تعلیم نسواں

0

میاں وقاص احمد

تعلیم ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسی چابی ہے جس کے ذریعہ ہم ہر دروازے کو کھول سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے کئی ترقی پزیر ممالک بشمول پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔تعلیم ہر معاشرے کو ترقی یافتہ اور مہذب بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 43 فی صد سے زیادہ لڑکیاں سکولوں سے باہر ہیں۔ خاص طورپر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے نئی ضم شدہ ضلع باجوڑ میں یہ شرح اور بھی کم ہے۔ ہمارا مذہب اسلام بھی ہمیں یہ درس دیتا ہے  کہ ”مناسب تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے”

ارٹیکل 37 پاکستانی آئین کے مطابق عورتوں کو تعلیم دینا  ان کی بنیادی حق ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم عورتوں کیلئے بھی اتنی اہمیت کا حامل ہے جتنا مردوں کیلئے اہم ہے۔

محکمہ تعلیم ضلع باجوڑ کے مطابق: باجوڑ میں لڑکیوں کی تعلیمی شرح 4.7 فی صد ہے جو کہ نہ ہونے کی برابر ہے۔ یہاں عسکری اپریشن کے دوران 2009 تک باجوڑ میں 110 سکولز تباہ ہوں گئے تھے جن میں سے دس لڑکیوں کی اور ایک سو(100) لڑکوں کے سکولز تھے۔  یہ سارے تعلیمی ادارے دوبارہ تعمیر ہو چکے ہیں اور ان میں سے کچھ سکولز اپ گریڈ بھی ہو چکے ہیں۔

 باجوڑ میں لڑکیوں کیلئے 192 پرائمری، 42 مڈل، 15 ہائی سرکاری سکولز ہیں اور کوئی ایک بھی ہائیر سکنڈری سکول موجود نہیں ہے۔صرف ایک کالج ہے جو ہیڈکوارٹر خار میں واقع ہے۔ لڑکیوں کی سرکاری سکولوں کا مجموعی تعداد 708 ہیں۔

 باجوڑ میں دو نان فنکشنل لڑکیوں کی سرکاری سکولز ہیں اور ریشنلائیزیشن پالیسی کی تحت پورے ضلع میں مزید 219 پرائمری، 150 مڈل، 55 ہائی اور 16 ہائرسکنڈری سرکاری سکولز درکار ہے جن کا مجموعی تعداد 440 بنتا ہے۔

  پرائمری سکولوں میں استانیوں کی تعداد 419 ہیں ریشنلائیزیشن پالیسی کے تحت پرائمری سکولوں میں مزید 366 خواتین معلمات کی ضروت ہیں۔ مڈل لیول پر معلمات کی تعداد 176 ہیں اور مزید 36 استانیوں کی ضرورت ہیں۔ ہائی سکولوں میں 127 استانیاں پڑھا رہی ہیں اور پانچ استانیاں اور درکار ہیں۔

سرکاری سکولوں میں انرول لڑکیوں کی تعداد  :

پرائمری لیول پر سرکاری سکولوں میں انرول  لڑکیوں کی تعداد 30 ہزار، مڈل لیول میں 6 ہزار، ہائی لیول میں  2 ہزار اور کوئی ہائر سیکنڈری سکول موجود نہیں ہے. سکولوں میں انرول لڑکیوں کی مجموعی تعداد 38 ہزار ہے۔

سکولوں سے باہر لڑکیوں کی تعداد۔

پرائمری میں لڑکیوں کی تعداد 63010،  مڈل لیول پر 62662 اور ہائی لیول پر 34188 لڑکیاں سکولوں سے باہر ہے جن کا مجموعی تعداد 159860 بنتا ہیں۔

”اگر ہم ایک لڑکے کو تعلیم دینگے تو ایک شخص کو تعلیم دینگے اور اگر ہم ایک لڑکی کو تعلیم دینگے تو یہ پوری خاندان یا قوم کو تعلیم دینا ہے”

باجوڑ میں لڑکیوں کی تعلیمی شرح کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ لڑکوں کیلئے لاتعداد نجی سکولز بھی ہے لیکن لڑکیوں کیلئے صرف ایک نیم سرکاری سکول ہے جو کہ تحصیل خار  سیول کالونی میں ہے اور وہاں صرف ان لوگوں کی بیٹیاں جاسکتی ہے جو آمد و رفت اور وہاں کی فیس کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

