ضلع خبیر کے تہذیب۔ ثقافت ۔ رسم و رواج:تحریر انواراللہ خان

0

لنڈی کوتل کے لوگوں کے تہذیب۔ ثقافت ۔ رسم و رواج ۔ اور مہمانوازی دیگر قبائلی اضلاع کے لوگو ں سے کس قدر مختلف ہیں ۔۔

ویسے تو مجھے کئی حوالوں سے کئی سالوں سے ضلع خبیر کے مختلف علاقوں ۔ تحصیلوں اور قصبوں کا انا جانا ہے اور ضلع خبیر کے دونوں بڑے اقوام – افریدی اور شینواری کے زیادہ تر قبیلوں کے رسم وراج ۔ تہذیب و تمدن ۔ بودوباش اور ثقافت کے بارے میں کچھ نہ کچھ واقف ہوں ۔ اور ضلع خیبر کے تاریخ ۔ ثقافت اور لوگوں کے طرز زندگی کے بارے میں کچھ نہ کچھ جانتاہوں لیکن گزشتہ روز ضلع خیبر کے صدر مقام لنڈی کوتل میں اپنے صحافی دوست جبران شینواری جو کہ حاجی مراد خان ( مرحوم) سابق نواب اف لنڈی کوتل کے قریبی عزیز ہے کی شادی کی تقریب کے بہانے اپنے قریبی دوستوں مشترم خان ممہند ۔ عمر یونس ۔ جہانزیب افریدی اور محبوب افریدی سمیت جانے کا موقع ملا – ہمارا یہ دورہ نہ صرف اس لحاظ سے ماضی کے دوروں سے منفرد تھا کہ ہم نے لنڈی کوتل کے افریدی اور شنیواری قوم کے شادی کی رسم وراج کو قریب سے دیکھا بلکہ ان دونوں بڑے اقوام کے عمائدین ۔ مشران اور جوانوں کو بھی بہت قریب سے دیکھا اور ان کے تہذیب ۔ ثقافت ، تہذیب اور تمدن کے حوالے سے بہت سی معلومات حاصل کی۔ مجھے ان لوگوں کے بہت چیزیں ۔ ( رسم و راج ۔ ثقافت۔ اقدار ۔ عادتیں بہت اچھے لگے ۔ کچھ عجیب اور کچھ غریب بھی ۔
میں چاہتاہوں کہ اپنا مشاہدہ اور معلومات اپ تک بھی پہنچادو تاکہ اپ کو بھی ضلع خیبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکیں ؛


