وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی جانب سے سے صوبے کے صحافی برادری کے لیے بڑا اعلان

0

پشاور۔ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے صحافی برادری کی عوام کو آگاہی فراہم کرنے اور کرونا وبا کی حالت میں جان کی پرواہ کیے بغیر حکومتی مشینری کے شانہ بشانہ خدمات کی انجام دہی کے اعطراف میں کسی بھی جرنلسٹ کی کرونا کی وجہ سے فوتگی کی صورت میں خاندان کو دس لاکھ روپے اور بیماری کی صورت میں تمام تر اخراجات حکومت کی طرف سے ادا کرنے کی منظوری دی ہے۔
وہ سول سیکرٹریٹ پشاور کے محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے اطلاع سیل میں صحافیوں کو کرونا کے حوالے سے بریفنگ دے رہے تھے انہوں نے کہا کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر کرونا کے خلاف اقدامات کر رہی ہیں۔ محکمہ صحت کے عملے کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کا حفاظتی سامان خریدا گیا ہے۔
جبکہ پورے صوبے میں 275 قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں 18 ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے اسی طرح صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں ہائی ڈیفنڈنسی یونٹس بنائے گئے ہیں جن میں بھی چار سو اسی افراد کی گنجائش موجود ہے اور صوبے کے ہسپتالوں میں قائم 110 آئسولیشنز میں بھی تین ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں 583 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جن کی تعداد کو مزید بھی بڑھایا جارہا ہے۔
مکمہ صحت کے عملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موجودہ صحت کے عملے کے بیک اپ کے لئے لوکم سکیم متعارف کی گئی ہے جن میں نو ہزار پانچ سو افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے جن میں سپیشلسٹس، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس اسٹاپ شامل ہیں۔ جبکہ ایمرجنسی کے تحت چھ سو اٹھتیس ریگولر اور بارہ سو ننانوے کنٹریکٹ پر بھی ڈاکٹر بھرتی کیے گئے۔
مشیراطلاعات اجمل خان وزیر نے محکمہ شہری دفاع خیبرپختونخوا کی جانب سے سینئر صحافیوں، پریس کلب اور یونین آف جرنلسٹس میں 1000 بوتل سینی ٹایزر 1000 مارکس اور سو عدد حفاظتی سامان بھی پریس کلب پشاور اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدور کے حوالے کیا۔
مشیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان حکومت کی خیبر پختونخواہ کی کرونا روک تھام کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔
انہوں نے کرونا وبا کی اب تک صورتحال کے حوالے سے کہا کہ صوبے میں اس وقت کل کنفرم کیسز 656 ہیں جبکہ 131 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں 3مزید مریضوں کی فوتگی کے ساتھ ٹوٹل اموات کی تعداد 25 ہوگئی ہے ہے جب زیرعلاج 20 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس وبا کو کنٹرول کرنے کیلے لیے بنائے گئے اقدامات پر پر عمل کریں۔ انہوں نے صحافیوں کو ہدایت کی کہ عوام کو آگاہی فراہم کرنا انکی اولین زمہ داری ہے اور کسی بھی قسم کی غلطی سے بچنے کے لیے تمام تر معلومات محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ لی جا سکتی ہے۔
صحافیوں کے مسائل کے حوالے سے مشیر اطلاعات نے کہا کہ ان کے ہاؤسنگ ہیلتھ کارڈز، ایڈورٹایزمنٹ اور صحافیوں کے دیگر جملہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اور انہوں نے محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے حکام کو یہ مسائل فورا حل کرنے کی ہدایت بھی کی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.