ملالہ یوسفزئی کی پاکستان واپسی پر عوامی رد عمل

0

نوبل انعام یافتہ پاکستان کی بیٹی ملالہ کی وطن واپسی پر حکومتی ارکان نے گرم جوشی سے استقبال کیا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی حلقوں کے لوگوں نے ان کے ساتھ سیلفیا ں بنائے ۔اقوام متحدہ میں ”MALALAH DAY”منائی گئی۔پر پاکستانی عوام اور حکومت مخالفین میں جہا ں لوگ ان کو دیکھ کر خوش ہوئے وہاں پراکثریت عوامی حلقوں نے اس کو امریکہ کا نیا چال سمجھ کر تنقید کا نشانہ بنایا۔کئی نجی سکولوں نے "Anti Malalah Day”بھی منائی تو کسی نے انتہائی نازیبا الفاظ میں معصوم بچی کی عزت اور معصومیت کو داغ دار بنانے کی کوشش کی ۔سوشل میڈیا میں لوگوں نے ان کو اپنی ظر ف کے مطابق اور سوچ کی مناسبت سے مختلف زاویہ نظر سے دیکھا اور بیان کیا۔ ایک تصویر دیکھ کے میری ہنسی نہیں روک رہی تھی ایک صاحب نے اس کو دجال کی پیروکاروں میں شمار کیا اور اس کے لباس میں سے دجال کی ”EYE” والے نشان کو Point out کیا۔ملالہ ایک چھوٹی سے بچی بھلا کیا جانے کے ایجنٹ کیا ہوتا ہے اور کیا کرتا ہے اور وہ بیچاری کیا جانے کے اپنے ملک سے محبت کی کیا قیمت ہوتی ہے وہ دوسرے عام لڑکیوں جیسی ایک لڑکی ہی توہے پر ہو سکتا ہے وہ کچھ خاص صلاحیتوں اور ذہن کی مالکن ہو ۔ وہ کم از کم میرے خیال میں امریکہ جیسے مکار ملک کی چال کو نہیں سمجھ سکتی نہ سمجھ پائے گی ۔خواتین کی تعلیم کے لئے آواز اٹھانے والے معصوم بچی کو سر پر گولی لگی اور اس طرح کی بات کو کوئی بھی سمجھ دار شخص سمجھ سکتا ہے کہ کوئی اپنی بچی کو صرف پیسوں اور سستے شہرت کے لئے بندوق کی گولی کے سامنے نہیں لائے گا۔اور نہ کوئی اتنی آسانی سے ملک کے خلاف ایسا کوئی قدم اٹھائے گا۔
سر پر گولی لگنے کے بعد سے ملالہ کو بے ہوشی کی حالت میں ملٹری ہسپتال لے جایا گیا اور اس کی علاج کرائی گئی یہ اس کی قسمت تھی کہ بچ گئی اور مختصر یہ کہ ایسی جگہ پر پہنچ گئی جہاں کے خواب بھی شاید اس نے نہیں دیکھے ہو۔امریکہ میں اپنی ماں اور باپ کے ساتھ مقیم ہو گئی اور وہاں سے اپنی ایک کتاب” ”I AM MALALAH بھی لکھی اور ساتھ میں خواتین کے تعلیم کے لئے بھی کام شروع کیا ۔عالمی شہرت کے ساتھ ساتھ اسے اور اس کی ماں باپ کو وہ سب ملا جس کے خواب بھی دیکھنا ایسے لوگوں کے لئے مشکل ہے پر اپنے ملک کے اکثر عوام آج اس کو شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ملالہ کی واپسی نے بہت سے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں اٹھائے ہیں اور وہ یہ کہ ملالہ نے تو اپنی تعلیم اور سکول کے لئے اتنا کیا کہ طالبان کے خلاف ڈائری لکھی اور ان کی ایک ایک سرگرمی کو اپنی ڈائری میں لکھ کر بی بی سی کو انفارم کیا اور اپنا نام ”GUL MAKAI”گل مکئی ظاہر کیا۔ جو ایک فرضی نام تھا یا ایک دوسرا نام جو اس کی ماں نے اس کے لئے رکھا تھا۔پر کیا اب ہر ملالہ جیسی لڑکی یہ کام شروع کرے تاکہ اسے اگر امریکہ میں نہیں تو کم از کم اپنے گاؤں کے سکول میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع اور ماحول مل جائے۔کیا ہمارے ملک میں صر ف ملالہ ہے جو تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی پر طالبان ان کے راہ میں مخالف بن کر آگئے۔نہیں ہمارے ملک میں بہت سے ایسے بہنیں ہیں جن کو اپنے گھر سے بھی تعلیم کی اجازت نہیں ملتی تو بعض ایسے ہیں جن کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لئے نہ پیسہ ہے نہ سکول ہے اور ایسی بھی ہیں کہ جو تعلیم کے بوند بوند کو ترستی ہیں اور اس طرح کی شہرت یافتہ لڑکیوں کو دیکھ کر ان کے دل میں بھی تعلیم حاصل کرنے کا شوق انگڑائی لیتا ہے پر پھر وہی بات کہیں ماحول نہیں ہے تو کہیں پیسہ نہیں ہے اور نہ توجہ ہے۔ جن کے اپنے گھر کے لوگ تعلیم حاصل کرنے کے خلاف ہو اس کا تو خدا حافظ۔ ہمارے ملک پاکستان میں ایسے لڑکیاں آج ملالہ کو دیکھ کر نفسیاتی تکلیف کا شکار ہو رہی ہے ملالہ کو دیکھ کر وہ یہی سوچتی ہیں کہ ہم میں کیا کمی ہے؟ ہم میں وہ کیا نہیں ہے جو ملالہ میں ہے اور ہم میں نہیں؟اور ایسی ذہین اور قابل تعلیم یافتہ لڑکیاں بھی ہے جن کے بالوں میں دو وقت کی روٹی اور روزگار کے لئے سفیدی لگ گئی پر ان سے کسی نے ان کی حالات کا نہیں پوچھا نہ اس کی قابلیت اور تعلیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے کوئی راہ متعین ہوئی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.