لنڈی کوتل کے لوگ گرین ٹی ( قہوہ ) کی بہت دل دادہ ہے
جب ہم ضلع خیبر کے حدود میں داخل ہوئے تو میں اور دیگر ساتھیوں نے بلیک ٹی یا دودہ والی چائے پینے کی خواہش ظاہر کی کیونکہ ایک تو ہم دودہ والی چائے کی بہت عادی ہے اور دوسرا یہ کہ سفر میں دودہ والی چائے تکھاوٹ ختم کرنے کے لیے ایک مفید اور ازمودہ نسخہ مانا جاتا ہے اور یوں چائے کی تلاش میں راستے میں انے والے بیشتر ہوٹلوں ( ریسٹورنٹوں ) میں پوچھتے رہے لیکن یہ دیکھ کر عجیب لگا کہ یا تو ان ہوٹلوں ( ریسٹورنٹس ) میں سرے سے کسی قسم کی چائے پکانے کا رواج ہی نہیں اور پھر اگر ہے تو صرف اور صرف سبز چائے یعنی قواہ کا رواج ہے ۔ لیکن جس طرح راستے میں انے والے کم از کم نصف درجن ہوٹلوں ( رسیٹورنٹس) میں صرف سبز چائے کا رواج تھا اسی طرح ہمیں بھی صرف اور صرف دودہ والی چائے پینے کا ہی طلب تھا اور فیصلہ کیا تھا کہ ہر قیمت پر ہم دودہ والی چائے ہی پییں گے ۔ جب ہم لنڈی کوتل کے مین بازار سے محض دو اڑھائی کلومیٹر کے فاصلے پر تھے تو مین طورخم – پشاور ہائے وے پر ( دائیں جانب ) ایک ہوٹل( ریسٹورنٹ ) نظر ایا جہاں پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد چائے پینے میں مصروف تھے یہ منظر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اب ہماری چایئے پینے کی خواہش بھی پوری گی ۔
میرے ساتھی مشترم خان نے جیسے ہی گاڑی سڑک کے کنارہ روکا میں فوری طور پر ہوٹل کی جانب گیا اور سلام کے فوراً بعد بلیک ٹی ( دوہ والی چائے کی بارے میں دریافت کیا ۔ پہلے تو ہوٹل والوں نے یک زبان ہوکر کہاکہ یہاں پر دودہ والی چائے نہیں ملتی صرف گرین ٹی – سبز چائے ہی ملتا ہے اگر سبز چائے پسند کرتے ہو تو ٹھیک ورنہ یہاں کی کسی ہوٹل میں دودہ والی چائے نہیں ملے گا ۔ میرے ان کے ساتھ قدرے شائستہ گفتگو اور اپنے طرز گفتگو کے بعد ہوٹل والوں کی موقف اور لہجہ میں کافی مثبت تبدیلی اگئی اور کہنے لگے کہ دودہ والی چائے تو ملے گا مگر ملک پیک ہی کا کیونکہ یہاں پر ہوٹلوں میں کھلا دودہ نہیں ملتا ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے کھلا دودہ نہ سہی ملک پیک والی دودہ سہی لیکن ایک شرط پر کہ پہلے میں ملک پیک چیک کرونگا کہ کس کمپنی کی بنی ہے اور کوالٹی کیسی ہے ۔ ہوٹل کے ایک ویٹر نے ملک پیک مجھے دیکھایا جس پر لکھا تھا ۔ "
ٹی مکس” میرے لیے یہ نام نیا تھا لیکن چونکہ ہمیں کارخانو مارکیٹ سے دودہ والی چائے پینے کی طلب تھی اسی وجہ سے میں نے کہا ” ٹھیک ہے بس اسی میں بناو”
لگ بھگ دس پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد چائے اگئے ۔ چائے کا ذائقہ تو کافی اچھا تھا اور یوں محسوس ہوا کہ چائے ملک پیک میں نہ ہی بھینس یا گائے کی دودہ میں بنی ہو ۔۔ چائے پینے کے بعد ویٹر سامان اٹھانے اگیا تو میں نے کہا کہ ” کتنے پیسے ہوگئی ” ویٹر نے کہاکہ ہم مہمانوں سے پیسے نہیں لیتے ۔۔ میں نے کہاکہ یہاں تو ہر کوئی مہمان اتا ہے ۔ اس نے کہاکہ یہ ٹھیک ہے لیکن اپ لوگ خاص مہمان ہیں کیونکہ اپ لوگوں کی شکل و صورت اور گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ اپ کہیں دور سے ائے ہیں ۔ کافی منت و سماجت کے بعد ویٹر کو چائے کی پے منٹ لینے پر مجبور کیا ۔۔ ابھی ہم سڑ ک کنارہ دیگر دوستوں کا انتظار کررہے تھے کہ ہمارے دوست اور ہوسٹ جبران شینوری ( جس کی شادی میں ہم مدعو تھے ) کی طرف سے مجھے اور میرے ہر دلعزیز ساتھی مشترم خان مہمند – عرف ( مامو) کو لگاتار موبائل کالز انے لگیں کہ ” اپ کہاں ہوں ۔ ؟ اپ کی چائے حجرے میں کافی دیر سے لگی ہے ” جلدی اجائیں پھر چائے کا مزہ خراب ہوگا ۔۔ ہم نےکہاکہ بس ہم دس بیس منٹ میں ارہے ہیں ۔ اسی میں ہم اپنے ہمسفر دوستوں کے انتظار میں لیٹ ہوگئی تو پھر سے ہمارے ہوسٹ کی جانب سے کالیں انا شروع ہوگئی ” یار کہاں ہوں ۔ چائے تیار ہے اور دیگر مہمان اپ لوگوں کا انتظار کررہے ہیں ” ہم نے کہاکہ بس ارہے ہیں ۔ اسی میں ہمارے دوست بھی اگئے اور یوں ہم اپنے ہوسٹ ( دوست) جبران شنیواری کے گھر روانہ ہوگئے ۔ راستہ تو اتنا نہیں تھا لیکن گھر کے راستہ کی مسنگ کی وجہ سے ہمیں ان گھر جانے میں لگ بھگ تیس منٹ لگے جو ان کے حساب سے پندرہ منٹ زیادہ تھے ۔جب ہم وہاں پہنچے تو لگ بھگ ایک سو پچاس سال پرانے ۔ شاہانہ طرزتعمیر (عالباً مغل دور) کے وسیع اور عریض حجرہ مہمانوں اور مقامی لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہواتھا جبکہ حجرے میں انے والے مہمانوں کے استقبال کے لیے جگہ جگہ لوگ کھڑے تھے جو اپنے مخصوص انداز میں مہمانوں کو خوش امدید کہتے تھے ۔
لوگوں سے علیک سلیک کے بعد ہمیں ایک بڑے ہال میں لے جایاگیا جس کے بارے میں مقامی لوگ فرمارہے تھے کہ یہ ایک سو پچاس سال پرانی ہے ۔ ہال میں لگے دروازے ، کھڑکیاں اور دیگر سازوسامان سے بھی ثابت ہوا کہ یہ ابادی مغل یا دیگر سابق حکمرانوں کے دور کے ہیں کیونکہ ان پر کافی نقش نگاری کی گئی تھی اور موجودہ دور کے سازوسامان کے مقابلے میں کئی گنا مظبوط اور مختلف لگ رہے تھے ۔ ہال میں لگے دروازے اور کھڑکیاں ہمارے موجودہ دور سے بہت مخلتف تھے ساتھ ہی ہال کے دیوار اور بہت کچھ بھی کافی شاندار تھی ۔ وہاں موجود مقامی لوگوں جن میں بڑے عمر کے لوگ شامل ہیں نے ہمیں بتایاکہ یہ عمارت ہمیں یاد نہیں کہ کب بناہے ۔ لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ یہ قیام پاکستان سے لگ بھگ چالیس پچاس سال قبل بنے ہیں۔


