افلاطون کا مرد

0

تحریر :روح اللہ

افلاطون کہتا ہے جرآت بہادری اور علم سے محبت انسان کی فطرت کے بنیادی اوصاف ہیں۔ جرآت اور بہادری وہ نہیں جو ہمارے فلمسٹار شفقت چیمہ اور راہی مرحوم کے ذریعے دکھائی جاتی ہے! یہ طور ضیاء الحق نے عظیم روس کو افغانستان سے نکالنے کے لئے متعارف کروایا تھا۔ یہ خونخواریت ہے ، حیوانیت ہے! کسی کو قتل کر دینا ،جھگڑے میں سر پھاڑ دینا ، معمولی سی بات پر کسی کو تھپڑ مار دینا جرآت اور بہادری نہیں بلکہ پرلے درجے کی کمزوری ہے! بہادری وہ ہے جو حضرت عمر کو باغ میں پتھر کا سرہانہ بنا کر بےخوفی سے لوریاں سنا کر سلا دیتی ہے۔ جرآت وہ ہے جو نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر طیار نے دکھاتے ہوئے سورہ رحمان سنائی تو بادشاہ کا دل موم کی طرح پگھل جاتا ہے!

دونوں کیفیات میں بےخوفی جرآت اور بہادری کی اعلیٰ امثال پائی جاتی ہیں۔

جرآت و بہادری وہ ہے جو گلیلیو نے دکھائی جو رشد نے دکھائی

افلاطون جرآت و بہادری کی تزئین و آرائش کے لئے علم یعنی فلسفے کو ازبس لازم قرار دیتا ہے۔ علم کے بغیر جرآت و بہادری درندگی بن جاتی ہے! فلسفہ اور منطق نیز عقل کا استعمال ترک کر دیا جائے تو پیچھے امام تیمیہ کی سخت گیری رہ جاتی ہے جس کے مطابق ایک معمولی سی خطا پر بھی الف کو ب کر دینے کی بات کی جائے! اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے دنیا میں اس وقت سات ارب انسان ہیں۔ جن میں مسلمان تعداد میں کل ڈیڑھ ارب کے قریب ہیں ۔ ان کے پاس جدید دنیا کی کوئی ایک مشین بھی پیٹنٹ نہیں ہے۔ آپکے زیر استعمال سوئی سے لے کر جہاز تک دوسری اقوام بناتی ہیں۔ آپ نے نادانی کی پھوں پھاں سے مغلوب ہو کر امریکہ کے ٹوئن ٹاورز گرا دیئے تھے۔جسمیں پانچ ہزار کے قریب بیگناہ لوگ ھلاک ہوئے۔ جواب میں 37 ممالک نے مل کر آپ کو وہ پھینٹی لگائی کہ آپ رو سکتے ہیں نہ ھنس سکتے ہیں۔ امریکہ کی قیادت میں ایسی کون سی ذلت بنی ہے جو بطور قوم یا امہ آپ نے برداشت نہیں کری؟ آپکے قیدیوں کو گوانتانامو میں کتا بنا کر پنجروں میں رکھا گیا۔ ٹوکن کے طور پر آپکی عافیہ کا وہ حال کیا گیا کہ انسانیت بھی شرما جائے۔ عراق افغانستان اور لیبیا میں ہزاروں عورتیں کو الائنس کے فوجیوں کے بچوں کی بن بیاہی مائیں بننا پڑا۔ آپکے عراق شام فلسطین لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ قذافی اور صدام کے گلوں میں پٹے ڈال کر کتے کی طرح سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ پانچ ہزار کے بدلے آپکے پچاس لاکھ بچے جوآن بوڑھے اور خواتین مار دئیے گئے۔فلسطین ہاتھوں سے گیا، کشمیر گیا اور ساتھ میں عزت سادات بھی نکرے لگی!

