پاک افغان شاہران پر ایف سی اور این ایل سی کو بھی غیر قانونی کمائی سے روکھا جائے۔ خیبر قومی مشران

0

جمرود ( تاجدار عالم) خیبر ہاوس جرگہ ھال پشاور میں خیبر ایجنسی کے تمام اقوام کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جسمیں آفریدی، شنواری، ملاگوری اور شلمانی قوموں کے ملکان و مشران نے شرکت کی۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے مشران نے فاٹا انضمام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف نے قبائل سے وعدہ کیا تھا کہ قبائل کے مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گامگر ایک سازش کے تحت قبائل سے پوچھے بغیر ان کے مستقبل کا ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے فاٹا میں ایک نیا جنگ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام خود پاکستان کے بہتر مفاد میں نہیں ہے کیونکہ یہ ایک غیر ملکی ایجنڈا ہے جس پر نابالیغین نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قبائل کو غیر یقینی صورتحال سے دو چار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی ڈویلپمنٹ فنڈ ختم کرکے غریب قبائیلوں کے منہ سے نوالہ چین لیا ہے جسکی وجہ سے غریب قبائلی طلباء کے سکالر شپ ختم ہوگئے، ترقیاتی سکیم ختم ہو گئے اور لوگوں کو علاج ومعالجہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خاصہ دار و لیویز فورس کو بے اختیار کرکے ان پر ٹیکس لینے پر پابندی عائد کی جس میں راشن، وردی اور امونیشن ان کا اپنا تھا۔ اسطرح مختلف تعلیمی اداروں اور دوسرے سرکاری اداروں میں فاٹا کا کوٹہ ختم کرکے ان کو مایوسی کا شکار کر دیا جو میرٹ میں بندوبستی علاقوں کے برابر آئندہ پچاس سال میں بھی نہیں آسکتے ہیں۔جرگہ میں آفریدی، شنواری، شلمانی اور ملاگوری قوم کے ملکان و مشران نے آرمی چیف، ائی جی ایف سی، ڈی جی این ایل سی ، کور کمانڈر اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ اگر خاصہ دار و لیویز فورس پر رہداری ٹیکس لینے پر پابندی لگ سکتی ہے تو پھر پاک افغان شاہران پر ایف سی اور این ایل سی کو بھی غیر قانونی کمائی جو وہ فی ٹرک سے پندرہ تا بیس ہزار اور افغانستان کی جانب سے پانچ سو روپے فی ٹرک اور این سی پی گاڑیاں چھوڑنے کے بدلے روپے لینے سے روکھا جائے ورنہ ان کے خلاف قبائیلی عوام روڈ پر نکلے ائینگے اور بر پور احتجاج کرینگے۔ جرگہ نے علامیہ جاری کرتے ہوئے عید کے فورا”بعد فاٹا انضمام کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے، 25 تاریخ کو جمعیت علماء اسلام (ف) کے جلسے میں برپور شرکت کرنے اور خیبر کے تمام اقوام کا ایک گرینڈ جرگہ 20 جون کو جمرود تحصیل میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.