کراچی سے آخرمکھیاں کیاچاہتی ہیں؟

0

خوش قسمتی سے کراچی 95فیصدریونیو جنریٹ کرتاہے۔ مگربد قسمتی سے پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں ناقص بلدیاتی نظام سیاست کاشکارہے۔

اس مسئلے پر یہ کہانی صحافی جنید شاہ سوری نے کئی ہفتوں پہلے لکھی تھی مگروقت کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایڈیٹرکو ارسال نہیں کرسکے۔ اس موضوع نے واشنٹن پوسٹ،بی بی سی اردو،انڈیپینڈنٹ اردو سمیت کئی اہم عالمی نیوز اداروں کی ویب سائٹس پرجگہ بنائی۔ اب آپ بھی باجور ٹائمز کی ویب سائٹ پر پڑھ سکتے ہیں۔

شروع کرتے ہیں سیاستدان کچرے کا صفایا چاہتے ہیں؟ یا گندگی کےدھیڑ اورغلاظت سےکراچی کے باسیوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں اور کوڑاکرکٹ سےجگہ جگہ شہریوں کو خوش آمدید کرناچاہتے ہیں۔ سوال بنتاہے ادارے بیانات الزامات،رونا دونا،گلے شکوے سے ہٹ کرکب کراچی کو ریلیف دیں گے؟

ایک خبرکےمطابق کراچی میں 16ہزارٹن کچرےکی پیداور ہوتی ہے جس میں 30فیصد باقیات کراچی کےسڑکوں پر رہ جاتی ہے۔ کچرے کے ڈھیرسےجنم پانے والی مکھیاں آج کل کراچی کےباسیوں کوگھر،ہوٹلز،دفاتر،اپستال یعنی ہر وہ جگہ جہاں انسان کی پہنچ ہے وہاں خوش آمدیدکہتی ہوئی نظرآتی ہیں۔

کراچی میں موجود باجورٹائمز کےنمائندے جنید شاہ سوری نےتنگ آکر کراچی کےعلاقے میٹروویل میں کچرے کے ڈھیرکا رخ کیا۔ وہاں پرکھڑے ہوکر کچھ مکھیوں سے سوال کیا آخر آپ مکھیاں ہم انسانوں سے کیا چاہتی ہیں؟

کچھ مکھیوں نےبن بناتے ہوئے بتایا کہ ہم آپ کا کچرے کے ڈھیرپرسواگت کرتے ہیں۔آپ یہاں کیوں آئے؟ ہمارے کچھ ساتھی مکھیاں آپ کے گھرپرموجود ہیں۔ آپ ان سے دفترمیں بھی میٹنگ کرسکتے ہیں۔آپ نے آنے کی تکلیف کیوں کی؟ شکر ہےہمیں خوشی ہے کہ  آپ کو ہمارا خیال آیا،آپ نے ہمیں کوریج دینے کی کوشش کی۔ آپ صحافی لوگ سیاستدانوں کے چنگل سے نکلیں گے توہمارے بارے میں سوچیں گے۔ ہمارا اس ملک میں ایک بڑااہم کردارہے۔ ہماری ایک بڑی فوج بن چکی ہے۔ ہم بھارت پرحملہ آور ہونے میں پاکستان کی مدد کریں گے۔ یہ سب باتیں یہ شکوے کچرے کے ڈھیرپر موجود مکھیوں کی تھی۔

 یہ سن کر شاہ سوری طیش میں آیا اور پوچھا کہ آخر کیا چاہتی ہیں یہ مکھیاں کراچی کےباسیوں سے؟ کراچی میں کیوں اور کہاں سے آئی ہیں؟؟؟ اب تک شہرقائد میں آپ لوگوں نے کیا کیا؟

ایک مکھی نمائندے کے کندھے پر آکربیٹھ گئی کہا کہ غور سے سنیں اس کائنات میں ایک لاکھ 20 ہزار سے بھی زائد ہم مکھیوں کی اقسام موجود ہیں۔

کراچی میں ناقص بلدیاتی نظام کے باعث ہماری پیداوار کیلئے ہر قسم کی سہولت موجود ہے۔جیسے کہ ہر محلے کی ہر گلی کے کونے میں کوڑاکرکٹ اور غلاظت کے ڈھیر، سڑکوں پر قربانی کے جانوروں کی باقیات، حالیہ مون سون بارشوں کے بعد جگہ جگہ کھڑا ہوا خون آلود پانی اور سڑکوں پر ابلتے ہوئے گٹرکے پانی سے ہم نے جنم لیاہے۔ یہ سہولیات متعلقہ اداروں نے ہمیں فراہم کی ہیں۔ آپ جاکران سے پوچھیں نہ کے یہاں ہمارا دماغ کھائیں۔