آپ کی خونخواریت، تنگ ذہنیت اور غیر دانشمندانہ رویے نے ان کا کیا اکھاڑ لیا؟

آپ کے علماء جنت کی حوروں کے قد ماپتے ریے۔ شیعہ سُنی ایک دوجے پر کفر کے فتوے داغتے رہے۔ آپس میں فرقہ واریت کو ھوا دیتے رہے۔ قادیانیوں کو قتل کرتے رہے جو خود کو مسلمان کہتےہیں پر آپ ان کو مسلمان نہ مانتے ہوئے قتل کئے جاتے ہیں۔ ایسا آپ کب تک کرسکیں گے؟

کیا آپ اس طرح ملک و قوم اور مذہب کی کوئی خدمت کر رہے ہیں؟؟؟؟

اگر خدا کو صرف آپکا وجود ہی پسندیدہ ہوتا تو اس کے لئے کن کہہ کر سات ارب انسانوں کو مسلمان بنا دینا کونسا مشکل کام ہے؟؟؟

آپ ہر سال پچاس ہزار نوجوانوں کو حافظ قاری مفتی مولوی بنا کر معاشرے میں لا پھینکتے ہیں۔ جن کے پاس علم کے بجائے معلومات ہوتی ہیں۔ آپ انہیں کہاں کھپائیں گے۔ انہیں رٹا لگوانے کے بجائے آپ کے پسندیدہ بادشاہ نورالدین زنگی کی طرح ٹوپیاں سینا ہی سکھا دیتے تاکہ کم از کم روٹی کے لئے یہ لوگ معاشرے پر بوجھ تو نہ بنیں!!!

بات ہم جرآت و بہادری کی کر رہے تھے کہ دوسری جانب نکل گئی!

جرآت و بہادری انسانوں کے اندر بیخوفی پیدا کرتی ہے۔

بیخوفی فلسفے سے مزین ہو تو طبیعت میں عاجزی انکساری تواضع اخلاص محبت اور رحم دلی پیدا ہوتی ہے۔ وہی رحم دلی جو کوڑا پھینکنے والی عورت کے لئے سرکار کے دل میں تھی۔ جو ابن رشد کے دل میں تھی۔ یہی رحم دلی دنیا کو فتح کرتی ہے۔ آپ کو یاد ہے 2005 کے زلزلے میں بل گیٹس ،انجلینا جولی اور بریڈ پٹ نے آپ کو اربوں میں امداد دی تھی؟ یہی انسانی ہمدردی کے وہ اعلیٰ آدرش ہیں جن کے نتیجے میں آپ امریکہ سے نفرت کرنے کے باوجود نفرت نہیں کر پاتے!

لیکن شیعہ سُنی ایک دوجے سے شدید نفرت کرتے ہیں حالانکہ دونوں مسلمان ہیں!

رسل اپنی کتاب لوگوں کو سوچنے دو میں کہتا ہے : اگر مذہبی علماء وسیع الظرفی کا مظاہرہ کریں اور گناہ گاروں کو خدا بن کر اذیت پہنچانے کے بجائے انہیں سمجھا بجھا کر برے کاموں سے روکیں تویہ بات لوگوں کے لئے زیادہ نافع ثابت ہوگی! لیکن اکثر ہمارے اکابرین جج بن کر سوچتے اور آئی جی بن کر فیصلوں پر عمل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اصلاح احوال کے بجائے مزید خرابیاں پیدا ہوتی ہیں! آپ کو جو بھی اقتدار مل جائے اس میں آپ کے پاؤں زمین پر رہیں تو ہی معاشرہ کسی مفید رخ کی طرف مڑ سکتا ہے!

اگر دو فرقوں کے علماء کرام کسی ایک مسئلے پر بحث کر رہے ہوں گے تو ان میں سے ہر ایک خود کو مبرا عن الخطا اور دوسرے کو خطاوار سمجھ رہا ہوگا۔ اس کا نمونہ آپ رمضان ٹرانسمشن کے دوران اکثر ملاحظہ کرتے ہوں گے کہ کیسے قاری خلیل ، مفتی حنیف اور اختر نقوی باہم کف اڑاتے ہوئے گفتگو فرماتے ہیں! یہ علماء کرام جن موضوعات پر مبحث ہوتے ہیں ان کا ہماری روز مرہ کی زندگی اور اس کے مسائل سے کوئی تعلق ہوتا ہی نہیں۔ یہ محض باہم فرقی نفاق کا احیاء ہوتا ہے۔ تاکہ دوکانداری چلتی رہے۔

ہم معمولی باتوں کو جھگڑا، جھگڑے کو فنا و بقا کی جنگ، جنگ کو خود ڈگر ڈگر پھیلاتے ہیں پھر اسے سازش کا نام دے کرالزام امریکہ یہودیوں اور دوسری اقوام پر لگا دیتے ہیں!

