زبان کی حفاظت کیجیے!تحریر احتشام الحسن

0

پہلے تولو،پھر بولو۔زبان کی کاٹ تلوار کی کاٹ سے زیادہ سخت ہے۔تلوار کا زخم ختم ہوجاتا ہے ،مگر زبان کی چوٹ کبھی زائل نہیں ہوتی۔زبان سے نکلنے سے پہلے الفاظ انسان کے تابع ہوتے ہیں،مگر جب الفاظ زبان سے نکل جاتے ہیں تو انسان اپنے ہی الفاظ کا تابع ہوجاتا ہے۔اس جیسے بہت سے جملے اور تعبیرات صبح تا شام ہم سنتے،پڑھتے اور بولتے رہتے ہیں۔اس کے باوجود آج ہمارے گھروں سے بازاروں تک،تھانے سے کچہری تک اور بڑی بڑی محفلوں سے چھوٹی چھوٹی مجلسوں تک اس زبان نے لوگوں کا سکون وچین چھینا ہوا ہے۔اس زبان کی وجہ سے دن رات لڑائیاں اور جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔اس زبان سے نکلے ایک لفظ اور ایک جملے سے ہمارے پوری پوری زندگیاں الجھنوں کا شکار ہوجاتا ہے۔بندہ جیتا جی زندہ لاش بن جاتا ہے۔
اسی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے فرمایا تھا:’’جب صبح ہوتی ہے تو بدن کے تمام اعضازبان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں کہ :خدارا!ہمارے معاملے میں اللہ سے ڈرنا،اس لیے کہ ہم تیرے سے وابستہ ہیں،اگر تو سیدھی رہی تو ہم سیدھے رہیں گے اوراگر تو ٹیڑھی ہوئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوں۔(ترمذی)
انسانی فطرت ہے کہ جو چیز اس کے نزدیک قیمتی ہوتی ہے،اسے وہ بڑی حفاظت سے رکھتا ہے۔اس کو سنبہال کر استعمال کرتا ہے۔اسے سوچ سمجھ کر خرچ کرتا ہے،تاکہ کہیں ختم نہ ہوجائے۔اللہ تعالی نے زبان کی تخلیق میں انسانی فطرت کو ملحوظ خاطر رکھا۔اسے بتیس دانتوں کے حصار اور دو ہونٹوں کے اندر حفاظت سے رکھ دیا اور یہ درس دیا کہ:اے محبوب!میرے بندوں کو فرما دیجیے کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہتر ہو۔(بنی اسرائیل:۵۳)اسی طرح خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بندہ جب تک اپنی زبان کی حفاظت نہ کرلے ایمان کی حقیقت کو حاصل نہیں کر سکتا۔‘‘(طبرانی)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:’’انسان کی اکثر غلطیاں اس کی زبان سے ہوتی ہیں۔‘‘(طبرانی)ایک دفعہ فرمایا:’’لوگوں کو ناک کے بل دوزخ میں گرانے والی ان کی زبان ہی کی بری باتیں ہوں گی۔‘‘(طبرانی)ایک صحابی نے دریافت کیا:اے اللہ کے رسول !کس عمل کی وجہ سے لوگ زیادہ جنت میں جائیں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’منہ اور شرم گاہ۔‘](ترمذی)حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:’’ایک شخص جنت کے اتنے قریب ہوجاتا کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتاہے۔پھر وہ کوئی ایسا بول بول دیتا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ جنت سے اتنا دور ہوجاتا ہے کہ جتنا مدینہ سے(یمن کا شہر)صنعاء دور ہے۔‘‘(مسند احمد)
