جمہوريت

0

تحریر : زینب عبدالرشید
جمہوريت معاشرے کے آگے بڑھنے ، پھلنے پھولنے کے ليے جمہوريت آکسيجن جيسي حيثيت رکھتي ہے ۔ انصاف، مساوات، خوشحالي، وسائل کے صحيح استعمال، عوام کي فلاح کے ليے عوام کي حکمراني بہت ضروري ہے ۔ دنيا ميں جنگ و جدل ،ناانصافياں، علاقوں ، قوميتوں کے نام پر قتل و غارت اس وقت تک جاري رہي جب تک اسے جمہوريت کي آغوش ميں پناہ نہيں ملي ۔ عوام کي حکومت آنے کے بعد ترقي کا نيا دور شروع ہوا جو اب تک جاري ہے، يعني مستقل ہے، وہ سفاک معاشرہ جہاں زيادہ سے زيادہ تکليف دہ سزائيں دينے کے ليے نت نئے طريقے سوچے جاتے تھے ، وہاں اب سزائے موت پر پابندي لگ چکي ، قيديوں کا خاص خيال رکھا جاتا ہے ۔ جانوروں کے حقوق کي تحريکيں چلتي ہيں، بڑے پيمانے پر ڈونيشن دي جاتي ہے تاکہ انساني جانوں کو محفوظ کيا جاسکے ۔ پوري دنيا سے لوگ ہجرت کر کے يورپ کا رخ کرتے ہيں۔ سفاکيت سے انسانيت تک کا يہ سفر جمہوريت کے صديوں کے ثمرات ہيں ۔ صرف معاشرہ ہي نہيں ۔ مغرب کي ترقي اور خوشحالي جمہوريت کي وجہ سے ہي ہے ۔ يہي جمہوريت تھي جس کے بعد تيزي سے معاشي ترقي کا انقلاب آيا، عام آدمي کو وہ سہولتيں ، ايسے کھانے ميسر ہونے لگے جو کبھي بادشاہوں، نوابوں، جاگيرداروں کو دستياب ہوتے تھے۔ يہ بات ماننا ضروري ہے کہ مشرق جمہوريت نہ ہونے کے باعث پيچھے رہ گيا، بر صغير (پاکستان ، بھارت، بنگلہ ديش، کشمير) مغل دور ميں دنيا کي پچيس فيصد جي ڈي پي تھي ليکن آج يہ ممالک غربت سے لڑ رہے ہيں ۔ کيوں کہ جمہوريت نہ ہونے کے باعث پيسہ بادشاہوں کي عياشيوں، حرم، مرغوں کي لڑائيوں، ميلوں ٹھيلوں اور آپس کي جنگوں ميں لگتا رہا، اس پيسے کا صحيح استعمال نہيں ہوسکا، بہتر ہتھيار نہيں بن سکے، اچھي فوج نہيں بن سکي، يونيورسٹياں، انفرا اسٹرکچر نہيں سکا۔ نہ صرف ملک دنيا سے پيچھے رہ گيا بلکہ معاشرہ بھي آگے نہيں جاسکا ۔ تقسيم ہند کے شروعات کے دور ميں پاکستان دنيا کا تيزي سے ترقي کرنے والا ملک تھا، پاکستان ايئر لائنز دنيا کي بہترين ايئر لائن تھي، يہ اسٹريکچر انيس سو سينتاليس سے انيس سو اٹھاون تک ہي بنا تھا، جب بغير کسي اچھے دستور کے ہي سہي ملک ميں ايک جمہوري سويلين بالادستي تھي، بعد ميں بيوروکريسي نواب يا بيگ ہوکر اداروں پر قابض ہوگئي اور جرنيلوں نے بادشاہوں والي روش اپنا لي، ملک پہلے دو ٹکڑے ہوا پھر ہر طرح سے تباہ ہوتا چلا گيا، يہاں تک کہ آج پاکستان معاشي سہارے ڈھونڈ رہا ہے، پاکستان کا نام لسٹوں ميں ڈال کر بليک ميل کيا جارہا ہے۔ ملک کو نچلي سطح سے اوپر لانے کے ليے ہر سطح پر جمہوريت ضروري ہے، يعني ملک کے فيصلے وہ کرے جسے ملک ميں رہنا ہے، جو ملک کے اصل مالک ہيں، اگر اسلام کے اعتبار سے بھي ديکھا جائے تو رياست اصل ميں اللہ تعاليٰ کي ملکيت ہے، جو اس نے اپنے بندوں يعني انسانوں کے ليے بنائي ہے ۔ اسلامي نظريہ يہ ہے کہ اللہ تعاليٰ نے دنيا ميں ہر چيز انسانوں کي بھلائي کے ليے پيدا کي ہے ۔ يقيناً رياست انہيں سب چيزوں ، زمين، درخت، ہوا پاني مٹي وغير کا ہي مجموعہ ہے ۔ گلي محلوں، گاؤں گوٹھوں ، شہريوں کو کس طرح چلانا ہے وہي شخص صحيح فيصلے کر سکتا ہے جو وہاں رہنے والا ہے، ملک کو کس طرح چلانا ہے وہي شخص بہتر کر سکتا ہے جس کے تمام مفادات اس ملک سے وابستہ ہيں، جس نے حکمراني چھوڑنے کے بعد دوبارہ عام آدمي جيسي زندگي گزارني ہے ۔ ترقي کا راستہ جمہوريت ہے، پاکستانيوں کو اس نظام کو پوري طرح اپنانا ہوگا، ہر سطح پر جمہوريت کے ليے کوششيں کرنا ہوں گي، سويلين بالادستي کو تھام کر رکھنا ہوگا۔ عوام فيصلہ کرنے کے صحيح مجاز ہوں گے، جمہوريت پھلے پھولے گي تو وہ وقت ضرور آئے گا جب سرکاري ملازم يا پوليس اہلکار خود کو آپ کا ملازم سمجھے گا۔ جب ملک ميں انصاف اور شفافيت ہوگي، کرپشن سے جان چھوٹے گي ۔ غربت پر قابو پايا جاسکے گا۔ عام آدمي کو بہتر سہولتيں ميسر ہوں گي، ٹيکسوں کا پيسہ عوام پر خرچ ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.