وادی کیلاش : پچھتر سالہ شیر محمد کیلاش کا انتقال ہوگیا۔

چترال(گل حماد فاروقی) وادی کیلاش رمبور کے بلان کورو گاﺅں میں شیر محمد کیلاش عمر 75 سال وفات پاگیا۔ جو کافی عرصہ سے بیمار تھا۔ کیلاش رسم و رواج کے مطابق کیلاش قبیلے کے لوگ اپنے میت پر تین دن تک رسم مناتے ہیں مگر سوگ نہیں مناتے ہیں۔

کیلاش لوگ عام طور پر اپنے میتوں پر جشن مناتے ہیں خواتین رنگین کپڑے پہن کر ڈھولک کی تھاپ پر رقص پیش کرتی ہیں، گیت گاتی ہیں اور نوجوان اور بوڑھے افراد بھی روایتی رقص پیش کرتے ہیں۔ کیلاش لوگ اپنے میت پر بیس، پچاس یا جو امیر شحص ہو سو بکرے بھی ذبح کراتے ہیں مگر یہ بکرے مسلمانوں سے ذبح کراتے ہیں تاکہ وادی میں مقیم مسلمان بھائی بھی اس گوشت کو کھا سکے۔

کیلاش لوگ میت کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اس کے گھر کے افراد مثلا! بیوی، بیٹی میت کے پاس چارپائی پر بیٹھ کر روتی ہیں جبکہ باقی لوگ گیت گا کر رقص پیش کرتے ہیں اور ڈھول بجاتے ہیں۔

میت کے سر پر پڑی ہوئی ٹوپی میں روپوں کے نوٹ بھی رکھتے ہیں جن میں پچاس، سو، پانچ سو اور ہزار روپے کا نوٹ بھی ہوتا ہے اور ساتھ ہی خشک اور تازہ پھل بھی رکھتے ہیں یہاں تک کہ نسوار اور سگریٹ بھی رکھتے ہیں تاکہ میت کے آحرت کے سفر میں یہ چیزیں کام آسکے۔

مرد کے میت پر تین دن اور عورت کے موت پر ایک دن رسم مناتے ہیں مگر عورت کے موت پر کم بکرے ذبح کرتے ہیں اور ہوائی فائرنگ بھی نہیں کرتے مگر مرد کے موت پر تین دن جشن مناتے ہیں، اور سو تک بکرے بھی ذبح کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی دیسی گھی، پنیر، دہی، اور کھانا بھی لوگوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

آحری دن اپنے میت کو دفناتے وقت ہوائی فائرنگ بھی کرتے ہیں اور اس کے روزمرہ کے استعمال کی چیزیں بھی اس کے ساتھ تابوت میں رکھ کر دفناتے ہیں ماضی میں اس کے ساتھ بندوق بھی رکھا جاتا تھا۔

شیر محمد کیلاش کا بھی میت کا رسم دو دن تک مسلسل منایا جائے گا اور تیسرے دن اسے سپرد خاک کیا جائے گا۔ اپنی نوعیت کی اس انوکھی اور عجیب و غریب رسم کو دیکھنے کیلئے اکثر باہر سے بھی سیاح آتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.