ضلع باجوڑ میں بیس جولائی کی انتخابی سرگرمیوں کا جائزہ ۔

0

مقالہ خصوصی ۔۔ تحریر انواراللہ خان

ضلع باجوڑ میں خیبر پختون خواہ اسبملی کے تین نشستوں پر بیس جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات کے لیے امیدواروں کی انتخابی مہم زور شور سے جاری ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ انتخابی مہم میں تیزی ارہی ہیں ۔
باجوڑ میں خیبر پختون خواہ اسبمی کے تین حلقوں – پی کے 100- پی کے 101 اور پی کے 102 پر مجموعی طور پر 39 امیدواران میدان میں ہیں ۔ ان میں پی کے 100 میں 12 – پی کے 101 میں 15 جبکہ پی کے 102 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے ۔
قبائلی اضلاع کے تاریخ میں پہلی بار منعقد ہونے والے خبیر پختون خواہ اسمبلی کے تین نشستوں پر مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے امیدواروں کے ساتھ ساتھ متعدد ازاد امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں ۔
حلقہ پی کے 100 باجوڑ 1 جو تحصیل سلارزی اور تحصیل اتمانخیل پر مشتمل ہے میں جماعت اسلامی نے مولانا وحید گل ۔ پاکستان تحریک انصاف نے انور زیب خان ۔ عوامی نشنل پارٹی نے گل افضل خان ۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے اسرار الدین خان ۔ جبکہ جمعیت علماء اسلام ف نے سابق سنیٹر مولانا عبدالرشید کو ٹکٹ دیے ہیں ۔ اس کے ساتھ متعدد امیدوار ازاد حثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں 
اسی طرح حلقہ پی کے 101 باجوڑ 2 جو کہ تحصیل خار اور تحصیل برنگ کے علاقوں پر مشتمل ہیں میں جماعت اسلامی کے صاحب ذادہ ہارون الرشید ، پاکستان تحریک انصاف کے اجمل خان ۔ عوامی نشنل پارٹی کے لعلی شاہ ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد انیس خان ۔ پاکستان مسلم لیگ – ن کے نظام الدین خان ۔ اور جمعیت علماء اسلام ف کے احمد زیب خان ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں ۔
پی کے 101 باجوڑ 2 میں پاکستان تحریک انصاف باجوڑ کے جنرل سیکرٹری سید احمد جان- پاکستان تحریک انصاف نظریاتی گروپ سے ازاد حثیت میں الیکشن لڑرہے ہے ۔
پی کے 102 باجوڑ 3 جو کہ ضلع باجوڑ کا سب سے گنجان اباد حلقہ ہے تحصیل لوئی ماموند ۔ تحصیل وڑ ماموند ، تحصیل ناوگئی اور تحصیل چمر کنڈ پر مشتمل ہے میں جماعت اسلامی کے سراج الدین خان ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ملک سعید الرحمان۔ جمعیت علماء اسلام ف کے مولانا سلطان محمد، عوامی نشنل پارٹی کے شیخ جان زادہ ۔ پاکستان تحریک انصاف کے حمید الرحمان ۔ ازاد امیدوار حاجی رحیم داد خان اور خالد خان اہم امیدوار ہیں۔
باجوڑ کے ان تینوں حلقوں کے تمام امیدواروں کی انتخابی مہم کئی گوکہ کئی ہفتوں سے جاری ہیں ۔ تاہم گزشتہ ایک ہفتہ سے ان امیدواروں کی انتخابی مہم میں کافی تیزی اگئی ہیں اور بڑے بڑے پاور شوز کارنر میٹنگز۔ اور اجتماعات کے ساتھ ساتھ ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں ۔ شدید گرمی کی باجود ان امیدواروں کی انتخابی مہم بھر پور طریقے سے جاری ہیں اور زیادہ تر امیدوار صبح اٹھ بجے سے رات گیارہ بجے تک اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں ۔ ضلع میں امن وامان کی بہتر صورتحال امیدواروں کی انتخابی مہم پر اچھے اثرات مرتب کررہے ہیں اور تمام انتخابی امیدوار بغیر کسی خطرے کے زور اور شور سے اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے امیدوار اپنی انتخابی مہم میں ایک دوسرے کے لیے غیر شائستہ الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کے زات پر حملے بھی کرتے ہیں لیکن ابھی تک انتخابی مہم میں کسی نا خوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہیں ۔
جلسوں ۔ جلوسوں ۔ اجتماعات ، کارنر میٹگز کے ساتھ ساتھ امیدوارں نے مختلف بازاروں اور تجارتی مراکز میں متعدد الیکشن افسسیز بھی قائم کی ہیں جہاں پر بڑی تعداد میں لوگ ان الیکشن کیمپوں میں اتے ہیں ۔ ساتھ ہی امیدواروں نے مختلف تجارتی ۔ کاروباری اور عوامی مراکز میں انتخابی بنیرز اور پوسٹرز بھی لگائے ہیں جن میں ان کے اںتخابی سلوگن اور نغرے درج ہیں ۔
انتخابی امیدواروں کے ساتھ ساتھ عوام بالخصوص جوانوں اور تعلیم یافتہ افراد میں قبائلی اضلاع کے تاریخ میں پہلی بار منعقد ہونے والے اس تاریخی الیکشن کے لیے کافی جوش اور خروش پایا جاتاہے اور انھوں نے بیس جولائی کو منعقد ہونے والے الیکشن سے بڑی توقعات وابستہ کی ہیں ۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن اف پاکستان اور ضلعی انتظامیہ نے بیس جولائی کے اس تاریخی الیکشن کے پرامن اور خوشگوار فضاء میں انعقاد کو ممکن بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات شروع کی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.