قوم پرستی،ابہام اور شخصی عزائم

0

تحریر: شیرزادہ           

  قوم پرستی کا عنصر ہر زندہ معاشرے کا بنیادہ پہلوں ہوتا ہے۔ایک ایسا رویہ اور کیفیت کا ہونا قوم پرستی کی زمرے میں آتا ہے  جب انسان اپنی ذاتی خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر معاشرے کی فلاح و بہبود اوربقا ءکی  خاطر ہر وہ قدم اٗٹھا تا ہے جس سے معاشرے کی بہتری ہو۔ اگر چہ اس رویے سے کئ اقوام نے دُنیا میں ترقی کے منازل حاصل کیےہیں ۔ مثال کے طور پر ہم چین کو لیتے ہیں –جو کہ کئی دھائیوں تک سماجی ،معاشرتی اور معاشی پسماندگی سے دوچار رہا۔لیکن کمیونسٹ ماؤزے تونگ کی تحریک انقلاب چینی معاشرے میں استحصال و مجرمانہ نظام زندگی مظبوط فصیلیں ایسی زمیں بوس کیں کہ آج کا چین معاشی لحاظ کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ کمیونسٹ چائینہ نے شمال سے جنوب تک ،مشرق سے لیکر مغرب تک اپنی معیشت کے پنجے ایسے گاڑ دیے ہیں ،جیسی کینسر کی بیماری انسانی وجود کو جکڑ کے رکھتی ہے۔ حالیہ جان لیوہ کرونا کی وباءجس نے چین کے شہر وہان سے جنم لیا،اور چین میں خاطر انسانی جانوں کی ہلاکت کی وجہ بنی، لیکن چین کی عوام بشمول چینی حکومت نے ایک قوم ہونے کا ثبوت دیا اور اس وباء پر کافی تک حد قابو پالیا، دوسری طرف پاکستان جیسے ممالک جو بظاہر قومی نظریات کی بنیاد پر معرض وجود میں آئے ہیں،میں قومی یگانگت کی ناپیدگی نےثابت کردیا کہ بظاہر  زبانی جمع خرچ سے قومیں نہیں بنتی بلکہ اس کو عملی جا مہ بھی پہنانا پڑتاہے۔گزشتہ ستہر بہتر سالوں سے” ہم زندہ قوم ہیں” پائندہ قوم ہیں ” کی ترانے ہمارے کانوں میں گونجتی رہتی ہیں ،ہر سیاسی جلسے میں ،انتخابی مہم میں یک قوم ہونے کی تلقین اور مظاہرہ کرنے کی تجوزیں دی جاتی ہیں ۔ لیکن ہر فرد خواہ  وہ سیاسی لیڈر ہو،سماجی کارکن ہو، درس و تدریس سے وابستہ ہو،طب کے شعبے سے وابستہ یا تعمیر و مرمت وتجارت سے وابسطہ افراد ہو، ہرکوئی اپنی ذاتی مفاد کی کو قومی مفاد پر ترجیح دیتاہے ۔جس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہو رہی ہیں ۔مثال کے طور پر پولیس کی نظام کولیتے ہیں ،جب کوئی جرم ہوتا ہے تو مجرم کے خلاف ابتدائی رپورٹ درج کرنے پولیس جو لاپرواہی اور ہیر پھیر کرتی ہے ،جس کی وجہ سے مجرم کا حوصلہ اس قدر بڑھ جاتاہے کہ وہ جرم کرنے سے  اجتناب  کرنے کی بجائے جرائم کی طرف زیادہ راغب ہوتاہے-اگر ہم ڈاکٹر کو لے تو وہ مریض کی علاج کیلے صحیح دوا تجویز کرنے کی بجائے وہ دوا تجویز کرتا ہے جس میں کمیشن ملنے کے امکانات زیادہ ہو۔انجنیئر کی مثال لیتے ہیں ، کسی عمارت یا سڑک  کی تعمیر ہو، تو وہ انجنیئر کی منظوری کے بغیرنہیں بن سکتی اور نہ قابل استعمال تصور کی جاتی ہیں۔تاجر کو دیکھے تو وہ زیادہ امدن کی لالچ کو ملحوظ خاطر رکھ کر غیر معیاری اشیاء کی درآمد و برآمد کرتاہے۔ اگر ہم کارخانہ دار کو دیکھے تو وہ ناقص مواد سے بنی اشیاء خواہ وہ خوراکی مواد ہو یا دیگر ضروریات کی اشیاء ہو ،بنانے کو ترجیح دیتاہےسیاسی و سماجی کارکن کو دیکھے تووہ اجتماعی  فائدے کی ایجنڈے کوپس پشت رکھ کر ذاتی مفاد کی حصول کیلئے ہی عمل پیرا رہتا ہے ۔ایسے میں قومی ترقی و قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیناما بعد ازتصورہے۔اس زمرے میں چند اصول جو بحیثیت فرد اور بحیثیت معاشرہ کسی قوم کی ترقی کا پہیہ آگے بڑھا سکتی ہے۔ اول جو چیز ایک انسان بحیثیت ایک فرد اپنے لیے پسند کرتا ہے تو اسے اپنے آپکو معاشرے سے الگ تصور کرکے سوچنا نہیں چاہیے بالکہ خو کو معاشرے کا بنیادی جزسمجھ کر اپنی چاہت و فعل کی معاشرے پر  ممکنہ  اثرات  کے بارے میں سوچنا چاہیے ،کیونکہ انسان فطرتاۤمعاشرے کا غلام ہے۔دوم معاشرے کا وہ سرکردہ گروہ جو علمی،سیاسی اور معاشی اعتبار سے مضبوط اور طاقتور اسے معاشرے میں پسے ہوئے طبقے کی مسائل کو دیکھ ایسی پالیسیاں ترتیب دینی چاہیے جس سے معاشرے کی اصلاح ہوسکے۔سوم قومی مفاد کی ترجیحات معاشرے کے تمام افراد کی باہمی رضامندی اور احساسات کی تناظر میں وضع کرنی چاہیے۔تب ہی ہم بحیثیت ایک قوم اُبھر کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتےہیں۔               

انگلس میں پڑھیں http://bajaurtimes.com/en/2020/05/4460/           

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.