کوثر گاؤں کے پانی کو ترستے باسی

0

تحریر: محمد بلال یاسر

پانی سے بھرے  مٹکے لے کر ڈھلان پہاڑی سطح سے  اترنا  بخت جہان بی بی(فرضی نام) کے لئے ا ب پہلے جیسا آسان نہیں رہا،  عمر  ڈھلنے کے ساتھ  اس کی جسمانی قوت بھی اب ویسی نہیں رہی، جب وہ پانی کے دو مٹکے، ایک سر پر اور دوسرا پہلو میں تھامے  اترتی ہے تو اس کی  سانس پھولنے لگتی ہے، اور کمر اور پیروں میں درد کی ٹیسیں اٹھتی ہیں،  وہ اپنی ہمراہی  جوان لڑکیوں سے پیچھے رہ جاتی ہے۔

   ایک کلومیٹر کے لگ بھگ  یہ پہاڑی راستہ اس کیلئے  جیسے میلوں کی مسافت میں بدل جاتا ہے،  جسے طے کرنے میں اسے   کم وبیش آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے۔

 دیہات کے پس منظر سے جڑی یہ کہانی  نئی نہیں، نہ ہی اس کے کردار نامانوس ہیں، لیکن خیبر پختونخوا کا  خطہ جو  سرسبز وادیوں اور پانی کی ندیوں اور چشموں سے  جانا جائے، وہاں  ایسے مناظر کی عکاسی شاید کم ہی سننے میں آتی ہے،   لیکن یہ کہانی  باجوڑ کے پہاڑی مقامات کی ہے جہاں پانی کے چشموں کی بہتات نہیں، اور کنویں کی کھدائی  کی استطاعت ہر کسی میں نہیں ہے،جیسے  دس ہزار کی آبادی  پر مشتمل   گاؤں جس کا نام بھی کوثر ہے، جو اس چشمے کا نام ہے ، جہاں سے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم روز محشر اپنے امتیوں کی پیاس بجھائیں گے۔

لیکن کوثر گاؤں کو اپنی پیاس بجھانے کیلئے کافی دور جانا پڑتا ہے،   جہاں  خواتین اور بچے سروں  اور ہاتھ گاڑیوں میں  پانی لے کر گھر آتے ہیں، چند سال قبل کی بات ہے، جب ارباب اختیار کی توجہ اس مشقت کی جانب ہوئی ، تو اس  گاؤں کیلئے   شمسی توانائی سے چلنے والے  ڈگ ویل کی منظوری ہوئی، ایک بڑی ٹینکی تعمیر ہوئی، بخت جہان اور گاؤں کی دیگر خواتین کو امید ہوچلی تھی کہ  ان کے مشکل دن ختم ہونے والے ہیں،  انہوں نے سنا تھا  کہ اس منصوبے میں گھر گھر تک پانی پہنچانا شامل تھا مگر تین سال گذرنے کے باوجود اس ڈگ ویل سے جڑی امیدیں بر نہ آسکیں۔

تیرہ سالہ معاذ خان جو کہ گاؤں کے اسکول میں پانچویں جماعت کا طالب علم ہے ، وہ بھی اس دن کے انتظار میں ہے، جب وہ ا سکول سے تھکا ہارا گھر پہنچے گا تو وہ تازہ دم ہونے کیلئے گھر میں لگے نلکے سے پانی لے کر ہاتھ منہ دھوئے گا، اور کھانا کھانے بیٹھے گا،  سردست تو اسکول کا بستہ رکھ کر وہ پہلا کام یہی کرتا ہے کہ پانی کے گیلن لے کر  گدھے پر لادتا ہے، اور تقریباً 400میٹر کے فاصلے پر واقع کنویں سے گھر کیلئے پانی لاتا ہے ، کئی سال بیت گئے ہیں لیکن اس معمول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، نہ آنے والے دنوں میں کسی تبدیلی کے بارے میں وہ زیادہ پر امید ہے۔

