شیرعالم میمونه حصہ دویم…… آج سے تین سال پہلے کی

 تحریرمولانا  خان زیب

پشتو ادب کا ایک بڑا پیارا اور مسحورکن صنف اولسی داستانیں ھیں جو پشتو ادب میں کثیر تعداد میں پائی جاتی ھیں اور سن 90 سے پھلے کے دور میں پشتونوں کے اولسی حجروں میں مترنم اوازوں میں رباب منگی کے ساتھ لوگ بڑے شوق سے سنتے تھے جن میں مومن خان شیرنے ادم خان درخانے یوسف خان شیربانو تاج محمد نمرو اور شیر عالم میمونه وغیره شامل ھیں لیکن ان داستانوں میں بعض کے متعلق کہا جاتا ھیں که وه واقعی نھیں بلکه فرضی ھیں لیکن شیرعالم میمونه کی داستان حقیقت پر مبنی ھے  یه و اقعه کب ھواتھا سال وقوع اسکا معلوم نھیں ھے کیونکه پشتونوں کی ھمیشه یه تاریخی بدقسمتی ھے که ان میں کسی واقعه کا تاریخ معلوم رکھنے کا رواج نھیں ھے اور اسکی وجھه یھی ھے که اس قوم کو ھر دور میں علم سے دور رکھا گیا ھے اور انکو ھمیشه بندوق اور بھادری کے قصوں سے ورغلاکر ھمیشه اورورں کے جنگوں کا ایندھن بنایا گیا ھےاس واقعے کے سن وقوع کے تعین کےلے مین نے بہت کوشش کی بہت قرائن ومعلومات کے بعد یه واقعه اندازا 1915 اور 1920 کے درمیان میں ھوا ھےیه واقعه موجوده لره ناواگئ کے ایک گاوں عربی خیل پڑمخئ میں پیش آیا تھا جسمیں حالا قوم غلجی کے افراد اباد ھیں میمونه کا تعلق قبیله دینار خیل سے تھااور شیر عالم کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا جبکہ میمونہ شیر عالم کی چچا کی بیٹی بھی تھی قبیله دینار خیل کا تعلق بنیادی طور پر ناواگئی کے ایک اور گاوں ڈوڈا سے ھے گاوں عربی خیل میں شیر عالم کا کنڈر نماں گھر اب بھی موجود ھے کہا جاتا ھیں که شیر عالم کی تین بیویاں تھی میمونه انکو تینوں میں سب سے پیاری تھی شیر عالم کا اپنے گھر کے ساتھ  گاوں والا دکان بھی تھا اور بہت سی چیزوں کے علاوه وه تمباکو اور نسوار بھی اسمیں فروخت کرتےتھے اس وقت لوگ ھر حجره میں چلم بھی پیا کرتے تھےشیرعالم ایک رات کہی گۓ تھے اسکا چچا تھا جسکا نام سید جان تھا اسکے حجرے میں مھمان ایا تھا مھمان کے تواضع کےلے حسب روایت جب چلم لایا گیا تو اس میں تمباکو نھیں تھا چچا نے تمباکو لانے کےلے اپنے بیٹے کو شیر عالم کے دکان بھیجا شیر عالم چونکه گھر میں نھیں تھا وه اسکے  گھر گیا اور تمباکو مانگا میمونه کی سوتنیں چونکے ان سے بغض رکھتے تھی تو موقعه ھاتھ انے کیلے ایک سوتن نے میمونه سے کھا که جاو ادھر طاق میں تمباکو  ھے وه اس شخص کو دروازے میں دیدومیمونه نے شیرعالم کے چچا زاد کو دروازے میں تمباکو دیدیا جب شیر عالم گھر ایا تو سوتنوں نے ان سے کہا که رات کے وقت وه فلان بنده ایا تھا اور میمونه اس کے ساتھ دروازے تک گئ تھی وغیره وغیره اور شیرعالم کے کان خوب بھرے شیر عالم بجاے اس کے که کچھ حقیقت معلوم کرتے وه روایتی غیرت میں اگیا اور میمونه کو چھری کے وار کرکے بڑی بیدردی سے قتل کیااس کے بعد وه سید جان کے بیٹے کو قتل کرنے کے لے گاوں کے مسجد میں گیا مسجد میں اس وقت سید جان بیھٹا تھا اور اس کا بیٹا نہیں تھا مگر شیرعالم اتنے طیش میں تھا کا اس نے سید جان کے بیٹے کے بجاے سید جان کو قتل کیا کیونکه شیرعالم پشتونوں کے  روایت کے مطابق ھر حال میں میمونه کے ساتھ .سلے. کرنا چاھتا تھا یه مسجد اب بھی اس گاوں میں موجود ھے کئی مشران سے جب میمونہ کے قصور کے بارے میں معلوم کیا تو ہر ایک کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ میمونہ بیقصور اور پاکدامن تھی ان سے کوئی ایسی غلطی سرزد نہیں ہوئی البتہ میمونہ کو خدا نے حسن دیا تھا جسکی وجہ سے شیرعالم کی رغبت دیگر بیویوں کے بنسبت اس سے زیادہ تھی جبکہ بقول ایک مشر کے شیرعالم کالے رنگ کا ایک لمبا تڑنگا شخص تھا

میمونه کی صرف ایک بیٹی تھی جسکا نام خوبانی تھا جو تقریبا 15 سال پھلے فوت ھو چکی ھے اور اسکا ایک بیٹا اب بھی زنده ھے شیر عالم پھر کئ سال بعد طبعی موت مرا دونوں کی قبریں ناواگئی کے  اس گاوں کے سب سے بڑی قبرستان میں ہے مگر انکے قبروں کا تعین نھیں ھے بنیادی طور پر یه ظلم کا ایک داستان ھوا تھا چونکه روایتا پشتون معاشرے میں ظلم کے واقعے کو بہت شھرت ملتی ھیں مگر جب بعد مین شعراء نے اس واقعے کو بیان کیا تویه  واقعه ظلم کے داستان کیساتھ ایک رومانوی داستان کے طور پر مشھور ھو گیا کئی شعراء نے اسکو بیان کیا ھے مگر گلوکاروں میں استاد فضل ربی    کو اس داستان کے کی وجه سے خاص شھرت حاصل تھی

.شیر عالم خداے دے خوار کہ

ده تماکو په پانڑه چا کڑی مرگونه                                    په ناواگئی کے اوبه نه وے.

ده میمونے ده وینوراغله سیلابونه

یہ تھی اس داستان سے متعلق کچھ معلومات وحقائق

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.