اساتذہ تنظمیوں کی سروس ایکٹ 2018ء کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

0

مہمندایجنسی(فرہاد کدی خیل) ہیڈکوارٹرغلنئی میں اساتذہ تنظمیوں کی سروس ایکٹ 2018ء کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، اساتذہ نے صوبائی حکومت کی جانب سے ٹائم اسکیل کے اجراء کو مسترد کردیا ، سروس سٹرکچر کے خاتمے کی فیصلے سے اساتذہ کو مایوسی ہوئی ہے ، صوبائی حکومت نے اساتذہ کو ٹائم سکیل کے نام پر ٹرخاکر آگے ترقی کی دروازے بندکردیئے ہے ،اساتذہ کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو پورے صوبے میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کرینگے ۔ اس سلسلے میں جمعرات کے روز ہیڈکوارٹر غلنئی میں محکمہ تعلیم کی دفترسے اساتذہ تنظیموں آل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر مرجان علی ، اصلی شیر اوردیگر اساتذہ نے علامتی طورپر بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا ۔اس موقع پر اساتذہ رہنماؤں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ٹائم اسکیل کے نام پر اساتذہ کو دھوکہ دیا اور ان کو مایوس کردیا ہے کیونکہ ٹائم اسکیل کی اجراء سے اساتذہ کو کوئی فائدہ نہیں ملا بلکہ الٹا اس سے ان کا نقصان ہواہے جبکہ اساتذہ کا دیرینہ مطالبے سروس سٹرکچر کے خاتمے سے اساتذہ کو سخت مایوسی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹائم اسکیل میں کسی بھی کیڈر میں ترقی کیلئے آٹھ سال کی دورانیہ کی شرط رکھا گیا ہے جوکہ اساتذہ کے ساتھ کھلم کھلا مذاق ہے لہٰذا ہم صوبائی حکومت کی جانب سے ٹائم اسکیل کے اجراء کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور اس پر پورے صوبے کے اساتذہ کی شدید تحفظات ہیں ۔اگر استاد کو ٹائم سکیل دے دیا جائے اور سٹرکچر واپس لے لیا جائے تو اس سے نہ صرف تعلیم یافتہ اسا تذہ آگے ترقی سے محروم ہوجائے گا بلکہ وہ ساری زندگی ایک ہی سکول میں گزارے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت غیروں کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے وہ ہمارے بچوں کے مستقبل کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے کیونکہ آگے بھرتیاں صرف کنٹریکٹ کی بنیاد پر ہوگی جس سے محکمہ تعلیم بالکل ہی تباہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت جھوٹ اور دوغلے پن کا شکار ہے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا گیا تھا اب وہ اس سے انکار کررہی ہے اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو اساتذہ اپنے جائز حقوق کیلئے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.