ختم نبوت کا دفاع اور الیکشن ترمیمی بل

0

تحریر:۔ محمد بلال یاسر

2 اکتوبر 2017 کو قومی اسمبلی میں الیکشن ترمیمی بل منظور کرلیا گیا۔ صاحبزادہ طارق اللہ (جماعت اسلامی) کے علاوہ تمام اراکین نے اس پر دستخط کیے۔ کچھ پارٹیوں اور سیاسی کارکنان نے اس بات پر شور مچایا کہ اس بل کو ہم اس لیے منظور نہیں کرتے کہ اس میں ایک مجرم شخص کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے، لیکن اس آواز میں اتنی قوت نہ تھی بعد ازاں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا جذباتی بیان سامنے آیا انہوں نے اسمبلی کے فلور پر کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن آپ اسلام کے ٹھیکدار بنے ہوئے ہیں یہاں قانون میں ختم نبوت پر حملہ ہوچکا ہے اور آپ سو رہے ہیں انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مذکورہ ترمیمی بل سے ختم نبوت پر حلف نامہ کی شق حذف کردی گئی۔ اس کے بعد پوری امت مسلمہ خصوصاً پاکستان کے مسلمانوں نے سر پر ایمانی جذبے کے تحت مشتعل ہونا شروع کیا۔ جب مذکورہ بل سامنے لایا گیا تو اس بل میں مذکورہ شق موجود تھی۔ تب سادہ عوام خاموش ہوگئے لیکن دال میں کچھ کالا نظر آنے لگا تھا۔ اس کے بعد عقیدہ ختم نبوت کے مخلصین نے ترمیمی بل منگوا کر غور سے پڑھا اور قانون دان افراد سرجوڑ کر بیٹھ گئے تب اصل سازش سامنے آگء، اس قبل کا الیکشن بل جو کہ 2002 میں منظور ہوا تھا اس کے آرٹیکل 7C میں واضح طور درج ہے کہ کوئی بھی قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کرکے ووٹ نہیں ڈال سکتا اگر کسی نے ایسا کیا تو اس کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، ایسا جرم معلوم ہونے کے بعد اسے ہائیکورٹ میں اسے چیلنج کردیا جائے گا، کورٹ دس دن کے اندر اس کی تصدیق کریگی کہ مذکورہ شخص اقلیت سے تعلق رکھتا ہے یا مسلمان، کورٹ کے فیصلے کے بعد اگر اس نے قادیانی ہونے کے باوجود ایسا کیا ہو تو اس کا ووٹ خارج کرکے اقلیت میں اندراج کردیا جائے، مذکورہ ترمیمی بل میں یہ شق خارج کردی گئی جو کہ قادیانی نواز حکومت کی ایک اور کارستانی ہے۔ ووٹ کے حصول کے خاطر ایسا گناؤنا جرم کیا گیا۔ جس سے پوری امت مسلمہ کے قلب باالعموم اور پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کے قلوب بالخصوص مجروح کیے گئے۔
عام مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل یہ ہے کہ اس وقت شخص سرپرستی سے نکل کر ایک حقیقی مسلمان کا روپ اختیار کریں، اپنے قائدین پر دباؤ بڑھائیں کہ اسمبلی میں اس قانون کو احتجاج کے تھرو ختم کروائیں۔ 73 آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ پاکستان میں کوئی قوانین اسلام سے متصادم نہیں ہوگا۔ ختم نبوت ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے اس کے بغیر ایمان مکمل ہو نہیں سکتا۔ میرے ان مذہبی لیڈران سے پرزور اپیل گذارش ہے کہ اس کیس کو سیریس لیں، خدا راں پارلیمنٹ میں کسی بھی قانون کو پڑھے بغیر اس پر دستخط نہ کریں۔ پاکستان کے نظریاتی اساس کا حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔ حکومت پاکستان سے اپیل کے اس قانون کو فوری طور پر ختم کردیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.