چترال : ورکشاپوں میں مستریوں کے پاس کوئی حفاظتی سامان موجود نہیں،چائلڈ پروٹیکشن خاموش

0

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے مستری خانوں کی حالت زار نہایت ناگفتہ بہہ ہے۔ ان مستری حانوں میں کام کرنے والے موٹر میکنیک  کے پاس نہ تو حفاظتی سامان ہیں اور نہ ا ن کی تحفظ کیلئے کسی سرکاری یا غیر سرکاری اداروں کی طرف سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

محمد اسحاق موٹر میکینک ایسوسی ایشن کا صدر ہے اور وہ اپنی تئیں ان کی حفاظت کیلئے تگ و دو کرتا ہے مگر ابھی تک اسے حاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان مستری خانوں میں کام  کرنے والے مستری خود محفوظ نہیں ہیں۔ یہ لوگ سارا دن  پٹرول، ڈیزل اور کیمکل سے کھیلتے ہیں  اور گاڑی کے نیچے جاکر ان کی مرمت کرواتے ہیں۔  مگر نہ تو ان کے پاس ہلمٹ ہے کہ ان کی سر پر چوٹ لگنے سے ان  کو بچائے  نہ دستانے اور نہ محفوظ بوٹ۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک مستری اس وقت جاں بحق ہوا جب وہ ایک بیٹری کو مرمت کررہا تھا کہ وہ اچانک دھماکے سے پھٹ گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہاں نوجوان طبقہ  اکثر منشیات کی لعنت میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو منشیات سے بچانے کیلئے  میں نے ٹورنمنٹ کا اہتمام کیا جس میں 45 محتلف ٹیموں نے حصہ لیا۔  مگر اس کے ساتھ کسی نے کوئی تعاون نہیں  کی۔

ان مستری حانوں میں  کم عمر بچے بھی کام کرتے نظر آئے۔ ہمارے نمائندے نے ان بچوں سے بات کرنے کی کوشش کی جن میں سے اکثر بات کرنے سے کتراتے تھے۔ تاہم چند بچوں نے بتایا کہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے  مستری کا کام کرتے ہیں  جب ان سے پوچھا گیا کہ جب آ پ کے ہم عمر بچے صبح پینٹ شرٹ پہن کر ٹائی باند ھ کر سکول جاتے ہیں اور آپ گندے کپڑے پہن کر مستری خانہ جاتے ہو تو کیسے محسوس ہوتا ہے۔ تو ان کا کہنا ہے ہمیں دکھ ہوتا ہے مگر کیا کرے ہماری مجبوری ہے والدین ہماری تعلیم کی خرچے پورے نہیں کرسکتے۔

ان میں سے اکثر کی والدین معذور، نادار ہیں  جن کا واحد سہارا یہ بچے ہوتے ہیں۔۔ان بچوں کا یہ عمر سکول  جانے کا ہے ان کے ہاتھ میں پنسل، قلم اور کاپی ہونا چاہئے تھا مگر پنسل کی جگہہ ان کی معصوم ہاتھو ں میں  ہتھوڑا، پلاس اور اوزار ہوتا ہے۔چند بچوں نے خواہش ظاہر کی کہ اگر حکومت یا کوئی غیر سرکاری ادارہ ان کی تعلیمی اخراجات برداشت کرے اور ان کے والدین کو دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرلے تو ہ تعلیم  حاصل کرنے کیلئے ضرور سکول جائیں گے۔

مستری ایسوسی ایشن کے صدر محمد اسحاق نے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ ان غریب بچوں کی تعلیم کا سرکاری طور پر بندوبست کی جائے اور ان کی والدین کو کچھ خرچہ دینے  کی بندوبست کی جائے تاکہ یہ بچے مستری بننے کی بجائے ایک ڈاکٹر، انجنئیر

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.