تہذیب مغرب کی تباہ کاریاں،مولانا نورالحق

0

تحریر ( مفتی احسان اللہ،مولانا نورالحق عفی اللہ عنہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ صنفان من اھل النار لم ارھما قوم معھم سیاط کأذناب البقر یضربون بھاالناس ونساء کاسیات عاریات ممیلات مائلات رؤسھن کأسنمۃ البخت المائلۃ لایدخلن الجنۃ ولایجدن ریحھا وان ریحھا لیوجد من مسیرۃ کذا وکذا۔ ( مسلم رقم الحدیث:7373)
برہنگی فی الحقیقت ایک معصیت کی شان ہے، ستر کا کھل جانامعصیت کی شان ہے، اسلام میں مرد کا ستر رکھا گیا ہے ،ناف سے لیکر گھٹنوں تک ،اس حصہ بدن کو چھپانا واجب ہے، نماز کے اندر اس حصہ میں سے کوئی حصۂ بدن کھل گیا تو نماز نہیں ہوگی، چاہے کوئی دیکھنے والا ہو یا نہ ہو،نماز نہ ہوگی۔ اس لئے کہ یہ حصہ بدن واجب الستر ہے ، اور عورت کا ستر گردن سے لیکر ٹخنوں تک ہے ، اس حصۂ بدن سے اگر کوئی حصہ کھل جائے تو اس کی نمازنہ ہوگی۔آج کل توہماری بہنیں جولباس پہنتی ہیں بازو ہیں تووہ الگ کھلے ہوئے ، گلے الگ کھلے ہوئے، سینہ کاحصہ الگ کھلا ہوا،توایسے لباس میں نماز مطلقاً نہیں ہوتی، بشرطیکہ ہماری بہنیں نماز پڑھیں۔اور جو نماز کے قریب ہی نہ جائیں تو۔۔۔۔۔ ؟ ان کی آرائش، زیبائش ممکن ہے ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی تقریب یا قرب وطاعت اس میں نہیں ہوتی،جبکہ یہ حصہ بدن کھل جائے۔
حدیث میں ارشاد ہے ’’کہ بہت سی عورتیں زمانے میں پیدا ہوں گی، جو کاسیات ہوں گی عاریات ہوں گی، یعنی لباس پہنے ہوئے ہوں گی اور پھر بھی ننگی ہوں گی، لباس ہوگا بدن پر اور پھربھی برہنہ ہوگی۔مائلات،ممیلات خود بھی مائل ہوں گی اجنبی مردوں پر اوران کو بھی مائل کریں گی اپنے اوپر۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ عورتیں جنت میں داخل نہیں کی جائی گی، (مسلم شریف ) ۔اس لئے کہ انہوں نے فتنے کادروازہ کھول دیا، دنیا کو جہنم میں دھکیلنے کا انہوں نے ارادہ کرلیاتو دو لفظ فرمائے گئے ، کاسیات ،عاریات۔لباس پہن کر پھربھی ننگی ہوگی۔اس کے تین صورتیں ہیں، کہ لباس پہنے ہوئے بھی ہو پھر بھی ننگی ہو،
برھنگی کی تین صورتیں
1: لباس ناقص اور ناتمام ہو۔یعنی لباس پہنا ہے مگر بازو وغیرہ کھلے ہوئے ہے۔کاسیات بھی کہاجائے گا کہ لباس پہنے ہوئے ہیں مگر پھر بھی ننگی ہے اس لئے کہ ستر کھل گیاہے، تو عاریات بھی کہاجائے گا۔
2: لباس پہنے ہوئے ہووہ گردن سے لیکرٹخنوں تک پورا ہو مگر وہ اتناباریک ہو کہ لباس میں سارا بدن نظر آرہاہو، کاسیات بھی ہے عاریات بھی ہے۔
3: لباس بدن پر ہے اور پوری بدن پر ہے اور وہ باریک بھی نہیں ہے موٹالباس ہے مگر اتنا چست ہے بدن کے اوپر کہ بدن کی حیثیت پوری نمایاں ہے۔
جیسے کہ آج کل بعض مہمل پائجامے دیکھے گئے ہیں جنہیں لوگ استعمال کرتے ہیں۔ خدا جانے اس طریقہ میں کیا حسن وجمال ہے۔بس ایک فیشن ہے چلنا چاہیے، سوچنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، کہ اصلیت اور ذات کے لحاظ سے یہ کام بُرا ہے یا بھلاہے۔ دین کے بارے میں کوئی تقلید کرے تو طعن کرتے ہیں ، کہ یہ تقلید کررہاہے بے شعوری سے عمل کررہاہے، اور دنیاکے بارے میں دن رات اندھا تقلیدکرتے ہیں،آنکھ بند کرکے اس پر عمل کرتے ہیں، اور یہ نہیں دیکھتے کہ اس میں فائدہ ہے یا نقصان ، یہ تینوں صورتیں کاسیات ،عاریات میں داخل ہیں۔تو عورتوں کا لباس ایسا ہونا چاہئے کہ بدن نہ جھلکے، اگر باریک ہو کم از کم نیچے کوئی ایسا کپڑا ہو کہ جس سے بدن چھپ جائے، یا اوپر ہی کوئی باریک کپڑا پہن لئے ،اور اتنا چست بھی نہیں ہونا چاہئے کہ بدن کی پوری حیثیت نمایاں ہو بلکہ ایسا کچھ فراخ ضرور ہو کہ بدن کی حیثیت بھی نمایاں نہ ہواور بدن ڈھلکے بھی نہ۔ آجکل ہمارے بعض نوجوان بھائی بھی مغرب کے اندھے تقلید میں پھنس کر ان جیسا چست لباس زیب تن کرتے ہیں جس میں ان کے بدن کا ہر حصہ نمایاں ہوتاہے اور وہ ایسا نظر آتا ہے، جیسا کہ اس نے کوئی کپڑا پہنا ہی نہ ہو۔ حدیث کے روشنی میں یہ لوگ بھی جنت کے خوشبو اور جنت میں داخل ہونے سے محروم ہونگے۔ العیاذ باللہ
