نائن الیون۔۔ آپ کو یاد دلاتا چلوں؟ تحریر: محمد بلال یاسر

0

آج کے جدید دور سے تقریباً ڈیڑھ دو دہائی قبل قبائلی علاقہ جات میں سکول میں داخل ہونے والے بچوں کی شرح نہایت قلیل ہوا کرتی تھی، پھر جو داخل ہوجاتے ان کی داخل پورے سال میں بمشکل 30 فیصد بھی نہیں ہوتی۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہے جن پر اب بحث مقصود نہیں۔ میرے والد گرامی تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے تھائی لینڈ، سری لنکا، یمن جیسے ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ممالک کے اسفار بھی کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے سفر سے جو اخذ کیا اس میں ترقی کا ایک پہلو اپنے بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم سے بہرہ ور کرنے بھی ہے۔ ان کی نظر میں اس کے بغیر ایک کامیاب معاشرہ تکمیل نہیں پا سکتا۔ سو اس بنیاد پر والد گرامی نے ہم چھ کے چھ بھائیوں کو دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کرنا ضروری سمجھا، 1998 میں قریبی پرائمری سکول میں مجھے داخل کروادیا۔
وہاں جو تعلیم دی جاتی تھی وہ اب بھی ہمارے ماضی کے بہترین یادوں کا ایک حسین حصہ ہے۔ سردیوں میں سکول کی عمارت میں سردیاں زیادہ ہونے کے وجہ سے ہم پورا دن باہر صحن میں اُگی گھاس پر بیٹھا کرتے تھے یہی صبح صبح چند کتابوں میں سے کچھ کچھ حصہ پڑھا کر ہمیں 1 بجے تک فارغ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس وقت کو گذارنے کے لیے ہمارے پاس کئی مشاغل تھے، چھپن چھپائی کھیلنا، کاغذ کے جہاز بنانا وغیرہ لیکن اگست 2001 کے بعد ہمارا لیے ایک نیا مشغلہ پیدا ہوا تھا، اور وہ تھا فضا میں تیرنے والے بڑے جہاز جو ہم نے زندگی میں پہلی بار دیکھے تھے ہم پورے دن ان کا تماشہ کیا کرتے تھے۔ ہمیں یہ تک علم نہ تھا کہ یہ جہاز پاکستان کے ہیں یہ کسی اور ملک کے ہم تو صرف اتنا جانتے تھے کہ ہمارے پڑوس افغانستان میں قحط پڑ چکی ہے ان کے لیے امداد لے جائی جا رہے ہے ان جہازوں میں کیا تھا ہمیں اس سے قطعاً کوئی سروکار نہ تھا۔
کچھ مہینے بعد گزرنے کے بعد ہم صبح سکول پہنچے تو ہمارے اساتذہ کرام ریڈیو درمیان میں رکھ کر سب طلبہ سے خاموش ہونے کا کہہ رہے تھے، انہیں ڈانٹ رہے تھے، موجود اکثر افراد کے چہروں پر خوشی کے آثار تھے جبکہ پرنسپل صاحب کسی گہری سوچ میں مگن تھے۔ کچھ دیر بعد استاد نے کلاس میں آتے ہوئے یوں گویا ہوئے۔ بچوں گذشتہ رات امریکہ میں ایک بڑا حادثہ ہوا ہے امریکہ کے شہر نیویارک میں دن کے وقت جب یہاں رات کا وقت تھا دو سواروں نے جہاز دو بلند ترین عمارتوں (ورلڈ ٹریڈ سینڑ) سے ٹکرائے جن کی سو سے زیادہ منزلیں تھیں اِس حادثے کے نتیجے میں یہ عمارتیں مکمل زمین بوس ہو گئیں اور ہزاروں لوگ جان سے گئے؛ استاد اپنا کلام ختم کرچکے تھے اکثر بچے اس واقعے پر خوشی سے اچھل کود رہے تھے۔
وہ دن اور آج کا دن اس ملک میں عموماً اور قبائل میں خصوصاً تکالیف کے ایک لازوال اور دائمی جنگ کا سلسلہ شروع کرچکی ہے، بے امنی اور خوف کی فضا قائم ہوچکی۔ اس میں ہزاروں جانیں قربان ہوچکی ہیں، مزید کتنی قربانیوں کے ضرورت پڑی گی یہ معلوم نہیں، آقا امریکہ نے اس حادثے کے بعد پڑوسی ملک افغانستان پر حملہ کیا اور یہاں آکر سرخ پانی اور دیگر معدنیات پر قابض ہونے کے نیت سے ڈھیرے ڈال دی ہیں۔۔
ہر سال جب 11 ستمبر آتا ہے تو یادیوں اور زخموں اور آہوں کے دریچے کھل جاتے ہیں اللہ کرے میرا ملک اب امن، وحدانیت اور سکون کے طرف لوٹ سکیں، ہم جلد از جلد امریکی غلامی اور دوستی سے نجات پاسکیں۔۔ اللہ کرے ہم سب اپنے زندگی پاکستان میں اسلام کا نفاذ دیکھ سکیں۔۔
رہے نام اللہ کا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.