تذکرہ علمائے باجوڑ چودھویں قسط:۔

0

تحریر: محمد بلال یاسر

ماہر فی الفقہ حضرت مولانا جمعہ خان صاحب رحمہ اللہ

سلارزو باجوڑ کے ایک غیر معروف گاؤں تلی میں 1949 کو شیرافضل خان کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا، یہ بچہ نہایت خوش نصیب تھا کیونکہ اسے ابتداء ہی سے نیک اور دیندار گھرانہ میسر آیا تھا ، قوم محمودخیل میں پیدا ہونے والے اس بچے کو ابتداء ہی سے دینی علوم کے طرف مائل کیا گیا۔ گھر پر ناظرہ قرآن پڑھنے کے بعد انہیں علاقہ نوشہرہ میں دینی علم کے حصول کے لیے ایک مدرسہ میں داخل کروادیا گیا، جہاں انہوںنے فارسی کے ابتدائی کتب اور عربی رسالے پڑھے ، بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے سوات چلے گئے ، جہاںدرس نظامی کے ابتدائی درجات میں داخلہ لیا وہاں کچھ عرصہ پڑھنے کے بعد اپنے زمانے میں فنون کے علوم میں شہرت کے بلندیوں کو چھونے والے علاقہ چکیسر اور مارتونگ کے لیے رخت سفر باندھا یہاں کئی سالوں تک علوم عقلیہ میں رسوخ حاصل کیا ، بعد ازاں موقوف علیہ کے لیے مشہور بزرگ عالم دین شیخ الحدیث مولانا بزرجمہر صاحب مدظلہ العالی کے ہاں زانوائے تلمذ اختیار کیا۔انہوںنے سے موقوف علیہ کے اسباق بڑے شوق سے پڑھا۔ دورہ حدیث کے لیے انہوںنے وقت کے مشہور علمی درسگاہ تعلیم القرآن راجہ بازار راوالپنڈی کا انتخاب کیا ، اور سال کے ابتداء میں جاکر وہاں داخلہ لے لیا ، پورہ سال انتہائی شوق و ذوق سے احادیث النبوی سے سیراب ہوتے رہے ، وہی سے ان کی فراغت ہوئی، اور ان کو دستار فضیلت سے نوازا گیا۔ اپنی علمی قابلیت کے بناء پر اپنے استاذہ کے دلوں میں خاص جگہ بنالی تھی ۔ دستاربندی کے سالانہ پروگرام میں بانی جامعہ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب نے بذل المجہود نامی کتاب بطور انعام دی۔شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب کی دلی تمنا تھی کہ ان کا قابل ترین شاگرد مولانا جمعہ خان ان ہی کے مدرسے میں مدرس مقرر ہوں لیکن آپ نے معذرت کرتے ہوئے کہ میرے آبائی علاقے میں لوگ رسومات اور بدعات میں مبتلا ہیں میرا اولین فرض بنتا ہے کہ میں ان کو دین کے حقانیت سے روشناس کراوں تب ان کے استاد و مرشد نے ان کو بخوشی جانے کی اجازت دے دی۔

فراغت کے بعد آپ نے اپنے علاقے میں درس وتدیس کا آغاز کیا کچھ عرصہ گذرنے کے بعد آپ تدریس کے سلسلے میں نستہ چارسدہ چلے گئے جہاں آپ نے کافی عرصہ درس کے فرائض سرانجام دئیے ، اس کے علاوہ آپ نے جامعہ نصرت العلوم شبقدر اور لنڈی کوتل میں کچھ عرصہ تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی تھی، پھر آپ کے مشفق استا جامع المعقول حضرت مولانا قاضی عبدالغفور صاحب (جار قاضی صاحب) کے حکم پر آپ جار باجوڑ تشریف لے آئے جہاںآپ نے اپنے استاد کے عظیم الشان ادارے جار میں درس وتدریس شروع کی۔ اس دوران تعلیم القرآن جار میں آپ کا شمار جار قاضی صاحب کے سب سے نمایان ترین اساتذہ میں ہوتا تھا۔ جہاں کافی عرصہ آپ نے علوم کے موتی بکھیرتے رہے ،علماء اور طلباء آپ کے علوم بحر سے مستفید ہوتے رہے ، آخر تک آپ کی وابستگی رہی ، اپنے آبائی گاوں کی مسجد تلی سلارزو میں پورے سال آپ کا درس قرآن اور درس حدیث جاری رہتا ، شعبان اور رمضان کا دورہ تفسیر بھی نہایت شہرت کا حامل تھا۔