لاجواب اور شاندار چائے :


گوکہ لنڈی کوتل کے دونوں بڑے اقوام ۔ شنیواری اور افریدی کے زیادہ تر لوگ سبز چائے ( گرین ٹی ) یا قہوہ کو پسند کرتے ہیں لیکن جو چائے ہم نے شام کے بعد پیا وہ انتہائی شاندار اور اپنی مثال اپ تھا ۔ ہمیں بتایاگیا کہ لنڈی کوتل کے لوگ جس طرح اچھے پینے اور اور اچھے کھانے کے عادی ہیں اس طرح وہ پینے اور کھانے کے چیزوں کے بنانے میں بھی اپنی مثال اپ ہیں اور مزید کہا گیا کہ اپ یہاں کے گرین ٹی – سبز چائے اور کھانے دیکھیں گے وہ بھی اپ کو بہت اچھے لگیں گے ۔


مسجد اور حجرہ ساتھ ساتھ :


ویسے زیادہ تر پختون علاقوں بالخصؤص قبائلی علاقوں میں پہلے یہ روایت بہت عام تھا کہ جہاں پر حجرہ ہوتا تھا وہاں پر مسجد بھی ساتھ ہوتاتھا لیکن گزشتہ کئی سالوں سے اس روایت میں کافی تبدیل اگئی ہے اور اب بہت کم علاقے ایسے ہیں جہاں پر مسجد اور حجرہ ساتھ ساتھ ہو ( میرے رائے کے مطابق) لیکن لنڈی کوتل میں اب بھی یہ روایت زندہ ہے اور ہر گاوں ۔ علاقہ میں اپ کو مسجد اور حجرہ ساتھ ساتھ ملے گا ۔ ہمارے ہوسٹ کا حجرہ اور مسجد بھی ساتھ ساتھ تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق – مسجد اور حجرے کے ساتھ ساتھ کے بہت سی فوائد ہیں اور سب سی اہم فائدہ یہ ہے کہ اسی طرح کے تقریبات میں لوگ مسجد میں بھی بیٹھ جاتے ہیں۔


