ثقافت اور تہذیب

0

حیوانات کی طرح انسان بھی گروہوں میں رہتا ہے لیکن انسانی گروہ کسی حد تک منظم ہوتے ہیں اور انہیں ’’معاشرہ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے ہر معاشرے کے ممبران کچھ ایسے امتیازی اور خصوصی طور پر کردار سرانجام دیتے ہیں جن کو کُلی طور پر ان کی ’’ثقافت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، ثقافت تاریخی طور پر تخلیق کیا ہوا زندگی گزارنے کا ایک خاکہ ہے اور افراد کے کردار کے لیے رہنماء ثابت ہوتا ہے، ثقافت انسانی کردار کو سمجھنے میں مددگار ہوتی ہے اس طرح انسانی کردار کی گونا گونی اور متنوعات کو سمجھنے کے لیے ہر معاشرے میں ایک امتیازی ثقافت ہوتی ہے جو زندگی گزارنے کی تاریخی تنظیم سے اخذ کی جاتی ہے جس میں گروہ،قوم یا معاشرے کا ہر فرد شریک ہوتا ہے، ثقافت کی وسیع ترین تعریف میں کسی معاشرے کے تمام طور طریقے، اقدار وروایات،رسوم ورواج، رہن سہن، چال ڈھال، ادب اورآرٹ، لباس، موسیقی، تعلیم و تربیت اور زندگی گزارنے کے دوسرے عوامل شامل ہیں،ثقافت معاشرے کی پیداوارہے اورمادی اوراخلاقی اقدارکا مجموعہ ہے جسے نوع انسان نے تاریخ کی وسعتوں میں اپنے معاشرتی عمل کے دوران حاصل کیاہے جس میں تمام تجربات کے حاصلات شامل ہیں،اورجس کی تشکیل میں معاشرتی رشتوں کا احساس کارفرماہوتاہے،ثقافتی ترقی اس بات پرمنحصرہے کہ پیداواری قوتیں بدلتی ہوئی حالت میں پیداہونے والے تضادات کودورکرتی ہیں یا نہیں؟ تمدن معاشرے کے خارجی مظاہر(معاشی اورسیاسی نظام) سے مرتب ہوتاہے،اورثقافت اس کا داخلی پہلوہے،اس لیے ثقافت انسان کی ان سرگرمیوں کا نام ہے،جومحنت وکاوش کی لگن،معاشرتی شائستگی،جمالیاتی مسرت، روشن خیالی، طبقاتی شعور، جبراستحصال کے خلاف نفرت،آزادی،تزکیہ نفس اورارفع آدرش کے حصول کی آرزوبخشتی ہیں اوراس کے فکرواحساس اورتخلیقی صلاحیتوں کی تربیت کرتی ہیں، ظاہرہے کہ ان سرگرمیوں میں فنون لطیفہ،ادب،علم وفلسفہ اوردیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔ ثقافت محض تفریح،ناچ گانا یاکوئی تماشہ گری نہیں بل کہ بہت ہی سنجیدہ انسانی عمل ہے،جوایک مثبت فلسفہ حیات رکھتی ہے یہ بھی یادرکھنا چاہیئے کہ یہ سرگرمیاں محض ذریعہ ہیں خود مقصدنہیں ہیں،اس لیے فنون لطیفہ،ادب اورعلم وفلسفہ کومحض مجردخیالات پرمبنی اورمعاشرتی اورسیاسی مافیہ سے عاری نہیں ہوناچاہیئے اور تمام ثقافتی سرگرمیوں کوجمالیاتی اقداراورمعاشی وسیاسی اقدارکا حسین امتزاج ہونا چاہیئے تاکہ وہ انسان کے ظاہروباطن کی تربیت ہمہ گیراندازمیں کرسکے،ایسی ہی سرگرمیاں فرد میں اجتماعیت کا احساس پیداکرتی ہیں، اسے پاکیزگی اورمقصدیت سے ہمکنارکرتی ہیں اس کے جذبات واحساسات کوارفع بناتی ہیں،اسے رواداری اوروسیع القلبی عطاکرتی ہیں، اسے آدمی کے احترام محبت اورانسان دوستی کا سبق دیتی ہیں، جبرواستحصال سے نفرت سکھاتی ہیں، اوراس میں طبقاتی شعورکی شائستگی اورانسانیت پیداکرتی ہیں، ایسی ہی ثقافت مساوات اورآزادی کی ثقافت ہوتی ہے جسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا چاہیئے، انسانیات کے نقطہ نظر سے ’’مہذب اور غیر مہذب‘‘ ثقافت میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا ایک مہذب (علم و آرٹ میں ترقی یافتہ) معاشرہ اسی طرح ثقافت رکھتا ہے جس طرح غیر مہذب (علم و آرٹ و ادب وغیرہ میں غیر ترقی یافتہ معاشرہ) کسی معاشرے کے ثقافتی اثاثے میں کھیتوں کھلیانوں اورصحراوں میں گائی جانے والی گیتیں اتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں جتنی تربیت یافتہ موسیقاروں اورگلوکاروں کے بڑے بڑے ہالوں میں گائے جانے والے گانے۔ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہر معاشرتی گروہ اپنی ایک ایسی امتیازی ثقافت رکھتا ہے جو اس کو دوسرے معاشرتی گروہوں سے ممیز کرتی ہے، جب ایک گروہ انسانوں کا کسی جگہ اکٹھا ہو کر بستا ہے تو اکثر ان کی ضرورتیں اور ان کی حاجتیں، ان کی غذائیں اور ان کی پوشاکیں ان کی معلومات اور کے خیالات ان کی مسرت کی باتیں اور ان کی نفرت کی چیزیں سب یکساں ہوتی ہیں اور اسی لیے برائی اور اچھائی کے خیالات بھی یکساں ہوتے ہیں اور برائی کو اچھائی سے تبدیل کرنے کی خواہش سب میں ایک سی ہوتی ہے اور یہی مجموعی خواہش کا تبادلہ اس قوم یا گروہ کی تہذیب کہلاتا ہے، تہذیب خالص انسانی تخلیق ہے اور انسان ہی اس کا واحد ضامن ہے لیکن انسان تہذیب کے جراثیم ماں کے پیٹ سے لے کر نہیں آتا اور نہ جبلی طور پر تہذیبی عمل میں شریک ہوتا ہے اس کو بات چیت کرنا، آلات اور اوزار استعمال کرنا، اپنے سماجی فرائض کو ادا کرنا معاشرے ہی سے سیکھنا پڑتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بچوں کو بہت عرصے تک اپنے سماجی اور تہذیبی ماحول کے تابع رہنا پڑتا ہے انہیں مجبوراً وہی زبان سیکھنی پڑتی ہے جو ان کے گھروں میں بولی جاتی ہے وہی غذائیں کھانی پڑتی ہیں جس کی توفیق ان کے ماں باپ کو ہوتی ہے وہی کپڑے پہننے پڑتے ہیں جو دوسرے انہیں پہنا دیتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر نئی نسل کی شخصیت پرانی نسل کی تہذیب کے دائرے میں تشکیل پاتی ہے، دنیا کی ہر نئی پرانی تہذیب کی تشکیل چار عناصر ترکیبی سے مل کر ہوئی ہے (1) طبعی حالات (2) آلات و اوزار (3) نظام فکر و احساس (4) سماجی اقدار، اس میں نہ مشرق و مغرب کی تخصیص ہے اور نہ سرد و گرم علاقوں کی قید۔ کسی معاشرے میں روابط و سلوک، اخلاق و عادات، طرز بود و باش، رسم و رواج، حسن و جمال اور فن و اظہار کے جو معیار رائج ہوتے ہیں وہی اس معاشرے کے سماجی اقدار کہلاتے ہیں یہ قدریں کسی مجلس شوریٰ میں وضع نہیں کی جاتیں اور نہ قانون کے ذریعے نافذ ہوتی ہیں بل کہ ان کے یچھے صدیوں کی تاریخی روایات ہوتی ہیں معاشرے کی کسب و جہد ہوتی ہے اس کے تجربے اور مشاہدے ہوتے ہیں اس کا جمالیاتی ذوق ہوتا ہے اور ان سب سے سماجی قدریں رفتہ رفتہ تشکیل پاتی ہیں، معاشرے کے افراد ان قدروں کی حتی الوسع پابندی کرتے ہیں لیکن سماجی قدریں جامد اور ناقابل تغیر نہیں ہوتیں بل کہ ان میں بھی وقتاً فوقتاً تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، معاشرتی ماحول اور سماجی حالات میں جو تبدیلیاں آتی ہیں ان کا اثر قدروں پر بھی پڑتا ہے، عربی زبان میں لفظ تہذیب کے لغوی معنی ہیں درخت تراشنا، کاٹنا اور اس کی اصلاح کرنا، فارسی زبان میں اس لفظ کے معنی ہیں آرائش و پیراستن پاک و درست و اصلاح نمودن، یہ لفظ مجازی معنوں میں شائستگی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جس میں خوش اخلاقی، اطوار، گفتار اور کردار کی شائستگی شامل ہے جیسے کہا جائے کہ وہ تہذیب یافتہ یا مہذب انسان ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اطوار و گفتار میں شائستہ ہے اگر ان معانی پر غور کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ لفظ ’’تہذیب‘‘ ان چیزوں سے تعلق رکھتا ہے جن کا تعلق ہمارے ظاہر سے ہے، دوسرا لفظ ’’ثقافت‘‘ ہے لسان العرب میں اس کے معنی یہ بتائے گئے ہیں کہ علوم و فنون و ادبیات پر قدرت و مہارت کسی چیز کو تیزی سے سمجھ لینا اور اس میں مہارت حاصل کرنا سیدھا کرنا گویا یہ لفظ ان چیزوں سے تعلق رکھتا ہے جن کا تعلق ہمارے ’’ذہن‘‘ سے ہے، لفظ تہذیب کا زور خارجی چیزوں اور طرز عمل کے اس اظہار پر ہے جس میں خوش اخلاقی، اطوار و گفتار اور کردار شامل ہیں اور ثقافت کا زور ذہنی صفات پر ہے، تہذیب و ثقافت کو یکجا کر کے ان کے لیے ایک لفظ ’’کلچر‘‘ بنتا ہے، جس میں تہذیب اور ثقافت دونوں کے مفہوم شامل ہیں اس کے معنی یہ ہوئے کہ کلچر ایک ایسا لفظ ہے جو زندگی کی ساری سرگرمیوں کا خواہ وہ ذہنی ہوں یا مادی، خارجی ہوں یا داخلی احاطہ کر لیتا ہے اب کلچر کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ کلچر اس کلُ کا نام ہے جس میں مذہب و عقائد، علوم و اخلاقیات، معاملات، معاشرت، فنون و ہنر، رسم و رواج، افعال، روایات، قانون اور وہ ساری عادتیں شامل ہیں جن کا انسان معاشر ے کے ایک رکن کی حیثیت سے اکتساب کرتاہے اور جن کے برتنے سے معاشرے کے متضاد و مختلف افراد اور طبقوں میں اشتراک و مماثلت، وحدت و یکجہتی پیدا ہوتی ہے، کلچر میں زندگی کے مختلف مشاغل، ہنر اور علوم و فنون کو اعلیٰ درجے پر پہنچانا بری چیزوں کی اصلاح کرنا، تنگ نظری اور تعصب کو دور کرنا، غیرت و خود داری ایثار و وفا داری پیدا کرنا معاشرے میں حسن و طاقت، اخلاق میں تہذیب عادات میں شائستگی لب و لہجہ میں نرمی اپنی چیزوں، روایات اور تاریخ کو عزت اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھنا اور ان کو بلندی پر لے جانا بھی شامل ہیں۔ کسی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں تہذیب معاشر ے کی طرز زندگی اور طرز فکر و احساس کا جوہر ہوتی ہے چناں چہ زبان، آلات و اوزار پیداوار کے طریقے اور سماجی رشتے، رہن سہن، فنون لطیفہ علم و ادب فلسفہ و حکمت عقائد وافسون، اخلاق و عادات رسوم و روایات عشق و محبت کے سلوک اورخاندانی تعلقات وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہرے ہیں۔بقول میتھیوارنلڈ کہ ’’کلچر تشدداور تعصب سے آزادی حاصل کرنے کانام ہے،چاہے یہ تعصب معاشی ہوصنعتی،تنظیمی،سیاسی یا مذہبی تنگ نظری ہو۔کلچر کی مثال شہد کے چھتے کی طرح ہے،جس میں شہد بھی اورموم بھی ہو،شہد میٹھا بھی ہے،غذا اور دوا بھی اور چھتے میں جوموم ہوتاہے،اس سے شمعیں بنتی ہیں اورانسان کوعلم کی روشنی اور میٹھے کردار دونوں کی ضرورت ہے،کلچرکا لب لباب بھی یہی دوعناصر ہیں‘‘جہاں تک ثقافت اورتہذیب کے مابین تعلق اوررشتے کی بات ہے توثقافت مغز کی حیثیت سے تخلیق کاخزانہ اور تہذیب کی حیثیت اس خزانے (مغز) کے محافظ کی ہے،جوچھلکے کی صورت میں مغز کی حفاثت کرتاہے،ثقافت بنیادی طورپرقوت نمو،نشونماء کاخزانہ اور ارتقاء کا محرک ہے مگرتہذیب اصولوں، اقدار،قوانین،ضابطوں اورقواعد کے تابع رہتا ہے۔ اوراسی طرح ثقافت اورتہذیب باہم مل کربھی اپنی اپنی جداگانہ حیثیت اوراہمیت کے حامل ہیں۔  

تحریر :روح اللہ

Rooh UllahM.phil Scholar in Sociology at International Islamic University Islamabad.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.