ہمیں پتاہے کہ آپ کے ملک میں سیاستدان کچرے پر سیاست کررہے ہیں۔ محکمہ صحت ستو پی کرسورہی ہے۔شعبہ ابلاغ عامہ سیاستدانوں کی تقریروں اور بیانات کوترجیح دینے میں مصروف ہیں۔اسی چیز کو موقع بناتے ہوئے ہم نے کراچی میں پچھلے چند ہفتوں میں ملیریا اور ڈینگی،اور پیٹ کی بیماریاں پھیلانےمیں اہلیانِ کراچی کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا ہواہے۔

مکھیوں کی بات کوتصدیق کیلئے ہم نے صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او سے بات کرنے کی کوشش کی انہوں نے بتایاکہ ایسے مقامات جہاں کھانے پینے کی اشیا سے بننے والا کوڑا کرکٹ یا پھر نامیاتی مادہ یعنی آرگینک مےٹر جیسے کہ فضلہ یا گوبر موجود ہو اور کھلی نالیاں جہاں سیوریج کی گندگی جمع ہو، مکھیوں کی پیداوار کیلئے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔

نمائندہ شاہ سوری نے یہ سب سن کرسر شرم سے جھکاتے ہوئےکندھے پر بیٹھی مکھی کوجواب دیا خداراہ ہمیں معاف کردیں ہماری قوم کو بیمار نہ کریں چلے جائیں۔میں نے اس مسئلے کے حل کیلئےانتظامیہ اور ماہرین سے مدد لینے کی کوشش شروع کردی۔

میں نے کراچی میں بلدیات کی خبروں پر گہری نظر رکھنے والےایک صحافی سےسوال پوچھاکہ کیسے یہ سب ممکن ہوا؟متعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داری کیوں پوری نہیں کی؟

انہوں نے بتایا کہ ہرسال بلدیاتی اداروں کی جانب سے عید الاضحی کے بعد جراثیم کےخاتمےکیلئے چونے کا چھڑکاؤ کیا جاتا تھا ماحول میں نمی ہونے کے باعث چونے کی افادیت کم ہوجاتی ہے اس لیے اس سال عید الاضحی اور بارشوں کے فوراً بعد جراثیم کش سپرے ہونا ضروری تھا مگر نہیں ہوسکا۔دس دن گزر جانے کے بعد جب سڑکوں پر جانوروں کی باقیات سڑ چکی تھیں اور مکھیوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہو گیا تب میئر کراچی وسیم اختر نےجراثیم کے صفایاسےمتعلق اسپرے کا کام شروع کیا جس کے تحت 40 گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں لیکن پانچ گاڑیاں ایک ضلع میں بھیجی جاتی ہیں جو کچھ دیر سپرے کرکے وہاں سے روانہ ہو جاتی ہیں۔

ہم آزادی کے72سالوں بعد بھی صفائی کا نظام نہیں بناسکے:

ایک اندازے کے مطابق کراچی کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ روشنیوں کا شہر روزانہ 15 ہزار ٹن کچرا پیداکرتاہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہر روز صرف 10 سے 12 ہزار ٹن کچرا ٹھکانے لگایا جارہا ہے۔

ماہرین کے مطابق کراچی میں صفائی کا سنگین مسئلہ بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔ شہر میں پیدا ہونے والے کچرے کو تلف کرنے کا کوئی مربوط مرکزی نظام موجود نہیں ہے۔ شہر بھر کے نالوں پر مکانات بنادیے گئے ہیں۔کراچی میں چینی کمپنی سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ جبکہ بقیہ ڈی ایم سیز، کنٹونمنٹ بورڈز اور دیگر شہری ادارے ٹھکانے لگاتے ہیں۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر اے ڈی سنجنانی کا کہتےہیں کہ کراچی کا موسم مکھیوں کی نشونما کے لیے انتہائی سازگار ہے

انھوں نے بتایا کہ مکھیوں کے انڈے کچرے کے ڈھیروں اور زمین کے اندر موجود ہوتے ہیں اور جب اُنھیں مناسب نمی اور درجہ حرارت ملتا ہے تو وہ افزائش کے بعد باہر آجاتے ہیں۔

مگرجب ڈاکٹر سنجنانی سے سوال کیا گیا کہ کیوں متعلقہ ادارے شہرکوصفائی کا بہتر نظام نہیں دے سکے؟ انہوں نے ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایاکہ شہر میں مکھیوں کی بہتات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کراچی میں صفائی کا نظام ویسا نہیں ہے جیسا ہونا چاہیےتھا۔

مکھیوں سےاب تک کے نقصانات کاجائزہ:

جناح پوسٹ گریجویئٹ میڈیکل سینٹرکی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹرسیمی جمالی کہتی ہیں کہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر100 سے زائد مریض ایمرجنسی میں آرہے ہیں۔

 سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ اس بار مکھیوں کی کثرت کی وجہ سے ڈائریا، ٹٓائیفائیڈ، گیسٹروانٹرائٹس اور مچھروں کی وجہ سے ملیریا، ڈینگی اور چکن گنیا کے کافی کیسز آرہے ہیں۔ گندے پانی کی وجہ سے وائرل ہیپاٹائٹس اے اور ای بھی کافی پھیل رہا ہے اور آنکھوں کے انفیکشن اور کھانسی نزلہ زکام کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نےگزشتہ روز واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں ایک ہی مقام سے 200 سے زائد چینی باشندے ڈینگی کے مریض سامنے آئے ہیں۔