مارکس کی جدلیات کے تناظر میں ان مباحث اور نتائج کو دیکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے یہ آؤٹ ڈیٹڈ بحثیں حالت موجودہ میں کسی طور بھی سود مند نہیں ہوتیں۔ ہمارا مسئلہ چودہ سو سال پہلے کا معاشرہ نہیں جس کے نہایت محدود سماجی مسائل تھے۔ اس وقت سواری کے لئے ایک اونٹ، غذا کے لئے چند بکریاں اور کھجوروں کے دو چار درخت درکار ہوتے تھے ۔ جن کا انتظام ہوگیا تو سمجھیں آپ کا سماجی مسئلہ حل ہوگیا۔ اونٹنی اور بکریوں کا دودھ غذا کے لئے اور سفر کے لئے اونٹ کافی ہوتا تھا۔ آج معاملہ ویسا نہیں ۔ آج سماجی حیثیت برقرار رکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ دولت درکار ہوتی ہے۔ دولت حاصل ہو جائے تو اس سے جڑے دیگر بیسوں مسائل ہوتے ہیں۔ ایسے منطقی مسائل جو وقت کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں جن کے اپنے اخلاقی اسالیب ہوتے ہیں۔ مثلاً کورونا وائرس کی وبا کو ہی لے لیجئے۔ علماء کرام نے اسے ہمارے گناہوں کی سزا قرار دے دیا جو خدا کی طرف سے ہم پر بھیجی گئی!

جدلیات کہتی ہے افعال کے نتائج نکلتے ہیں جو معروض ہوتے ہیں۔ معروض بسا اوقات منفی اثرات مرتب کرتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ ابھی انکی دوسری نفی جو پہلے سے موجود ہوتی ہے مربوط نہیں ہوئی ہوتی۔ یعنی دو نفی مل کر ایک مثبت بناتی ہیں۔ مثبت ایٹم زندگی اور اسکے ساتھ جڑے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔

آسان زبان میں سمجھاؤں تو یوں سمجھیں کہ وبا ہمارے بد افعال کا فطری اور منظقی نتیجہ ہوتی ہیں جو خدا کی طرف سے سزا بالکل نہیں ہوتیں لیکن ان کی دوا جو انکے علاج کے لئے دریافت کی جاتی ہے بنیادی طور پر وہ خدا کا کرم ہوتا ہے۔ مارکس کی زبان میں اسے قدرت کی مدد کہا جاتا جو دو نفیوں کو باہم جوڑ کر ایک مثبت پیدا کرتی ہے۔ جبکہ ہمارے علماء کرام ایک طرح سے قدرت پر الزام عائد کر دیتے ہیں کہ اس نے سزا دی! سزا اور جزا کسی فعل کا منطقی انجام ہوتی ہے لیکن اس انجام بد سے زندگی کو باحفاظت نکال کر لے جانا خدا کا کام ہے! اس لئے کہ اس کی سرشت میں رحمان و رحیم کے فطری اوصاف ہوتے ہیں۔ رحمان و رحیم کو عملاً دیکھنا ہو تو ماں کی حرکات دیکھا کریں۔ جب آپ کی ٹھکائی ہو رہی ہو، جب آپکو کھلایا جا رہا ہو، جب آپ سے پیار جتایا جارہا ہو، غرض ماں رحمان و رحیم کی نمائندگی کرتی ہے!

اب یہ ممکن نہیں رحمان و رحیم کی یہ صفات خدا میں جاکر ہئیت بدل لیتی ہوں۔ بدلتی نہیں بلکہ یہ صفات پوری شدت سے خدا میں جاکر ظہور کرتی ہیں اور قدرت اسی شدت کے ساتھ انسان کو لوٹا دیتی ہے!

یہی صفات انسان میں پیدا ہو جائیں تو وہ افلاطون کا پاکیزہ مرد بن جاتا ہے جس میں بہادری جرآت اور علم سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے!!!

Rooh Ullah

M.phil Scholar in Sociology at International Islamic University Islamabad, Pakistan.

نوٹ: باجوڑ ٹائمز اور اس کی پالیسی کا  بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bajaurtimes@gmail.com  پر ای میل کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.