باجوڑ سپورٹس کمپلیکس خار میں مسجد کے تعمیراتی کام کا افتتاح ۔

0

تحریر انواراللہ خان

 اج نہ صرف باجوڑ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھن والے سینکڑوں کھیلاڑیوں ۔ سپورٹس مینوں ۔ سپورٹس شائقین اور ان افراد کے لیے جو مختلف ایکسرسائزوں اور واک کے لیے باجوڑ سپورٹس کمپلیکس خار کا چکر لگاتے ہیں بلکہ باجوڑ کے ہر خاص و عام کے لیے بہت ہی خوشی کا خبر ہے کہ باجوڑ سپورٹس کمپلیکس ( خار) جو سارے باجوڑ میں اپنی نوعیت کا ایک بڑا پبلک جگہ ہے میں جماعت اسلامی کے ممبر صوبائی اسمبلی سراج الدین خان نے مسجد کے تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا ۔ مجھے تو تاریخ اور مہینہ یاد نہیں ہے لیکن اتنا معلوم ہے کہ باجوڑ سپورٹس کمپلیکس خار میں مذکورہ مسجد کے تعمیر کا اعلان سراج الدین خان نے اج سے قریباً ایک سال پہلے کیا تھا جو اُس وقت ایم پی اے نہیں تھا۔ میرے خیال میں سراج الدین خان نے سپورٹس کمپلیکس میں مسجد کے تعمیر کا اعلان کسی دنیاوی فائدہ نمود و نمائش اور بالخصوص الیکشن میں کامیابی کے لیے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ خالصتاً اس نیت کے ساتھ کیا تھا کہ سپورٹس کمپلیکس میں انے والے کھیلاڑیو۔ شائقین اور لوگوں کو نماز اور وضو کے لیے مسجد کے سہولت میسر ہو کیونکہ ایک ایسے جگہ جہاں پر روزانہ سینکڑوں لوگوں کا گزر بسر ہوں میں مسجد بہت ضروری ہوتا ہے ۔ لیکن چند ناگزیر وجوہات کے باعث مذکورہ مسجد کے تعمیر پر کام فوری طور پر شروع نہیں ہوسکا اور یہ منصوبہ کئی ماہ تک التوا کا شکار رہا۔ مجھے مسجد کے تعمیر کے منصوبہ کے التوا کے وجوہات کا توتو علم نہیں ہیں لیکن ایک بات کا علم ضرور ہے اور وہ یہ ہے کہ ” سراج الدین خان اور ان کے فمیلی کے لوگ” نہیں چاہتے تھے کہ ” سپورٹس کمپلیکس میں مسجد کے تعمیر کا منصوبہ سے اس کے سیاسی مخالفین یہ تاثر نہ لیں کہ مسجد کے تعمیر کا مقصد صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں ووٹروں کی ہمدردی حاصل کرنا ہے۔۔ کیونکہ میرے علم کے مطابق سراج الدین خان اور ان کے فمیلی کے افراد خصوصاً ان کے بڑے بیٹے خالد خان ( چیف کوارڈنیٹر فار ڈیولپمنٹل ورکس ) اور عابد خان نہیں چاہتے تھے کہ مسجد کے تعمیر کا یہ منصوبہ ان کے سیاسی حریف سیاست کے نذر کریں ۔ بہر حال جو بھی وجوہات تھے اللہ کے گھر کے تعمیر کے اس منصوبہ پر کام فوری طور پر شروع نہیں ہوسکا ۔ ابھی مسجد کے تعمیر کے اعلان کا محض دو ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ مختلف سپورٹس ارگنائزیشنوں کے عہدیداروں ۔ کھیلاڑیوں اور حریف جماعتوں کے ورکروں نے سوشل میڈیا پر ” سپورٹس کمپلیکس میں مسجد کے تعمیر کا اعلان صرف اعلان تک محدود ” کے نام سے ایک طوفان برپا کیا اور نہ صرف قیس اریاں کی گئی بلکہ مستند دعوے بھی کی گئی کہ ” سراج خان کا اعلان صرف اعلان تک محدود رہے گا ” ۔ ایک تو ہمارے علاقہ کے بدقسمتی سمجھے یا خوش قسمتی کہ لوگ ہر کام فٹا فٹ چاہتے ہیں ۔ ہم صبر اور انتظار کے قائل نہیں حالانکہ اللہ کا فرمان ہے کہ میں صبر کرن والوں کے ساتھ ہوں اور یہ بھی کہاوت ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ۔۔ اور اج صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے کی کہاوت درست بھی ثابت ہوئی وہ کس طرح ؟ وہ اس طرح کہ سراج الدین خان نے اج سے کئی ماہ قبل مذکورہ مسجد کے تعمیر کا جو خاکہ ۔ ڈیزائن بنایاتھا اس میں کافی تبدیلی کی ہے اور تبدیلی بھی مثتبت ۔۔ مقصد یہ کہ نہ صرف مسجد کے ڈائزائن پہلے سے مختلف( اچھا ) ہوگا بلکہ مسجد میں تمام بنیادیں سہولیات جن میں پانی ۔ پینے کی صاف پانی کی فراہمی کے لیے الیکٹریکل واٹر کولر ۔ سولر سسسٹم۔ فینز ۔ کارپٹس، اور وہ تمام چیزیں جو پاکستان کے بڑے شہروں کے مساجد میں ہیں موجود ہوں گے ( انشاء اللہ ) ۔ میرا نہ تو سراج الدین خان اور ان کے بیٹوں ( خالد خان اور عابد خان ) کے ساتھ اتنا قریبی انٹریکشن ( تعلق ) نہیں ہیں مگر میرا ان کے کاموں اور وعدوں پر گہرا نظر ہے ۔ گزشتہ ایک سال کے دوران میں نے تو ان کے اعلان کردہ کاموں ۔ منصوبوں کو التوا کے شکار ضرور دیکھیں ہیں لیکن یہ نہیں دیکھا اور سنا ہے کہ بذات خود سراج خان یا ان کے دونوں بیٹوں ( خالد خان اور عابد خان ) نے الکیشن سے لگ بھگ ایک سال قبل یا الیکشن کے دنوں کے دوران کہیں بھی کسی قسم کے کاموں ۔ منصوبوں کا اعلان کیا ہو ( خواہ وہ اجتماعی ہو یا زاتی ) سے یو ٹرن لیا ہو ان پر خاموشی اختیار کی ہو مقصد ان وعدوں کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا ہو۔ ان منصوبوں میں نویکلی میں ایک جدید مدرسہ کے تعمیر اور حلقہ پی کے 102 کے تمام علاقوں ( وڑ ماموند ۔ لوئی ماموند ۔ چہارمنگ۔ ناوگی ، چمرکنڈ ) میں پینے کی صاف پانی کی فراہمی کے لیے بورنگ کا کام قابل زکر ہیں ، ان منصوبوں میں شامل نویکلی مدرسہ کی تعمیر پر تو گزشتہ ماہ سے کام کا باقاعدہ اعازہوگیا ہے اور امید ہے کہ پینے کی صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں ( بورنگ ) جو سراج الدین خان اپنے ذاتی حثیت میں انجام دے رہے ہیں پر بھی کل پرسوں تک کام کا باقاعدہ اغاز ہوگا ۔ اب اتے ہیں باجوڑ سپورٹس کمپلکیس خار میں مسجد کے تمعیر کے سنگ بنیاد رکھنے کے طرف ۔ میں یہ کہ رہاتھاکہ اچھا ہوا کہ مسجد کے تعیمر کا سنگ بنیاد رکھاگیا۔ میرے خیال میں کسی چیز کا سنگ بنیاد رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے اگر ایک بار سنگ بنیاد رکھ گیا تو پھر اللہ مدد کرتا ہے اور خاص کر مسجد کے تعمیر میں تو بہت مدد کرتا ہے کیونکہ مساجد کو اللہ نے اپنے گھریں کہیں ہیں ۔ مساجد تو ہر جگہ بہت ضروری ہے کیونکہ یہ وہ جہگیں ہیں جہاں پر نماز ادا کرتے ہوئے نمازی کو زیادہ سکون اور راحت ملتاہے ۔ باجوڑ سپورٹس کمپلیکس خار ۔ میرے خیال میں سارے قبائلی اضلاع میں اپنی نوغیت کا ایک بڑا اور منفرد اسٹڈیم ہے جو رقبے اور سہولیات کی لحاظ سے دوسروں سے مختلف ہے ۔ سپورٹس کمپلیکس خار میں مسجد کا قیام کئی سالوں سے بہت شدت سے محسوس ہورہاتھا کیونکہ اسٹڈیم میں نماز پڑھنے کی کوئی خاص جگہ نہیں ہے ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت / انتظامیہ اسٹڈیم میں دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ مسجد بھی تعمیر کرتا۔۔۔ لیکن اللہ نے یہ کام سراج الدین خان کو نصیب فرمایا ۔ باجوڑ میں سراج الدین خان کی طرح اور بھی ایم این ایز ہے ۔ ایم پی ایز ہے اور بڑے بڑے خوانین ۔ سرمایہ دار ۔ جاگیردار اور مخیر لوگ ہیں لیکن یہ اللہ کی مرضی ہے کہ اس نے اسٹڈیم میں اپنے گھر کی تعمیر کا ذمہ داری سراج الدین خان کو تفویض کی ۔ میرے خیال میں یہ سعادت بہت کم لوگوں کو ملتا ہے ۔ اللہ ہم سب کو مساجد کے تعیمیر سمیت، انسانی فلاح وبہود کے دیگر کاموں اور منصوبوں کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کی توفیق عطاء فرمائے کیونکہ دنیا میں باتوفیق مسلمان بہت سارے نیک کام کرتے ہیں ، لیکن ان نیک کاموں میں سے بعض کاموں کا اجر و ثواب صرف دنیا کی زندگی تک رہتا ہے اور بعض کاموں کا اجر و ثواب زندگی کے علاوہ مرنے کے بعد بھی آدمی کو ملتے رہتا ہے ۔ ان ہی میں سے ایک کام اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کیلئے اللہ کے گھر مسجد تعمیر کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب انسان دنیا سے گذر جاتا ہے تو صرف تین چیزوں کا اجر و ثواب اس کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ۔ ایک صدقہ جاریہ ، دوسرے نفع بخش علم اور تیسرے نیک صالح اولاد جو اس کیلئے دعائیں کرتی رہتی ہے ۔ ۔ میرے اطلاع کے مطابق باجوڑ سپورٹس کمپلیکس خار میں مسجد کے تعمیر کا منصوبہ صرف سراج الدین خان کا ایک بڑا خواب تھا اور اس منصوبہ میں مصوف کے قریبی فیملی بالخصوص ان کے بڑے فرزند خالد خان ۔ عابد خان اور قریبی رفقاء کرام کے مشاورت اور اراء بھی شامل ہیں ۔ اللہ سے دعاہے کہ باجوڑ سپورٹس کمپلیکس خار میں مسجد کا قیام باجوڑ میں امن ۔ ترقی اور لوگوں کی خوشحالی کا زریعہ بنے ۔ امین ۔ وماعلینا البلاغ ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.