باجوڑیوتھ جرگہ کے زیر اہتمام باجوڑپریس کلب میں گول میز کانفرنس کا انعقاد

0

خار:باجوڑیوتھ جرگہ کے زیر اہتمام باجوڑپریس کلب میں گول میز کانفرنس  کا انعقاد ہوا۔قبل از انضام اور انظام کےبعد قبائلی علاقوں میں مسائل اتنے ہیں جو حدشمار سے باہر ہے۔

 ایف سی آر کے سیاہ ترین قانون جب قبائلی علاقوں میں نافذالعمل تھا تو یہاں کے سفید و سیاہ کے مالک صرف چند افراد ہوا کرتے تھے جو عوام الناس کو ایک کے جرم میں دوسرے کو اور اکثر سارے خاندان کو پکڑ کر سالوں سال بغیرکسی قانون قید میں رکھتاتھا اور مظلوم کی فریاد نہ کوئی سنتا تھا اور نہ کوئی شنوائی ہوتاتھا۔

جب یہاں کے لوگوں نے اپنے نوالوں کو اپنے لئے ادھا کرکے اپنی بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے ہمت کی اور بچوں کے مستقبل سنوارنے کے لیے اپنے ہمہ جہت قربانیاں دی تو رب نے بھی فضل کا معاملہ کیا اور یہاں کے علاقوں سے سیاسی و سماجی تنظیموں، نوجوانوں اور علاقے کے بعض ملکان کے جدوجہد کے سے حکومت وقت اور اپوزیشن نے ہمت کرکے ایف سی آر کے سیاہ قانون کو ختم کرکے یہاں  کے عوام کے لئے سول لا نافذ  ہوجو پورے ملک میں نافذ العمل تھا۔

 اسی قانون کو نافذ کرنے کے وقت یہاں کے عوام اور خواص کے ساتھ حکومت نے اصلاحات کے نام سے ترمیمات اور قوانین میں شفافیت ظاہر کرنے کے وعدے کئی گئے۔  لیکن قبائل کے بدقسمتی سے کئی سال گذرنے کے بعد آج تک وہ اصلاحات نہ نافذ العمل ہوئے اور نہ ہی قبائل کو دیگر اضلاع جیسے سہولیات دی گئی گئے۔

 اسی طرح یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی امیدوں کو ٹھوس اسی وجہ سے پہنچ رہی ہے کہ ان کے لئے مختص ملازمتوں پر غیرمستحق لوگ موجود برانجماں ہیں، اسی طرح قبائلی کے نئے ضم شدہ اضلاع  میں پولیس کے قوانین کو برائے نافذ العمل کیا گیا ہے لیکن یہاں کے امن و امان سارے دنیا کے سامنے ہے ، ان علاقوں میں اج بھی ٹارگٹ کلنگ میں ہورہے ہیں اور ایف آئی آر بھی نہیں کاٹا جاتا۔ کیونکہ یہاں کے پولیس کو وہ تربیت کا آج تک نہیں دی گئی جو دینے چاہیے،اور نہ ہی نئی  پولیس میں بھرتی کی گئی ، اس کے ساتھ سینکڑوں مسائل ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ،

 انہی مسائل کے حل کئے ضلع باجوڑ کے چند نوجوانوں نے اپنے مدد آپ کے تحت اپنے صلاحیتیں ضلع باجوڑ سمیت تمام نئے ضم شدہ اضلاع کے لئے پیش کی اور انہوں نے انہی خدمات کے لئے ایک تنظیم "باجوڑیوتھ جرگہ ” کے نام بنائی۔

جس کا مقصد صرف یہاں کے مسائل کے حل کے لئے اپنے تمام تر صلاحیتوں کو اجا گر کرنا اور ضلع باجوڑ سمیت تمام قبائل کے مسائل کے حل کرناتھا۔

کانفرنس میں شرکاء نے باجوڑ اور دیگر ضم اضلاع کے مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان مسائل کے حل کرنے کی تجاویز پر سیرحاصل  خطابات کی ، ہر ایک شریک نے اسی پر زور دیا کہ یہاں کے عوام کو وہی سہولیات دی جائی جو ملک کے دیگر اضلاع کو حاصل ہے اور جن کے ووعدے ہمارے انضمام کے وقت کی گئی تھے۔ کانفرنس کے آخر میں جاویدتندر بانی باجوڑیوتھ جرگہ نے مشترکہ قرارداد پیش کی جو سب شرکاء نے متفق طور پر منظور کئے۔

مطالبات

1۔ باجوڑ میں امن وآمان کے موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہے سیکورٹی اداروں سے امن وآمان بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

2۔ ضلع باجوڑ کے ہیڈکوارٹرہسپتال خاراور دیگر محکمہ جات میں ناقص کاکردگی اور کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔

3۔ بجلی کے ناروا لوڈشیڈنگ کو فوراختم کیا جائے اور نئے گریڈسٹیشن سے بجلی کی ترسیل جاری کیاجائے۔

4۔نئی ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی ادراے بہت کم ہے یہاں کے عوام کو نئی سکولوں، کالجز کے ساتھ یونیورسٹی اورمیڈیکل کالجز دیا جائے ۔

5۔جو لیویز اہلکار اب تک پولیس میں ضم نہیں ہوئے ان کو ضم کرکے یہاں کے عوام کے ساتھ کی گئے وعدے کے مطابق پولیس کے نئے ملازمتوں پر یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے۔

باجوڑیوتھ جرگہ کے ذمہ داروں نے سب شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ آپ لوگوں نے اتنے گرمیوں میں اپنے قیمتی اوقات میں سے وقت نکال کر ضلع باجوڑ کے مسائل کے حل کے لئے اپنے آرء ہمیں مستفیدکیا

باجوڑیوتھ جرگہ کے تحت باجوڑپریس کلب میں گول میز کانفرنس  کا انعقادکیا ، جس میں انجنئیرشوکت اللہ خان سابقہ گورنر خیبرپختونخوا۔ ہارون الرشید سابقہ ایم این اے ۔شہاب الدین خان سابقہ ایم این اے۔ملک محمد آیاز ۔مولانا خانزیب۔صوفی حمید۔ اخترگل۔ نثارباز۔ اورنگزیب انقلابی۔مولانا وحیدگل۔حاجی گل کریم خان۔ ملک خالد سابقہ امیدوار پی کے۔ ڈاکٹرخلیل الرحمن ۔ امیرخان۔ ملک شاہین لغڑئی  سمیت سیاسی راہنماؤں، قومی مشران  اور باجوڑیوتھ جرگہ کے چئیرمین واجدعلی اتمانی سمیت تمام کابنیہ نے شرکت کی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.