مسلمان گھرانہ،اللہ کا شکر ادا کیجئے! :تحریر شاہد خان ۔

0

مسلمان گھرانہ،اللہ کا شکر ادا کیجئے!

چند دن پہلے ایک چشم دیدہ المناک سانحہ وقوع پذیر ہوا ۔
سڑک کے کنارے واقع ایک سکول کی چھٹی ہوئی ۔معمول کے مطابق گھر جانے کے لئے سکول سے باہر جیسے ہی میں نے قدموں کا استعمال کیا پیچھے سے ایک ہیبت ناک آواز کانوں نے سن لیا،  کیا دیکھتا ہوں کہ پیاری اور معصوم سی، تقریبا پانچ سال کی  اقراء نامی سکول کی  بچی  گاڑی کی ٹکر سے سڑک پر پڑی ہے ۔۔
خدا جانے اس وقت مجھ پر قیامت آپڑی ۔پاؤں تلے زمیں نکل گئ ۔فورا اس کے طرف جپھٹا ۔پاس پہنچا تو معصوم بچی کا سکاف لال ہوگیا تھا ۔چہرہ ایسا جیسا کہ اس میں انار کی رس نچوڑ دیا گیا ہو ۔اس نا مساعد حالت میں تمام دیکھنے والے افسردہ اور آبدیدہ تھیں ۔وہ شیرینی طرز سخن سے کلام کرنی والی ادائے پرکشش، بلند پائیہ بچی زمیں پر سرخ گلاب کی طرح بکھری ہوئی پڑی تھی ۔
ع:
طشت افق سے لےکر لالے کے پھول مارے
تم ہو کہ ایک پھول کھلا ہے گلاب کا

لیکن ! یہاں جو حیران کن اور( جملہ خارج من البحث) خوش کن  بات میں نے یہ  دیکھی ،
کہ اسی حالت میں اس کی زبان پر  "یا اللہ ۔یا الله ۔یا اللہ ”  کا ورد جاری تھا ۔یہ خوش نصیب بچی اس وقت اپنے اس حقیقی رب کریم،  رب العلمین کو پکارا رہی تھی جو تمام انسانوں کا حقیقی رب کریم ہے ۔جلدی سے اسے آغوش میں لیا اور ہسپتال پہنچا دیا۔
اس واقعے سے میرا مقصد صرف اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا ہے، کہ الله کا شکر ادا کیجئے!  ہمیں مسلمان گھرانہ میں پیدا کیا۔اسلامی ملک میں پیدا کیا۔ہماری پرورش مسلم معاشرے میں ہوئی۔اسلامی تعلیمی اداروں میں تعلیم وتربیت پاتے ہیں۔ ہمیں کتاب کے اولین صفحات پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صفات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ایسے حالات میں اسلامی مدارس،اسلامی سکولز،اسلامی اجتماعات اور دین دار لوگوں کا وجود غنیمت ہے ۔
وگرنہ اس پانچ سالہ ننھی سی بچی کو کس نے سکھایا تھا، ہر وقت صرف اور صرف اللہ تعالی کو پکارنا ہے ۔کس نے اس بچی کی ذھن کو اس امر سے آشنا کرایا تھا کہ تمہیں بچانے والا ذات صرف اور صرف دونوں جہانوں کا پالنے والا رب کریم ورحیم ہی ہے۔
جی ہاں!  مسلمان گھرانہ: جب سے وہ آنکھیں کھول دیتا ہے اس کی کانوں میں، ” آنکھوں کی ٹھنڈک، حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ جیسے شیرینی آواز سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم؛  کے دیواروں میں گونجنے والی صدا ( آذان ) دیا جاتا ہے۔جب سے شعور سنبھالا ہے ہمارے والدین نے ہمیں اس انداز میں سمجھایا ہے کہ تمہیں پیدا کرنے والا ذات صرف اور صرف اللہ تعالی ہے۔ مشاہدہ ہے مسلمان گھرانہ میں پیدا ہونے والے بچوں اس اگر آپ سوال کریں کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو وہ جواب میں رب العلمین اللہ تعالی کا خوبصورت نام پیش کرتا ہے۔
ایک صحیح حدیث شریف کا  مفھوم ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی،یا مجوسی بنا دیتا ہے ۔
ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:

          انقلابات جہاں واعظ رب ہے دیکھو
ہر تصور سے صدا آتی ہے فافھم فافھم

دنیا کی ہر چیز میں اللہ تعالی کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں۔پس سمجھ لو!

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.