فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا گورنر ہاوس کی سامنے 15 نقاتی حقوق قبائل دھرنے کا اعلان

0

جمرود (تاجدار عالم ) ایف سی آر کو ختم کر کے فاٹا کوخیبر پختونخواہ میں ضم کیا جائے تاکہ آنے والے الیکشن میں صوبائی اسمبلی میں نمائندگی مل جائے اور ساتھ ساتھ قبائلی خواتین کو مخصوص نشستیں بھی دی جائے۔ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کو 5% دے کر دس سال کیلئے ٹیکس فری زون قرار دی جائے اور سی پیک میں خصوصی توجہ دی جائے۔صحافیوں سمیت سماجی کارکنان کی جانی و مالی تحفظ کو یقینی بنائی جائے اور رواج ایکٹ قبائلی عوام کو منظور نہیں۔ ان خیالات کا اظہارایف ایس او کے مرکزی صدر شوکت عزیز،لنڈیکوتل صدر ناصر شہزاد ، جمرود صدر حضرت اللہ اور کابینہ کے دیگر ممبران نے جمرود میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی غیر سنجیدہ رویے کے رد عمل میں ہم نے 19 جولائی کو گورنر ہاوس کے سامنے پندرہ نقاتی حقوق قبائل دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کی پسماندگی کی بنیادی وجہ ایف سی آر قانون ہے جسکا خاتمہ دور حاضر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قبائلی عوام ، سیاسی و سماجی کارکنان اور تنظیموں سے اس دھرنے میں بھر پور شرکت کرنے کی دعوت دی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ دھرنا ایف سی آر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.