بڑوں اور چھوٹوں کے الگ الگ نشستیں :


ویسے تو ہمارے سارے پختون علاقوں میں یہ روایت کئی عشروں سے موجود ہیں کہ بڑے اور چھوٹے عمر کے لوگ الگ الگ جہگوں میں بھیٹتے ہیں ، لیکن لنڈی کوتل میں یہ روایت بہت زیادہ ہے ۔ نہ صرف یہ روایت زندہ ہے بلکہ بڑوں کے اداب اور چھوٹو ں سے شفقت کا روایت بھی کافی مظبوط ہے ۔ میں نے وہاں پرجوانوں کو اپنے بڑوں کے انتہائی عزت اور تعظیم کرتے ہوئے دیکھا ، اسی طرح بڑوں کی جانب سے اپنے چھوٹوں کے ساتھ انتہائی شفقت اور محبت کا جذبہ دیکھا ۔ میں وہاں مہمانوں کی زیادہ رش اورگہماگمی کے باوجود کسی شخص کی جانب سے دوسرے کے لیے معمولی نازیبا لفظ تک نہیں سنا جو کہ عام طور پر اسی طرح کے رش اور گہماگمی والی تقریبات میں ہوتا ہے ۔
رات کے کھانے کے بعد سبز چائے پینے ( گرین ٹی ) اور پیدل واک لازمی عمل:
لنڈی کوتل میں رات کے کھانے کے بعد ( دس بی منٹ بعد ) سبز چائے – یا قہوہ پینے کا بہت زیادہ رواج ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق انہیں نہ کھانے کا مزہ اتاہے اور نہی نیند اتا ہے جب تک کھانے کے بعد سبز چائے یا قہوہ نوش نہ کریں ۔ لوگوں کے مطابق ان کے سمارٹنیس اور اچھی صحت کا راز کھانے کے بعد ( دونوں کھانوں – دوپہر اور رات) سبز چائے کا پینا ہے اور وہ بھی کم از کم دو کپ ، ساتھ ہی رات کے کھانے کے بعد کم از کم بیس منٹ تک پیدل واک کرنا بھی ان لوگوں کا معمول ہے ۔

مقامی لوگوں کا اتحاد اور اتفاق:


ویسے تو ہمارے زیادہ تر علاقوں میں یہ صفت موجود ہیں لیکن جو اتحاد اور اتفاق لنڈی کوتل کے لوگوں میں میں نے دیکھا وہ اپنی مثال اپ ہے ۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ ان کے علاقہ میں کسی کی بھی شادی اور اس طرح کی تقریبات ہو وہ سب نہ صرف شرکت کرتے ہیں بلکہ مہمانوں کے خدمت کے لیے کئی دنوں تک وہاں پر موجود ہوتے ہیں اور امیر اور غریب کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا ۔

اعلیٰ کھانے مگر بھیٹینے کی انداز سادہ اور روایاتی :


اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے سارے علاقوں کے کھانے( طعام ) بالخصوص شادی بیاہ میں بہت ہی شاندار۔ جاندار اور اعلیٰ ہوتے ہیں لیکن سارے لنڈی کوتل میں شادی بیاہ کے کھانوں بالخصوص ولیمہ کے کھانوں کا ایک اپنا انداز اور شان ہے ۔ لنڈی کوتل میں لوگ ولیمہ میں بہت کم ڈشیں بناتے ہیں لیکن مٹن۔ بیف ۔ چاول اور سبزی کے ایسے ڈشیں بناتے ہیں جو ہمارے دیگر علاقوں میں بہت کم دیکھے جاتے ہیں۔ ڈشوں کے ساتھ ساتھ لنڈی کوتل کی روٹی کا بھی اپنا ایک منفرد انداز ہے ۔ میں نے اس طرح کے روٹی ۔ جو سائز میں ہمارے روایاتی رویٹوں کے مقابلے میں کم از کم تین چار گنا ڈبل ہوتے ہیں لیکن سائز میں اس سے زرا کم ہوتے ہیں ۔ یہ روٹی ( لنڈی کوتل والی ) اتنی شاندار اور نفیس ہوتے ہیں کہ میں کیا بتاوں ۔ لنڈی کوتل کے ڈشوں ( سالن ) کا انداز تو نرالا اور منفرد ہے لیکن دوسری طرف لوگوں کے بھیٹنے کا انداز وہی پرانہ اور روایاتی ہے ۔ مطلب یہ کہ لنڈی کوتل کے لوگ شادی کی تقریبات میں اپنے مہمانوں کو ہمارے جیسے بازاری کرسیوں پر نہیں بٹھاتے بلکہ زمین پر چٹائی ۔ کارپٹ یا اور کوئی چیز ڈآل کر اسے پر بٹھاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق زمین پر کھانا کھانے کی روایت بہت پرانی ہے اور یہ روایت مستقبل قریب میں بھی جاری رہے گا ۔


