مولانا فضل محمود مخفی

0

تحریرمولانا  خان زیب
ھمارے پشتون قوم کے تاریخ میں ایسےبیشمارھیروز گزرے ھیں جن کے کارناموں وکردار سے بدقسمتی سے ھماری آج کی نوجوان نسل بی خبر ھیں اور اسکی سب سے بڑی وجہ ریاست کی طرف سے تعلیمی نصاب میں وہ فرسودہ مضامین ھیں جن میں ھماری نوجوان نسل کو اور قوموں کے ھیروز کی کھانیاں تو بیان کی جاتی ھیں مگر بدقسمتی سے قصدا عمدا پختون قوم کے ھیروز کو نظر انداز کردیا جاتا ھیں مثلا یہ بات تو نصاب تعلیم میں تواتر سے ھیں کہ ایک بندے نے پاکستان کا خواب دیکھا اور دوسرے نے تعبیر دے دی مگر اسکے ساتھ یہ نھیں لکھا جاتا کہ اس خواب کے دیکھنے اور اسکو تعبیر دینے تک پندرہ لاکھ مسلمانوں نے جان کی قربانیا ں دی تھی 90ھزار عورتوں کی عزتیں لوٹی گئ تھی ھزاروں لوگوں نے جیل کی صعوبتیں کاٹی تھی اور ان تمام قربانیوں میں پختونوں کی قربانیاں سب سے زیادہ تھی تب جاکر برصغیر کو آزادی ملی تھی مگر ملکی تعلیمی نصاب سے یہ سب کارنامے سرانجام دینے والے ھیروز غائب ھیں اور نئ نسل کے سامنے تاریخ مسخ کرکے جھوٹ پڑھایا جاتا ھیں اور اسکے ساتھ پختون قوم اور انکے ھیروز جن میں احمد شاہ ابدالی میرویس خان بابا ایمل خان مومند غازی میرزمان خان امان اللہ خان غازی ترنگزو باباجی مولانا فضل محمود مخفی باچا خان خوشحال خان خٹک ملک احمد شیخ ملی بابارحمان بابا ملا نجم الدین المعروف اڈے صیب اور دوسرے بیشمار پختون ھیروز اور اسی طرح پختونوں کاعلاقہ فاٹا جو کہ انگریز سامراج کے خلاف مزاحمت کے لۓ خط اول کے طور پر استعما ل ھوتا تھا مکمل نظر انداز ھیں لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ھیں کہ تاریخ کو نہ چھپایا جاسکتا ھیں نہ ھی اسے جھلایا جاسکتا ھیں انھی ھیروز میں سے ایک نام مولنا فضل محمود مخفی صاحب کا ھیں مخفی صاحب کو باچا خان سیاست میں اپنا استاد مانتا ھیں جبکہ بقول افراسیاب خٹک مخفی صاحب نے ھی سب سے پھلے ایک پختون قومی ریاست کا تصور پیش کیا ھیں مخفی صاب 1884 کوپیداء ھواتھا انکا آبائ وطن باجوڑ زگہ ڈھیری علاقہ ماموند ھیں قوم ملا خیل سے انکا تعلق تھا سلارزو ڈھنذ کے علاقے میں بعد میں جمعہ گل جان سے گھر اور حجرہ بھی لیا تھا مگر دیر نواب نے انگریز کی ایماء پر انکو ؤھاں سے جانے پر مجبور کیا تھا میٹرک مکمل کرنے کے بعد ایڈوڈ کالج پشاور میں داخلہ لیا تھا اور بی اے کرنے کے بعد ھندوستان جاکر دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور فراغت کے بعد شیخ الھند رح
کے حکم پر حاجی ترنگزے صاحب کے ساتھ بر صغیر کے تحریک کا عملی حصہ بن گۓ کئ بار جیل بھی گۓ اور زندگی کا بیشتر حصہ افغانستان میں بھی گزارا جھاں امیر امان اللہ خان نے انکو مشیر بھی نامزد کیا تھا آنگریزوں نے اپنی ڈائری میں مخفی صاحب کو سویت یونین کا ایجنٹ لکھا ھیں جو کہ مخفی صاحب کی بر صغیر کی آزادی کے لۓ بھر پور عملی جد جہد کی دلیل ھیں بالآخر 1948کو اس دار فانی سے کوچ کر گۓ اور لوئر دیر کے علاقے مانڑوگی میں مدفون ھوے
مخفی صاحب کے بارے میں فضل زمان چلمن صاحب کی تصنیف ایک بہترین تصنیف ہے
آپ اس کتاب کو خرید کر اس عظیم شخصیت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.