ولی کی دنیا سے انتقال کرجانے کی کہانی بھی خاصی عجیب۔ گذشتہ سال آپ کے فرزند ارجمند مولانا محمد قاسم جمیلی صاحب حج بیت اللہ سے واپس آرہے تھے ، تو ان کا مشفق والد شیخ القرآن مولانا محمد جمیل صاحب اپنے اہل و عیال کے ہمراہ اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے پشاور تشریف لائے تاکہ ان سے ملے اور دعائیں سمیٹ سکیں۔بروز جمعرات 3 اکتوبر 2016ء آپ دوپہر کے وقت پشاور پہنچے ، آپ نے بیٹے کے گھر میں قیام کی غرض سے حیات آباد تشریف لے گئے ،آپ نے استراحت سے قبل نوافل پڑھنے کے لیے مصلے کا رُخ کیا پہلی رکعت کے پہلے سجدے سے فراغ ہوکر جب آپ نے دوسرے سجدے کے لیے سر زمین بوس کردیا ، تب اُوپر سے بُلاوا آچکا تھا، آپ کی روح اسی حالت میں اپنے رب کے حضور پرواز کرگئی ، سکرات الموت کا اندازہ تک نہیں ہوا، بلکہ ایسی حالت میں آپ کا انتقال ہو اجس کی آرزو ہر مسلمان کی تمنا ہے ، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
جنازہ سے قبل عوام ، علماء ، طلباء کا جم غفیر جمع ہوگیا تھا ، ان کے تسلی کے لیے علاقے کے جید عالم دین جامع المنقول والمعقول شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل حق عُرف ڈبر صاحب حق صاحب ، آپ کے شاگرد رشید مفتی عبدالرحیم صاحب ، مہمان عالم دین حضرت مولانا سید عبدالبصیر شاہ صاحب (مدیر دارالفرقان حیات آباد پشاور)، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد صادق صاحب (سابقہ ممبر قومی اسمبلی باجوڑ) وغیرہ نے اپنے مختصر بیانات میں آپ کے خدمات کو سراہا۔ نماز جنازہ علاقائی معمر عالم دین حضرت مولانا محمدحکیم صاحب نے پڑھایا۔بعد ازاں آبائی قبرستان میں آپ کو سپرد خاک کردیا گیا۔
داغ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
تجاویز کے لیے ۔bilalyasirkhan1@gmail.com

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.