یکساں کھانے مساوی مہمانوازی:
سب سے اہم چیز جو لنڈی کوتل کے لوگو ں میں نے دیکھا وہ یہ کہ ان کے ہاں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں امیر اور غریب کا کوئی فرق اور امتیاز نہیں ہوتا ۔ خواہ ایک مہمان وزیر ۔ مشیر ۔ ایم این اے ۔ خان ۔ نواب یا بڑے سے بڑے افسر ہو اور دوسرا غریب سے غریب ہو ان کو نہ صرف ایک ہی جگہ پر بھیٹاتے ہیں بلکہ سب کو یکساں کھانے ( ڈشیں) پیش کی جاتی ہیں
اور اہم بات یہ محسوس کیا کہ جو مہمان بڑے سے بڑے گفٹ( تحفہ) لے اتے ہیں اور جو مہمان خالی ہاتھ اتے ہیں ان کو ایک ہی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ مطلب یہ کہ انہیں مساوی ٹریٹ کیاجاتاہے
۔۔ ہمارے ( باجوڑ ) کے طرح یہ روایت- رسم ۔ رواج لنڈی کوتل کے لوگوں میں ہر گز نہیں ہے کہ امیروں ۔ نوابوں ۔ خوانین۔ سرمایہ داروں ۔ افسروں اور ظاہری چمک دمک والے خود ساختہ بڑے لوگوں کو ایک ہی طرف بیھٹاتے ہیں اور غریب اور سادہ مزاج کے لوگوں کو دوسری طرف ( کھانے اور کھانے سے پہلے )
ایم این ایز ۔ ایم پی ایز ۔ سرکاری حکام اورغیر سرکاری مہمانوں کے ساتھ یکساں اور مساوی انداز مہمانوازی :
لنڈی کوتل کے لوگوں میں یہ صفت یا روایت مجھے بہت اچھا لگا کہ نہ تو شادی والے گھرانے کے لوگ اور نہ ہی مقامی لوگ ایم این ایز ۔ ایم پی ایز ۔ اےسی ۔ ڈی سی اور دیگر سرکاری اہلکاروں اور سرمایہ دار حضرات کا اتنا اہ و بھگت نہیں کرتے جتنے ہمارے دیگر قبائلی اضلاع بالخصوص باجوڑ میں ہیں ۔ میں نے اپنے دوست جبران شینواری کی شادی میں محسوس کیا کہ متعدد بڑے سرکاری اہلکار ۔ ایم این ایز ۔ ایم پی ایز اور دیگر بہت سی مخٰیر لوگ سرمایہ دار اور جاگیر دار لوگ ائے لیکن مجال کہ بغیر شادی والے گھر کے دو تین لوگوں کے علاوہ صحن میں موجود دیگر لوگوں نے ان برائے نام بڑے لوگوں کی طرف دیکھا بھی ہو کہ کون ائے ہیں ۔ ایک تو ہمارے باجوڑ کے لوگ ہیں جو اسی طرح کے لوگوں کی دل سی عزت اور احترام کرتے ہیں۔ لیکن لنڈی کوتل میں ہمارے جیسے یہ روایت بالکل نہیں نہیں ہے ۔ میں نے بہت سی اعلیٰ اہلکاروں اور لوگوں کو دیکھا جو دیگر مہمانوں کے ساتھ ارام اور اطمینان کے ساتھ بھیٹے تھے ۔
بہت سی لوگوں کا ان ایم این ایز، ایم پی ایز ۔ سرکاری اہلکاروں اورمخیر لوگوں کے ناموں کا پتہ تک نہیں تھا ۔ مجھے ان لوگوں کی ان کے ساتھ بے رخی پر ترس ایا مگر مقامی لوگوں کے مطابق وہ مہمان نواز ضرور ہیں مگر کسی کو سر پر بھیٹاتے نہیں کیونکہ بقول ان کے ” پشتون مساوی سلوک اور مہمانوازی پر یقین رکتھے ہیں۔
لنڈی کوتل کے لوگ باجوڑ کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے :
دورہ لنڈی کوتل کے دوران میرے وہاں کے قبائلی عمائدین ۔ صحافیوں۔ دانشوروں ، سیاسی اور سماجی رہنماوں اور کاروباری حضرات سے مختصر مگر بامعنی نشستیں ہوئی ۔ قبائلی اضلاع کے مختلف ایشیوز پر بات چیت ہوئی تاہم بہت سی لوگ ہمارے ( باجوڑ ) کے ایم این ایز ۔ ایم پی ایز اور عمائدین کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے ۔ زیادہ تر کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ باجوڑ میں کتنے ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں اور ان کے نام کیا ہیں ۔ تاہم لنڈی کوتل کے مختلف مکاتب فکر کے زیادہ تر لوگ سابق ایم این اے ( باجوڑ) شہاب الدین خان کے نام سے کافی واقف تھے ۔ اور موصوف کی فاٹا اصلاحات میں اہم کردار اور دلیری کی متعرف تھے ۔ ان لوگوں کے مطابق ہمیں شہاب الدین خان پر فخر ہے کہ ہمارے قبائلی اضلاع میں بھی شہاب الدین خان جیسا قابل ۔ دلیر اور زیرک شخص ہے ۔ لوگوں نے شہاب الدین خان کے ساتھ ملاقات ( ملنے ) کے خواہش کا اظہار کیا اور مجھ سے بار بار کہا کہ اگر ہم باجوڑ اجائے تو موصوف ہم سے ملے گا ۔۔ میں نے کہاکہ وہ ہر کسی کے ساتھ بااسانی ملتا ہے ۔ خان ضرور ہے لیکن سیاسی ادمی ہے کوئی ملنا جلنا ان سے سیکھیں۔ شہاب الدین خان کی طرح لنڈی کوتل کے زیادہ تر لوگ جماعت اسلامی باجوڑ کے ایم پی اے ( حلقہ پی کے 102) سراج الدین خان اور پی ٹی ائی ایم پی اے ( حلقہ پی کے 100) انور زیب خان ۔ سمیت جماعت اسلامی کے کئی رہنماوں باشمول صاحب زادہ ہارون الرشید کے ناموں سے واقف تھے ۔ گوکہ لنڈی کوتل کے لوگوں میں ہمارے ( باجوڑ ) کے ایم این ایز اور ایم پی ایز میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی مگر ایک بات میں کافی دلچسپی لے رہے تھے کہ ہمارے ( باجوڑ ) کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا عوام کے ساتھ سلوک اور رویہ کیسا ہے ۔ لوگ ان سے مطمین ہیں کہ نہیں ؟ اور ابھی تک لوگوں کے لیے کیا ہم کام کی ہیں ۔۔۔ میرا جواب مثبت اور مختصر ہوتا کہ بس کام ٹھیک جارہاہے ۔۔
لنڈی کوتل کے لوگ بہت شائستہ، بااخلاق ۔ ملنسار اور سادہ مزاج ہیں :
لنڈی کوتل کے لوگ جتنے مخٰیر ہیں اتنی ہی شائستہ مزاج ۔ بااخلاق اور ملسنار ہیں ۔ ہمارا لنڈی کوتل کے پوش علاقوں میں چند نامی گرامی اور بڑے بڑے مخیر لوگوں کے گھروں میں جانا ہوا لیکن یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ یہ لوگ ارب پتی ہونے کے باوجود اتنی ملسنار اور سادہ مزاج ہیں کہ میں کیا کہو۔ میرے ان میزبانوں کا نہ صرف اندرون ملک کئی بڑے شہروں میں مختلف کاروبار ہیں بلکہ کئی کے تو بیرون ملک بھی کاروبار ہیں لیکن اس کے باوجود میں نے ان سب کو بہت ملسنار ۔ شائستہ مزاج ۔ مہمان نواز اور سادہ مزاج پایا۔ میں نے متعدد میزبانوں سے ان کے سادہ مزاجی ۔ ملسناری اور مہمان نوازی کا پوچھا تو کہنے لگے ” یار بس یہ عادت ہے ہمارا ۔ ہم پیسوں اور مال سے اپنا مزاج اور اخلاق نہیں بدلتے بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ مزید اچھے ہو تاکہ لوگ ہم سے محبت کریں نہ کہ نفرت ” بعض لوگوں کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ اپنے ملسناری ۔ سادہ مزاجی اور لوگوں کے ساتھ محبت ہی کی وجہ سے حاصل کی ہے ۔۔ ہم کیوں اپنا عادت اور مزاج بدل دیں ۔۔ جو لوگ پیسے انے کے بعد اپنا عادت اور مزاج بدلتے ہیں وہ تو بہت کمینے لوگ ہوتے ہیں ۔ ہم تو کمینے نہیں ۔۔ ہم نے تو بہت کچھ دیکھا ہے ۔”
زیادہ تر مکانات ۔۔ گھر سادہ مگر عالی شان :
ہم نے کئی نامی گرامی لوگوں کے مکانات دیکھے مگر ہمارے ( باجوڑ ) کے نامی گرامی لوگوں کے مقابلے میں ان کے مکانات – گھر بہت سادہ ہیں ۔ ہم نے دیکھا کہ نامی گرامی بلکہ ارب پتی لوگوں کے مکانوں میں ہمارے ( باجوڑ ) جیسے صحن ۔ چمن اور دیگر چیزیں نہیں ہیں ۔ ہاں زیادہ تر مکانات کے مرکزی گیٹ ہمارے ( باجوڑ ) کی طرح بڑے بڑے ہوتے ہیں ۔