باجوڑ کی تعلیمی میدان میں بہت سارے پیچیدگیاں  ہیں خاص کر لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ دہستگردی کی آپریشن میں یہاں کا تعلیمی نظام بہت متاثر ہوا ہے جس کو حکام بالا  کے نظر خاص کی اشد ضرورت ہے۔

تعلیم نسواں کی شرح اتنی کم کیوں؟

 لڑکی کو سکول بھیج کر شرم محسوس کرنا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ لوگ ہمارا مذاق اڑھائیں گے کہ فلاں شخص کی بیٹی اکیلی سکول جاتی ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر لڑکوں کو زیادہ ترجیح اور فوقیت اس لئے ملتی ہے کہ لڑکیاں  اپنے گھر سے وداع  ہو کر کسی دوسرے گھر جائے گی اور لڑکا اپنے والدین کے خیال میں ان کو ہر قسم سہارا دے گا۔ زیادہ تر لڑکیوں کی تعلیم کم عمری میں شادی کرنی کی وجہ سے ادھوری رہ جاتی  ہے۔ علاقائی رسم و رواج  اور لوگوں کے طعنوں کی وجہ سے لڑکیاں سکول تک اکیلی آزادانہ طورپر سفر نہیں کرسکتیں۔

 اب تبدیلی آئی ہے: ایک لڑکی کا والد جس کی بیٹی نے پانچویں کلاس میں تعلیم ادھورا چھوڑا تھا۔ گل رحمان نامی ایک شخص سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میری بیٹی نے پانچویں کلاس تک پڑھا وہ بھی لڑکوں کے سکول میں، یہاں ہمارے گاؤں اور علاقے میں نزدیک کوئی مڈل یا ہائی سکول نہ ہونے کی وجہ سے میری بیٹی کا تعلیمی سفر وہاں پر ختم ہوگیا۔ اگر یہاں پر لڑکیوں کیلئے تعلیمی ادارہ ہوتا تو یہ نوبت نہ آتی اور لوگوں کو یہ یہ پیغام دیتا ہوں کہ اپنی بیٹیوں پر ہر حال میں تعلیم حاصل کرو انہوںے کہا۔

 باجوڑ میں لڑکیوں کی تعلیم کو اب تک  لوگ پیسوں کا اور وقت کا ضیاع سمجھتے تھے لیکن اب لوگوں میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے  جس کی وجہ سے زیادہ تر والدین اب چاہتے ہیں کہ انکی بیٹیاں بھی تعلیم حاصل کرسکے لیکن باجوڑ میں تعلیمی شرح نہ ہونے کی بڑی وجہ  تعلیمی اداروں کی کمی یا فقدان ہے کیونکہ دیہاتی علاقوں میں لڑکیوں کے سکولز گھروں سے کافی فاصلے پر اور دور واقع ہیں۔ جن کو رسائی باجوڑ جیسے پسماندہ علاقے میں مشکل ہے۔  بہت سے خاندان غربت اور مفلسی کی وجہ سے  اخراجات ِآمد و رفت کو برداشت کرنے سے قاصرہیں ۔ جس طرح مسائل طالبات کو درپیش ہیں اسی طرح مسائل خواتین معلمات کو بھی پیش آتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں  مردوں کی حکمرانی ہے اور زیادہ تر خواتین معلمات دور دراز علاقوں میں واقع سکولوں کو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے وہاں جانے سے خوف زدہ ہیں۔

باجوڑ میں جب بھی تعلیم کی مد میں خواتین معلمات  کیلئے آسامیاں آتے ہیں تو یہاں تعلیمی شرح اور خواندہ عورتیں نہ ہونے کی وجہ سے ان پر زیادہ تر خواتین استانیاں باہر سے بھرتی ہوتی ہیں جن کو پھر یہاں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں انکی رہائش کا مسہع  ہوتا ہے یا اپنے خاندان سے دور رہ کر اکیلی زندگی بسر کرنی ہوتی ہے۔

 اب حل کیا ہے؟

حکومت کو چاہئے کہ علاقائی سطح پر لوگوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے سیمنارز یا کوئی اور پرائیوٹ سیکٹر کی ذریعے اگاہی پھلائیں۔ اور یہاں ریشنلائیزیشن پالیسی کا فوری تعین کرے تاکہ باجوڑ کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ جائے۔

 والدین کو اپنی بیٹیوں کی بات سن کر معلوم کرنی چاہئے کہ انکی کیا خواہش ہے؟ ان کے جذبات اور احساسات کیا ہیں؟  وہ کیا چاہتی ہےاور  ان کی ذہن میں کیا ہے؟

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.