زبان کے گناہ بہت زیادہ ہیں۔ہر ایک پرمستقل وعید بیان فرمائی گئی ہے۔غیبت،چغلی،لعن طعن،بہتان،غصہ ،حسد ،فحش گوئی،گالم گلوچ اور برے القاب یہ زبان کے ایسے گناہ ہیں جو ہر زبان زد عام ہیں۔ان کو گناہ ہی نہیں جانا جاتا۔جب کہ ان میں سے ہر ایک پر اللہ تعالی نے سزا مقرر کی ہے۔غیبت کے بارے میں فرمایا:’’غیبت کرنا ایسا ہے جیسے اپنے بھائی کا گوشت کھانا۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘(بخاری)حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایاکہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب بندہ جھوٹ بولنا ہے تو فرشتہ اس کے جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔(ترمذی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دو چیزیں لوگوں میں ایسی ہیں جو ان کے لیے کفر کا باعث ہیں،نسب میں طعن کرنا اور فوت شدہ پر بین کرنا۔‘‘(مسلم) کس مسلمان بھائی پر بہتان لگانے کے بارے میں فرمایا:’’جو شخص کسی کو بدنام کرنے کے لیے اس میں ایسی برائی بیان کرے جو اس میں نہ ہو تو اللہ اسے دوخ کی آگ میں قید رکھیں گے یہاں تک کہ وہ اس برائی کو ثابت کردے۔‘‘(جو کہ وہ نہ کر سکے گا)(طبرانی)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فحش گوئی کی مذمت کوبیان کرتے ہوئے فرمایا:فحش گفتگو سے اجتناب کرو،کیوں کہ اللہ تعالی فحاش پرستی پر مبنی گفتگو پسندنہیں فرماتا،‘‘(سنن نسائی)مزید تاکید کے لیے فرمایا :’’مسلمان کو برا بھلا کہنا فسق ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔‘‘(مسلم)
اللہ تعالی اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف زبان سے صادر ہونے والے گناہوں پر وعیدیں ہی بیان نہیں کیں،بل کہ ان سے حفاظت اور بچاؤ کے لیے تراکیب و تدابیر بھی بیان فرمائیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جو چپ رہا وہ نجات پاگیا۔‘‘(ترمذی)ایک صحابی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:’’اپنی زبان کو سوائے خیر کے ہر قسم کی بات سے محفوظ رکھو،اس سے شیطان پر قابو پالو گے۔‘‘(ابو یعلی)ایک موقع پر فرمایا:’’اللہ تعالی اس بندہ پر رحم کرے جواچھی بات کرکے دنیا وآخرت میں اس سے فائدہ اٹھائے یا خاموش رہ کر زبان کی لغزش سے بچ جائے۔‘‘(بیہقی) حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’مجھے مختصر بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے،کیوں کہ مختصر بات کرنا ہی بہتر ہے۔‘‘(ابوداؤد)حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول!نجات حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اپنی زبان کو قابو میں،اپنے گھر میں رہو۔(فضول باہر نہ پھیرو)اور اپنے گناہوں پررویا کرو۔‘‘(ترمذی)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص اپنے دونوں جبڑوں اور دونوں تانگوں کے درمیان والے اعضا(زبان اور شرمگاہ)کی ذمہ داری دے،میں اس کے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔‘‘(بخاری)
آج ہمارے معاشرے سے راحت وآرام عنقا ہوچکا ہے۔ہر ایک چین وسکون کا متلاشی ہے۔اس کے لیے ہم نے سارے جہاں کی خاک چھان ماری ہے،مگر کبھی ہم نے اپنی نظریں جھکا کر اپنی دو انچ کی زبان پر غور وفکر نہیں کیا ،کہ اسی سے نکلے دو بول ہمارا سب کچھ چھین لیتے ہیں۔ہمارے امن وآشتی کو ہم سے کوسوں دور لے جاتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اللہ کی دی ہوئی اس نعمت کا شکر ادا کریں،ہمارے ذمہ اس کے جوواجبات ہیں ان کو بر وقت ادا کریں اور اس کے ذریعہ الفت ومحبت اور اخوت وبھائی چارگی کو عام کریں۔
لکھاری کا تعارف احتشام الحسن؍چکوال
Ahtesham671@gmail.com

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.