ورلڈ کپ اور ٹیم پاکستان

اسماء طارق

ا ج کل جہاں گرمی عروج پر ہے وہیں ورلڈ کپ نے کرکٹ کے متوالوں کو گرما رہا ہے ۔ پاکستان میں کرکٹ کسی ہائی فائی کلاس کا نہیں گلی محلوں کا کھیل ہے انہی گلی محلوں سے نکلنے والوں نے اپنے عزم سے کئی بار وطن پاکستان کا سر بلند کیا ہے مگر جہاں جیت متوالوں کے جوش و جذبے اور محبت کو بڑھاتی ہے وہیں ہار مایوسی اور غصے کی لہر ساتھ لاتی ہے جس کی آڑ سے  کھلاڑی بچ نہیں سکتے ہیں اور اگر میچ انڈیا اور پاکستان کا ہو تو پھر ساری دنیا میں عجیب سی  سنسنی پھیل جاتی ہے  اور لوگ وہی پرانی مقابلے بازی پر آ جاتے اب ایسے میں ہار کسی قیامت سے کم نہیں ہوتی ۔عوام کے جذبات ساتویں آسمان کو چھو رہے ہوتے ہیں جہاں ہار آگ بگولہ بنا دیتی ہے ۔حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کوئی خاصی اچھی اور خوش آئندہ نہیں ہے کہ جسے دیکھ کر چاہنے والوں کو خوشی ہو مگر پھر بھی ورلڈ کپ کےلیے امیدیں لگائی گئیں پھر برطانیہ کے ساتھ میچ کی فتح نے انہیں اور مضبوط کر دیا مگر پھر آسڑیلیا اور بھارت کے ساتھ میچ میں بری کارکردگی نے مایوسی کی فضا کے ساتھ ساتھ غصے کو بھی ابھارا اور اب یہ غصہ آگ کی طرح پھیلا ہوا ہے جہاں جذبات کا بہاو بہت تیز ہے جو سب اپنی لپیٹ میں  لے رہا ہے ۔ہونا بھی چاہیے آخر ٹیم پر اتنا پیسہ لگتا ہے لوگ اتنی مہنگی ٹکٹیں خرید کر سپورٹ کرنے جاتے ہیں اور آگے سے آپ کچھ نہیں کرتے اور دوسری کاروائیاں الگ ڈالی جا رہے ایسے میں لوگوں کو جذباتی ہونے کا حق ہے آخر ملک قوم کی عزت کی بات ہے اور اظہار کرنا چاہیے مگر یہاں کچھ چیزیں ہیں جن کا خیال رکھا جانا چاہیے۔انڈیا کے ساتھ میچ کے بعد عوام سرف ایکسل سے ٹیم کو دھو رہی ہے کیونکہ ہمارے ہاں انڈیا کے ساتھ میچ کسی جنگ سے کم نہیں ہوتا جہاں ہم نے سارے حساب چکانے ہوتے ہیں بچہ بچہ اس سنسنی سے متعارف ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے آخر کب تک یہی  ہوتا رہے گا دونوں طرف سے، اب تو دنیا بھی اس سے محظوظ ہوتی ہے۔ یہ لڑائی اگر ایسے ہی چلتی رہی تو نسلیں تباہ کرے گی اور میڈیا وہ اسے اور ہوا دیتا ہے اور رہے گا اور جذبات کو ابھارے گا کیونکہ پیسہ جو کمانا  ۔ناقص کارکردگی پر اپنے پرائے سب پاکستانی ٹیم پر کڑی تنقید کر رہے ہیں اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر تنقید کرنی چاہیے اور بنتی بھی ہے مگر اس سب کے ساتھ ساتھ اپنی حدود کو نہیں بھولنا چاہیے ۔ ہم مذاق مذاق میں اکثر بہت گر جاتے ہیں اور حدود  کو پامال کر دیتے ہیں اگر ہم خود اپنے آپ کو خود ہی پامال کریں گے تو دوسرے تو ہماری عزتوں کے جنازے نکالے گے ہی ۔ جب ہم اپنی ٹیم کو اچھی کارکردگی پر پھولوں کے ہار پہنا سکتے ہیں تو بری پر انہیں قبول بھی کرنا چاہیے تنقید کریں مگر اس طریقے سے جس سے کسی کی عزت مجروح نہ ہو اور اسے بہتری کیلئے لیا جا سکے اور عزتیں سرے بازار  نیلام نہ کریں اور نہ اپنا مذاق بنوائیں ۔اگر یاد ہو تو یہ وہی سرفراز ہے   2017 میں جو ٹرافی لایا تھا  تب لاکھوں لوگوں نے اس کا استقبال کیا تھا اور سر آنکھوں پر بٹھایا تھا اب ایسی حالت میں بھی قبول کریں ۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ اگر ہم پازیٹو ہیں تو ہمیں چاہیۓ کہ پاکستان کو سپورٹ کریں۔ اگر پاکستان کے لوگ ہی ان کرکٹرز کو گالیاں نکالیں گے تو دوسرے ممالک کے لوگ بھی ان کو برا بھلا کہیں گے ۔ ہم کو تو چاہیۓ کہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ ہاکی کی کوٸ کمپین چلائیں۔ کیونکہ لاسٹ ٹائم کسی نے بھی ہاکی کو سپونسر نہی کیا تھا جبکہ کھیلوں کی کمپین چلانی بھی ضروری ہے مگر کیونکہ وہاں سنسنی اس طرح کام نہیں کرتی تو یہ کیوں چلائیں ۔پاکستان کا کوٸ بھی چینل ہاکی کی کوٸ نیوز نہیں لگاتا ۔ اگر ہر کھیل کی ایڈورٹائزمنٹ کی جاۓ تو سب کو ہر کھیل سے لگاٶ ہو گا۔ان کی بات بھی مناسب ہے اب یہاں کچھ چیزیں ہیں جن پر سوال اٹھایا جانا چاہیے جیسا کہ سرفراز احمد کی فٹنس جو دن بدن بگڑتی جارہی ہے ۔سرفراز کو دیکھ کر لگتا ہے کہ چالیس کو پہنچے والے ہیں  جبکہ وہ ابھی صرف بتیس کے ہیں  ۔یہ ایک سنجیدہ اور غور طلب بات ہے اور سرفراز کو اس پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے ۔ اگر کپتان اپنی فٹنس کا خیال نہیں رکھے گا تو کھلاڑی تو بیڑا غرق کر دیں گے  ۔ کھیل میں فٹنس ہی تو اصل کردار ادا کرتی ہے ، ہماری سالوں سے فیلڈنگ اچھی نہیں ہے کیونکہ ہمارے لڑکوں کی فٹنس ورلڈ کلاس نہیں ہے ۔ اور سیاست جس نے ہر جگہ ٹانگیں اڑانی ہوتی ہیں ،کرکٹ میں  بھی دن بدن مقبول ہو رہی ہے اور تباہی مچا رہی ہے  جس پر سوال اٹھانے چاہئے اور تنقید بھی کڑیاں ڈال کر کرنی چاہیے ٹیم میں آپس میں باڈنگ (bonding)ہی نہیں دکھائی دے رہی جو بہت پریشان کن ہے  اور اس پر سوال اٹھانا بنتا ہے ۔مگر سب کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کو سپورٹ کریں جیسے اچھے حالات میں کرتے ہیں  ہاں تنقید کریں کڑی کریں مگر حدود کا خیال رکھ کر ، عزتوں کے جنازے نہ نکالیں کیونکہ ان کی عزت پاکستان کی غرت سے مشروط ہے اور پاکستان کی عزت، ہماری غرت ہے۔امید نہیں ہارنی کیونکہ 1992 میں بھی پاکستان انڈیا سے ہارا تھا ۔ ابھی بھی چانس پورا ہے ہم فائنل میں پہنچ ہی جائیں گے اور ورلڈ کپ بھی ہمارا بس حوصلہ نہیں چھوڑنا کیونکہ 1992 میں بھی ایسا ہی ہوا تھا  ۔۔کیا یہ کوئی مذاق ہے ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.