صحت عامہ اور پشتون معاشرہ

0

تحریر۔ شیرزادہ

پشتون قوم جوکہ تاریخی اعتبار سے ایک منفرد مقام رکھتاہے اور اقوام عالم میں ان کے متعلق مختلف آراء وجود رکھتی ہے۔ جن میں مہمان نوازی ، بہادری ، زندہ دلیری اور مذہب سے بے پناہ  لگاو شامل ہیں۔دوسری طر ف چند متعصب تاریخ دانوں اور میڈیا اس قوم کےبارے میں غیرذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے منفی منظرکشی کی ہے۔ مثال کے طورپر پشتونوں کے بارے میں زیادہ تر نصاب میں” غدار” اور جنگوں جیسی آلقابات کا استعمال کیاگیاہے،جو کہ نہایت ہی غیرمناسب رویہ ہے۔اگر چہ وقت گرزرنے کیساتھ ساتھ اس رویہ پرادب و دانش سے وابسطہ افراد نےاعتراضات اٹھائی ہیں اور اس ضمن میں کافی حد تک بہتری بھی آئی ہے۔جسکے نتیجے میں تعلیمی  نصاب میں وقتاُ بوقتاُ تبدیلیاں کی گئی۔تاریخی سطح پر ایک قوم ،نسل یا مذہی گروہ کو قلم یا ذرائع ابلاغ کی ذریعہ استعماری استحصال کا نشانہ کوئی نئ بات نہں بالکہ دنیا کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔ اگر ہم امریکہ کی تاریخ کو اؑٹھاکر دیکھے تو ہمیں سفید فام امریکیوں کا  سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ  سماجی،اخلاقی اور غیرانسانی سلوک سے بھری دآستانیں پڑھنے اور سننے کو ملیتی ہیں۔لیکن پشتون نسل کےساتھ کی گئی ناانصافیوں اور سیاہ فام امریکیوں کیساتھ ناانصافیوں میں واضح فرق ہے۔ امریکہ میں سماجی اور سیاسی انقلاب آیا تو تمام سماجی اور سیاسی مسائل پر یکساں بات کی گئی، اور وقت کیساتھ جتنی بھی آئینی اصلاحات کی گئیں تو امریکہ میں آباہر نسل و مذہب کے لوگوں کوامریکی عوام سمجھ کربنیادی انسانی ضروریات،جیساں کہ تعلیم،صحت اور انسانی نقل و حمل کی بہتری پر بات کی گئی۔جہاں تک روزگا اور سیاسی دائرہ کار کا تعلق ہے اگر چہ ان مسائل کو حل کرنے میں کافی وقت لگا لیکن مارک لوتھر سینئرو جونیئر،اور ابراھم لنکن (سفید فام)کی طویل کوششوں سے سیاہ فام امریکیوں کوبینادی انسانی ضروریات و سہولیات تک رسائی ممکن ہوئی۔دوسری طرف پشتون نسل جو کہ آفغانستان و پاکستان میں کثرت میں آباد ہے کو منظم منصوبہ کی تحت نصابی وغیر نصابی سرگرمیوں کےذریعہ جنگی و حربی رجحانات کی طرف دھکیلا گیا۔  بچوں کی نصاب میں پشتون کو "پٹھان بہادر ہوتےہیں، پٹھان ہتھیاروں سے محبت کرتے ہیں، فلاں پٹھان نواب نے فلاں جگہ پہ غداری کی ” وغیرہ وغیرہ۔  جبکہ ثانوی اور اعلیٰ جماعتوں میں تاریخی پس منظر میں باچاخان جیسے سرکردہ پشتون رہنما کو ہندوؤں کا الہ کار بناکر بدنام کیاگیا۔جس نے کئی دہایوں تک نوجوان نسل کو پشتون سیاسی و سماجی قیادت کی وجود سے متنفر کیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس منفی رویے کے اثرات ظاہر ہونے شروع ہوگئے اگرچہ ۔کئ دہائیاں گزنے کے بعد اس مسئلے پر ایک حد تک قابو پالیاگیا۔لیکن جتنی ذہنی افرات ماضی میں نصاب کےذریعہ کیا اسکی تلافی میں کئی دہایاں لگیگی۔یہی وجہ ہے کہ پشتون معاشرہ میں ترقی و مثبت روییوں جیسےکہ تعلیم،صحت ،معاشیات   کیطرف لوگوں کے روجحانات کم جبکہ جنگی محاذ آرائی،اپنی بقاء و آذادی رائے کی طرف ذ یادہ رہی،اور حکومت و ریاست کی طرف سے اُٹھائے   گئے ہر اقدام کو شک کی نظر سے دیکھاجاتاہے،اور اس کے برعکس قدرت یا آسمانی مدد کے ہمیشہ طلب گار رہتے ہیں۔۔حالیہ کروناوائرس کی وباء جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیاہے اور ہرملک نے اپنے شہریوں کو حفاظتی تدابیر  جاری  کیئے ہیں ۔کہ اس وائرس سے کیسے بچا جائے اور اس کی پھیلاوٰکو کیسے روکھے۔پاکستان جو کہ ایک ترقی پذیر ملک ہے ، آٹھارویں ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اگر چہ صحت و تعیلم اور متعدد شعبہ جات کا اختیارات صوبوں کے پاس ہٰیں ، چنانچہ دوسرے صوبوں کی طرح صوبہ خیبر پختونخواہ  میں حکومت نے کرونا سے بچاو کیلئے کئی اقدامات کیے ہیں ،جس میں لاک ڈاون بھی شامل ہے ، حکومت نے اس سلسلے میں  نئی ضم شدہ ا سمیت صوبہ  میں ہر قسم کی  بڑی اجتماعات پر پابندی لگائی ہے اوراس خلاف ورزی کی  ضمن میں کئی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئ ہیں ۔مگر تاحال عوامی حلقے تمام تر حکومتی احکامات کو بالائے طاق رکھ کر  احتیاطی تدابیر سے رو گردانی کر رہی ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ صوبہ میں دن بدن کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد مٰیں اضافہ ہورہاہے۔ جو کہ لمحیہ فکر ہے ،اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں خوف وہراس کی موجودہ  لہر کو احسن طریقہ سے کم کرنے اقدامات اُٹھانے چاہیے ، سماجی اور نجی تنظیمیں جو کہ ہرمشکل میں حکومت کی شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہیں کوچاہیے کہ اس وباء کے بارے میں آگاہی پھیلائے ،میڈیا کو بھی مثبت انداز میں عوام تک معلومات پہنچانی چاہیے ۔ تاکہ اس وباء کی مضر اثرات سے اپنے آپ کو اور اپنے ارد گرد میں موجود دوسرے لوگوں کو محفوظ رکھیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.