ستراورحجاب میں فرق
وجہ اس کی یہ ہے کہ شریعت نے عریانی سے روکا ہے ایک حصہ بدن کھولنے کی اجازت دی ہے، اور ایک حصہ بدن کی کسی حالت میں بھی کھولنے کی اجازت نہیں ہے، جس حصہ بدن کو کھولنے کی اجازت دی ہے اور اس کے کھلے ہونے کی حالت میں نماز ہوجاتی ہے وہ چہرہ ، ہاتھ اور پاؤں ہے ،نماز میں ہاتھ پیر ڈھانپنا عورت پر ضروری نہیں ہے یہ حصہ کھلا رہے تو نماز ہوجائی گی لیکن گردن سے لیکر ٹخنوں تک کاکوئی حصہ نہیں کھلنا چاہئے یہ ستر کا حصہ ہے۔ جیسے مرد کے لئے ناف سے لیکر گھٹنے تک کا حصہ ستر ہے جو نہیں کھلنا چاہئے۔ اب آگے عورت کے لئے جو پردہ ہے، وہ حجاب کہلاتاہے وہ ستر میں داخل نہیں ہے،کوئی اجنبی آگیا تونقاب اوڑلیا ورنہ ضروری نہیں ہے، یا اجنبی دور اور بعید ہے کہ پہچان ممکن نہ ہو تو بھی ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ حجاب کا تعلق دوسروں سے ہے اور ستر کا تعلق اپنی ذات سے ہے۔ حجاب تب ہوگاجب کوئی اجنبی دیکھنے والا ہوگا۔ ستر ہر صورت میں ہوگا کوئی دیکھنے والا ہو یا نہ ہو، ہرصورت میں حصۂ ستر چھپانا ضروری ہوگا، نماز میں اگر یہ حصہ کھل گیا تو نماز نہیں ہوگی، بہرحال عریانی اور ننگے پن کو شریعت نے حرام قرار دیاہے ۔
ہمارے لیے زندگی کے ہر شعبہ میں اور ہر وقت نمونۂ عمل اور قابل تقلید ذات رسالت مأب صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور اہل بیت رضوان اللہ علیھم اجمعین ہیں ،
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے زمانہ میں جب لوگ ہمارے سامنے سے گزرتے تھے تو ہم چہرے پرچادر ڈال لیتے تھے،جب لوگ گزجاتے تو پھر منہ کھول دیتے۔ ایک صحابیہ کا بیٹا شہید ہوا وہ نقاب پہن کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ان کودیکھ کرکہا بیٹے کی شہادت کا حال پوچھنے آئی ہواور نقاب پوش ہوکر ؟ بولیں میں نے اپنے بیٹے کو کھو دیا ہے شرم وحیاء کو تو نہیں کھویا۔ (ابوداؤد)
ہمارے زمانے میں پردہ ایک رسمی چیز ہے مثلاً ایک عورت کسی نامحرم سے پردہ کرتی ہے تو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ لازمی طور پر اس نامحرم سے ہمیشہ پردہ کرے گی، لیکن ہمارے معاشرے کا حال یہ ہے کہ دو چار بارکسی نامحرم کے سامنے آنے کا اتفاق ہوگیا تو پھراس عورت کے لیے اس نامحرم سے پردہ کے تمام قیود ٹوٹ جائیں گے، تو یہ ایک رسمی پردہ ہے جو قابل مذمت ہے، لیکن صحابیات رضی اللہ عنھن رسمی پردے کی پابند نہ تھیں، ان کاپردہ بالکل شرعی پردہ تھا ،اگر شریعت اجازت دیتی تھی تووہ کسی کے سامنے آتی تھیں اور جب شرعی موانع پیدا ہوجاتی تھیں تواس سے پردہ کرنے لگتی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا مذہب ہے کہ غلاموں سے پردہ ضروری نہیں، اس لئے وہ حضرت ابوعبداللہ سالم رضی اللہ عنہ کے سامنے جو نہایت متدین غلام تھے ، آتی تھیں اور ان سے بے تکلف باتیں کرتی تھیں، ایک دن وہ آئے اور خوشخبری سنادی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آزاد کردیا ،چونکہ اب وہ غلام باقی نہیں رہے تھے اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے پردہ گرادیا اور عمربھر ان کے سامنے نہ ہوئی۔(نسائی)
اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری بہنوں کو شرعی پردہ اور شرعی لباس پہنے کے توفیق عطاء فرمائیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.