لوگ اخبارات اور کتب بینی کے شوقین ہیں :
لنڈی کوتل کے زیادہ تر لوگ روزانہ کے بنیاد پر اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں اور اخبارات کے ساتھ ساتھ دیگر جرائد ۔ رسائل اور کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔
موبائل فونز میں لوگوں کی عدم دلچسپی :
دورہ لنڈی کوتل کے دوران ہمارے دوستوں اور بذات خود میں نے محسوس کیا کہ یہاں کے لوگ ہمارے ( باجوڑ) اور دیگر مرجر اضلاع کی لوگوں کی برعکس موبائل فونز کے زیادہ عادی نہیں ہیں خاص کر جب وہ کسی محفل میں موجود ہوتے ہیں ۔
لنڈی کوتل کے صحافی برادری میں اتحاد و اتفاق:
دورہ لنڈی کوتل کے اخری مرحلے میں ہم لنڈی کوتل پریس کلب گئے جہاں پر ہمارے صحافی دوست پہلے سے ہمارا انتظار کررہے تھے ۔
گوکہ لنڈی کوتل پریس کلب کا عمارت ہمارے دیگر قبائلی اضلاع کے پریس کلبوں کی طرح اتنا شاندار اور عالی شان نہیں کیونکہ یہ پریس کلب کرایہ کے بلڈنگ میں قائم ہیں اور صحافی دوست اپنے جیبوں سے ان کا کرایہ ادا کرتے ہیں ۔ گوکہ حکومت اور انتظامیہ نے کئی سال قبل لنڈی کوتل میں ہر قسم کے سہولیات سے اراستہ پریس کلب تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم ابھی تک پریس کلب کے عمارت پر کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔ جب ہم پریس کلب کے عمارت جو کہ پہلی منزل پر ہے میں داخل ہوئی تو ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ ایک فعال پریس کلب ہے جو ہمارے باجوڑ کے پریس کلب کی طرح نہیں ہے جو صرف نام کا پریس کلب ہے باقی سب خیر خیریت ہے۔


