ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال خارمیں ادویات کا غیر منصفانہ تقسیم

0

باجوڑایجنسی(قیاس خان)2017 مردم شماری کے مطابق باجوڑ ایجنسی کی آبادی1.093 میلین ہے ، باجوڑ ایجنسی کے اتنی ابادی کیلئے واحد کٹیگری ڈی ہسپتال ہے ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال423 بیڈزپرمشتمل ہے ۔باجوڑ ایجنسی کے علاوہ مہمند ایجنسی کے تحصیل امبار کے زیادہ تر مریض ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے رخ کرتے ہیں ہسپتال ذرائع کے مطابق ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال خار میں جنوری 2017 سے نومبر 2017 تک 282696 افراد کا معائینہ ہو چکا ہے ہسپتال کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ باجوڑ کی آبادی پوری فاٹا سے زیادہ ہیں لیکن باجوڑ کے علاوہ مہمند ایجنسی کے اکثر علاقوں کے لوگ یہا ں علاج معالجے کیلئے آتے ہیں اس کے علاوہ لوئیر دیر کے علاقے منڈا اور جندول کے لوگ بھی اسی ہسپتال کو علاج معالجے کیلئے آتے ہیں۔لوگوں کی شکایت اپنی جگہ لیکن محدود وسائل کے باوجود ہم اتنے کثیر لوگو ں کوسہولیات فراہم کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس سال میں80 ڈینگی سے متاثر مریضوں کاعلاج معا لجہ کرایا گیا ہے
ایک مریض کے سرپرست کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں میڈیسن کی ادویات کی تقسیم میں اقربا ء پروری سے کام لیا جاتا ہے اور یہ ادویات غریبوں کی بجائے اثر رسوخ والے افراد کو دئے جاتے ہیں مگر ایم ایس نے کہا کہ کہ ہمارے ساتھ محدود آئٹم ہے اور جتنے بھی آئٹم ہمارے ساتھ ہیں ہم ہر کسی کو بلا تفریق دیتے ہیں اور جو ہمارے ساتھ نہیں ہو تو ہم کہا سے لاکے دیں دے ۔
افیشل ذرائع کے مطابق داخل مریضوں کو مختلف انجکٹیبل میڈیسن معمول کے مطابق دئے جاتے ہیں مگر اس میں بعض وارڈ کے انچارج یا دیگر ٹیکنشن ویسے تو مریض کے نام شوکرتے ہیں مگر وہ مریض کے بجائے اپنے لئے لے جاتے ہیں اور اکثر میڈکل ٹیکنیشن یہ میڈیسن اپنے کلینک میں زیر استعمال لاتے ہیں
اسی زرائع نے بتا یا کہ یہ تو نیچے سطح کے گھپلے ہیں جبکہ بڑے سطح پر  بھی کچھ اسی طرح گھپلے ہوتے ہیں ۔جب ادویات کیلئے فنڈ منظور کیاجاتا ہے تو ہسپتال انچارج (ایم ایس ) پچھلے سال کے ادویات سٹاک کرتے ہیں اور آنے والے بجٹ میں انہی سٹاک شدہ ادویات کے نام پہ بل پاس کرتے ہیں اور اسی طرح غریب عوام کے خون چوس کر یہی بجٹ ہڑپ کرتے ہیں ۔
ایم ایس کے مطابق ادویات کے مد میں ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار کو سال2016-17 60 لاکھ فنڈ دیاگیا تھا۔ اسی بجٹ میں 20 لاکھ روپے کا اکسیجن فرچائیس کیا گیا جبکہ 5 لاکھ کا سپرٹ لیا گیا باقی ماندہ35 لاکھ کا میڈیسن خرید لیا گیا۔جبکہ15 لاکھ سے زیادہ آبادی کیلئے 60 لاکھ بہت قلیل ہے . آپ خود سوچ لیجئے کیا اتنی آبادی کیلئے اتنا فنڈ کافی ہے ؟یہا ں تو ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ مجھے مفت علاج معلاجہ فراہم کیا جائے ہم کوشش کررہے ہیں کہ ہر مجبور بے بس اور لاچار طبقے کو انکا حق با آسانی فراہم کر سکے مگر فنڈ ز کی کمی وجہ سے مشکلات سامنے آرہے ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.