مکھیوں کی پیداوار روکنے کا صحیح طریقہ:

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کی تحقیق کے مطابق مکھیوں کو کیمیکل یعنی کیڑے مار دوا یا مکینیکل ذرائع جیسے ٹریپ، چپچپا ٹیپ یا بجلی کے کرنٹ لگنے والی  گرڈ سے مارا جاسکتا ہے۔ تاہم  ماحولیاتی صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کو بہتر بنا کر ہی دیرپا نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق مکھیوں کی افزائش کے تدارک کے لیے کوڑا ایک ہی جگہ جمع ہونا چاہیے تاکہ مکھیوں کو افزائش کیلئے کم سے کم جگہ ملے۔ سب سے ضروری بات کوڑے دان کو پلاسٹک کی چادریں یا دیگر فلائی پروف مواد سے ڈھانپنا چاہیے۔ اس عمل سے مکھیوں کو انڈے دینے سے روکا جاسکتا ہے کیونکہ کچرا سڑ جانے کے عمل میں پیدا ہونے والی حرارت مکھیوں کو انڈے دینے کے لیے درکار ہوتی ہے اور یہ حرارت نہ ملنے کی صورت میں مکھیوں کی افزائش رک جاتی ہے

عالمی ادارہ صحت کیا بتاتی ہے؟ معاشرے میں آگاہی کتنی ضروری ہے؟

عالمی اداراہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق مکھیاں رینگتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے بیماری پیدا کرنے والے حیاتیات یعنی مختلف قسم کے بیکٹیریا اور وائرس کو اٹھا لیتی ہیں۔ وہ حیاتیات جو مکھی کی بیرونی سطحوں پر قائم رہتے ہیں وہ صرف چند گھنٹوں کے لیے زندہ رہ سکتے ہیں، لیکن جو کھانے میں پائے جاتے ہیں وہ مکھی کی آنت میں کئی دن زندہ رہ سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ مکھیاں گندگی اور صاف ستھری اشیا پر ایک ہی طرح سے اپنا فضلہ چھوڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں۔

کراچی میں کام کرنے والے 200سےزائد چینی باشندوں کوڈینگی ہوگیاہے۔صوبائی وزیرصحت نےبتایاکہ ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کو اس سے بچاؤ کا اندازہ نہیں تھا۔ بچاؤ کیلئے آگاہی مہم ضروری ہے

واضح رہے کہ صوبے میں رواں سال اب تک 1200 سے زائد افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جن میں سے 6 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

بیماریوں سے کیسے بچا جائے:؟

کراچی کےمختلف معالج تجاویز دیتے ہیں کہ مکھیاں بالغ انسانوں سمیت بچوں کی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ ’آج کل بچوں میں ڈائریا اور پیچش بہت عام ہیں۔ اِس کے علاوہ ہیپاٹائٹس اے، ہیپاٹائٹس ای اور آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریاں بھی مکھیوں کے ذریعے پھیلنے والے وائرس سے ہوسکتی ہیں۔‘

احتیاطی تدابیر کے طور پر کراچی کے لوگ گلی محلوں میں تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں۔ گھر پر تیارکردہ صاف وستھرا گرم چیزوں سے مستفید ہوں۔

اگر سبزیاں اور پھل استعمال کریں تو اُنھیں اچھی طرح دھویا جائے اور پھر صاف ہاتھوں سے کاٹ کر اُسی وقت ختم کر لیا جائے تاکہ مکھیوں کو ان پر بیٹھنے کا موقع نہ ملے۔

بچوں کے حوالے سے بنیادی احتیاط یہ بتاتے ہیں کہ اُنھیں پانی اُبال کر دیا جائے اور اگر اُنھیں دست ہو جائیں تو فوراً نمکیات دیے جائیں اور ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے۔

جے پی ایم سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا تھا کی لوگوں کو بھی اپنی صحت کا خیال کرنا چاہیے، لوگ جگہ جگہ کچرا نہ پھینکیں، کثرت سے ہاتھ دھوئیں، گھر میں پانی ابال کر پیئں تاکہ اس طرح کی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

صفائی نصف ایمان ہے:

مکھیوں پر قابو پانے کے لیے کچرے سے نجات ضروری ہے اور یہ اُسی وقت ممکن ہے جب ہر شخص اپنے فضلے کی ذمہ داری خود لے۔

اچھے ذمہ دار شہری بننےکاثبوت دیں۔ آپ کوچاہیے کہ کچرے کو کھُلا نہ چھوڑیں بلکہ اُسے کسی تھیلے یا کوڑے دان میں ڈال کر بند کردیں تاکہ مکھیاں اُن سے جراثیم نہ اکھٹے کرسکیں۔ اِس کے علاوہ اپنے اردگرد بھی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے اور گھر کے چاروں اطراف چُونا چِھڑکیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.