ہم پریس کلب کے مرکزی ہال میں داخل ہوئی تو وہاں موجود ایک درجن سے زیادہ صحافی دوست اپنے کاموں میں مصروف تھے ۔ کوئی لیپ ٹاپ پر کام کررہے تھے کوئی کاعذ پر خبر بنارہے تھے کوئی اخبارات کے لیے خبریں بنارہے تھے تو کوئی اپنے ٹی وی اور ریڈیو چینلز کے لیے رپورٹس کے ایڈٹنگ میں مصروف تھے ۔ ہمیں اپنے پاس پاکر سارے صحافی دوستوں نے اپنے کام چھوڑ دیئے اور ہمارے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہوگئے ۔ ہم نے چند روز قبل کچھ لیویز اہلکاروں کی جانب سے پریس کلب پر حملے اور کچھ صحافیوں کو دی جانے والے دھمکیوں پراپنے صحافی بھائیوں سے اظہار یجکہتی کیا اور اپنے طرف سے انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔


پریس کلب کے دورہ کے دوران جو لگ بھگ اڑھائی گھنٹہ پر محیط تھا میں بیشیتر سنیئر صحافی دوستوں جن میں ابراہیم شنیواری ۔ خلیل جبران ۔ اکمل قادری ۔ اشرف الدین پیرزادہ ۔احمد نبی ۔ سدھیر افریدی ۔ عطاء اللہ خان ۔ شمس الامین پیرزادہ ۔ مہراب افریدی ۔ اسلام گل افریدی۔ ولی خان شنیواری اور نصیب شاہ سمیت دیگر کے ساتھ صحافیوں کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔۔


لنڈی کوتل پریس کلب کے دورہ کے دوران جس بات پر مجھے اور میرے ساتھیوں کو بہت خوشی ہوئی وہ یہ کہ لنڈی کوتل کے صحافیوں میں کوئی گروپ بندی نہیں اور جو اتحاد اور اتفاق لنڈی کوتل کے صحافیوں میں پایا میرے خیال میں وہ دیگر قبائلی ضلع کے صحافیوں میں بہت کم ہوگا۔
یہ بھی جان کر بہت خوشی ہوئی کہ لنڈی کوتل کے زیادہ تر صحافی اہم قومی اور بین الاقوامی نیوز اداروں سے وابستہ ہیں اور روزانہ کے بنیاد پر کم از کم ایک سٹوی تو ضرور فائل کرتے ہیں ہمارے دیگر قبائلی اضلاع جیسے نہیں ہے کہ بس صرف نام کے صحافی ہے ۔
لنڈی کوتل اور سارے ضلع خیبر کے ٹرانسپورٹرز بہت کواپریٹیو اور مدد گار لوگ ہیں :
لنڈی کوتل سے واپسی پر پشاور – طور خم ہائی وے پر ہمارے گاڑی میں ایک ٹینکیل فالٹ ایا جس کی وجہ سے گاڑی مزید جانے سے قاصر رہا ۔۔ محض چند منٹ بعد ہمارے سامنے سے گزرنے والے ایک کیری ڈبہ کی ڈرائیور اور دوسری ساتھ ہمارے پاس اگئے اور پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے ۔ ہم نے مسئلہ بتادیا تو محض چند منٹ بعد انھوں نے بااسانی وہ مسئلہ حل کیا اور یوں ہمارا یہ تاریخی ۔ پشاور ۔ نوشہرہ۔ مردان اور چارسدہ کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا بالاخراختتام پزیرہوا ۔
کچھ اچھا لگا کچھ برا لگا ۔ ہمیں اپنے اراء سے ضررو نوازے ۔
شکریہ ۔۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.