شام میں کھیل کود کےدوران جب وہ   اس مقام کود یکھتا ہے، جہاں شمسی توانائی سے چلنے والے کنویں ( سولر ڈگ ویل) کی  منظوری  ہوئی تھی اور ٹینکی تعمیر کی گئی تھی،  وہ حسرت سے اس مقام کو دیکھتا ہے، لیکن اس کا معصوم ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ  دوسرے علاقوں کی طرح اس کے  گھر پر نلکے کے ذریعے صاف و شفاف پانی ملنے کی راہ میں ایسی کیا رکاوٹ ہے کہ متعلقہ محکمہ اسے عبور نہیں کرسکا ہے۔

خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع میں سب سے زیادہ آبادی کا حامل ضلع  باجوڑ ، جس  کا کل رقبہ 1200 مربع کلومیٹر جبکہ آبادی تقریبا13لاکھ ہے ۔ یہاں پینے کے پانی کے مسئلے کو  حل کرنے کیلئے باجوڑ کے منتخب نمائندوں کے جانب سے ان علاقوں میں نیچے ہموار جگہوں پر سولرسسٹم کے ٹیوب ویل تعمیر کرکے پانی کو ذخیرہ کرنے اور اس سے  پورے علاقے میں  گھروں تک پائپ اور نلکوں کے ذریعے پانی پہنچانے کے منصوبے بنتے رہے ہیں ۔

 خار تحصیل میں واقع گاؤں  کوثر  کیلئے بھی چند  سال قبل تقریباً ایک کروڑ روپے کی لاگت سے  شمسی توانائی سے چلنے والا کنواں تعمیر ہوا، لیکن خدا جانے کیا افتاد آڑے آئی کہ منصوبہ اپنے افتتاح کی راہ دیکھ رہا ہے، اور اس ہر گزرتا دن اس کے انفراسٹرکچر اور علاقے میں بچھانے کیلئے لائے گئے پائپوں کی  ٹوٹ پھوٹ اورخستہ حالی میں اضافہ کررہا ہے۔

یہ منصوبہ  سینیٹر ہدایت اللہ خان کے فنڈ سے تین سال قبل تعمیر ہوا  تھا،   تین سال سے گلیوں کوچوں میں پائپ لائن پڑے پڑے ٹوٹ گئے ہیں ، کوثر برکلے میں اس کیلئے تعمیر کی گئی ٹینکی عدم استعمال کے باعث بری حالت میں ہے ، جبکہ عوام اس منصوبے سے پانی کے حصول  کی راہ تک رہے ہیں ، سینیٹرہدایت اللہ کے سیکرٹری عمران نےرابطہ کیا گیا  تو انہوں نے کہا کہ کسی  فنی خرابی کے وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار  ہے، اور اسے  بہت جلد مکمل کرکے اس کا افتتاح کردیا جائے گا، اور  پائپوں کی دوبارہ ریپئرنگ بھی کردی جائے گی۔

 علاقے کے عوام نے کئی بار اعلٰی حکام سے  نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، راقم الحروف نے بھی  اس حوالے سے متعلقہ محکمہ کے ذمہ داروں سے رابطہ کرکے توجہ دلائی ہے، لیکن زیادہ حوصلہ افزا جواب نہیں ملا ہے، اس تحریر کے توسط سے گزارش ہے کہ آئے روز اخبارات میں آتا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کو دیگر علاقوں کے برابر لانے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، اربوں روپے کے فنڈز کی خبریں آتی ہیں،  ایکیسیلی ریٹڈ ایمپلی منٹیشن  پروگرام (اے آئی پی) کے تحت تیز رفتار ترقی کی باتیں ہورہی ہیں ، لیکن ان تمام دعووں اور اقدامات کے بارے میں عوامی رائے تب ہی بہتر ہوگی  جب ان کی زندگیوں میں تبدیلیاں آئیں گی۔

علاقے کے عوام کا مطالبہ ہے کہ اگر یہ منصوبہ فعال ہو تو  پانی کی قلت اور صاف پینے کے پانی کی دستیابی کے حوالے سے موجودہ  مشکلات ختم ہوسکتی ہیں، پانی جیسے بنیادی حق کیلئے ترستی علاقے کے عوام کی مشکل کب ختم ہوگی، سردست تو کچھ بتانا مشکل ہے

تحریر: محمد بلال یاسر

( باجوڑ پریس کلب خار ضلع باجوڑ)

ای میل :

Bilalyasirkhan1@gmail.com

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.