آپ نے درس و تدریس کے علاوہ علاقے کے فلاح و اصلاح کے لیے بھی گراں قدر خدمات سرانجام دیئے ، تاحیات آپ اپنے علاقے میں قاضی کے طور پر مانے جاتے تھے آپ کا فیصلہ آخری فیصلہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ رسم ورواج کے خاتمے کے لیے بھی آپ نے کافی تگ و دو کی۔ شیخ الحدیث باچا رحمہ اللہ کے ہمراہ ہر غم و خوشی کے موقع پر آپ نے رسم و رواج کا رد کیا اور علاقے میں سنت کی فضاء قائم کرنے میں بڑی تکالیف اٹھائی۔ تنظیمی سطح پر بھی آپ کی خدمات قابل تحسین تھی ، انہوںنے آخر بار 1985میں شیخ القرآن مولانا محمد طاہر پنج پیری رحمہ اللہ کے دورہ تفسیر میں شرکت کی۔ان کا مشن آپ نے پوری زندگی اپنائے رکھا ، جب سے آپ باجوڑ تشریف لائے تاحیات سلارزو کے امیر رہے ، آپ پوری زندگی اپنے استاد شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طاہر پنج پیری رحمہ اللہ کے قائم کردہ تنظیم جماعت اشاعت التوحید والسنہ سے وابستہ رہے۔

آپ نے دوران سبق بڑے جید اساتذہ کرام سے فیض حاصل کیا تھا ، جن میں چند کے نام درجہ ذیل ہیں۔ امام انقلاب قرآنی شیخ القرآن حضرت مولانا محمد طاہر پنج پیری رحمہ اللہ ، شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمٰن مینوی رحمہ اللہ ، شیخ القرآن حضرت مولانا سید

 عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمنان مینوی رحمہ اللہ ، جامع المعقولات حضرت مولانا قاضی عبدالغفور رحمہ اللہ ، شیخ الحدیث مولانا بزر جمہر صاحب مدظلہ العالی۔

آپ نے تین دہائیوں پر مشتمل تدریس کا زمانہ گذارا ، اس دوران ہزاروں تلامذہ آپ سے زندگی کا مشن سیکھ آگے علوم کے بحربیکراں کا کردار ادا کرتے رہے۔ ان میں سے چند مشہور تلامذہ ، حضرت مولانا خورشید احمد رحمہ اللہ (سابقہ شیخ الحدیث احیاء العلوم خار) ، حضرت مولانا عبداللہ صاحب (بدان ماموند) ، مولانا امان اللہ (گردئی) ، مولانا راحت اللہ (عرف پہلوان مولانا) ، مولانا عزیز اللہ ، مولانا رحمٰن اللہ ، مولانا نثار ، متہ شاہ صاحب حق صاحب۔

آپ نے مناظروں میں بھی اکابر علمائے اشاعت کے ساتھ تقریباً اکثر مواقع پر معاون کا کردار ادا کیا۔ آپ شیخ الحدیث مولانا عبدالشکور صاحب (خال دیر)، حضرت مولانا محمد شریف مرحوم ، حضرت مولانا خلیل احمد اور خاص کر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یاربادشاہ نوراللہ مرقدہ کے مناظروں میں معاون خصوصی رہے۔شیخ الحدیث رحمہ اللہ کو جب اپنے علاقے میں سب سے بڑے محاذ ضیاء اللہ بریلوی کا سامنا کرنا پڑا، تب بھی مولانا جمعہ خان ان کے معاون خاص تھے ، انہوںنے اس موقع پر نہایت دلیری سے کام لیا اور ان کے تمام شرارتوں کے لیے خود کو تیار کر رکھا تھا۔اگرچہ بعد میں یہ منظر نہ ہوسکا۔

آپ کو اللہ چھ نارینہ اولاد سے نوازا تھا ، آپ کے سب سے بڑے فرزند حضرت مولانا محمد الیاس صاحب جوکہ آپ کے جانشین بھی ہیں۔ان کے بعد ڈاکٹر محمد ادریس ، ڈاکٹر حماد الرحمٰن ، مولانا جمیل الرحمٰن (فاضل جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون کراچی) ، حافظ برہان الدین ۔ آپ کے تمام بچے تعلیم و تعلم کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔آپ نے اپنے حیات ہی میں اپنے علاقے میں دینی علوم کی تدریس کے لیے دینی ادارہ مدرسہ حدیقة القرآن تلے سلارزو سنگ بنیاد 2006 میں رکھا ، اور تاحال اس میںد ینی تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری ہے۔

آپ نے پوری زندگی ہشاش بشاش گذاری چند سال قبل آپ مختصر علیل ہوئے ، جس کے بعد 23 ستمبر 2010 جمعرات کے شب آپ اس فانی دنیا سے رحلت فرماگئے ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یاربادشاہ رحمہ اللہ کو آپ کے وفات کی خبر ملی تو آپ طلبہ کے سامنے وہ آثار بیان کیے جو امام بخاری نے اپنے استاد امام داریمی کے بارے میں کہے تھے ۔ ان کی نماز جنازہ بروز جمعرات دوپہر 3 بجے ان کے آبائی علاقے میں ادا کی گئی ، آپ کی نماز جنازہ آپ کے بھانجے مفتی ولی الرحمٰن نے ادافرمائی ، بعد ازاں ہزاروں علماء و طلباء کی موجودگی میں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.