براؤزنگ زمرہ

کالم اور بلاگ

افلاطون کا مرد

تحریر :روح اللہ افلاطون کہتا ہے جرآت بہادری اور علم سے محبت انسان کی فطرت کے بنیادی اوصاف ہیں۔ جرآت اور بہادری وہ نہیں جو ہمارے فلمسٹار شفقت چیمہ اور راہی مرحوم کے ذریعے دکھائی جاتی ہے! یہ طور ضیاء الحق نے عظیم روس کو افغانستان سے

تذکرہ علمائے باجوڑ گیارہویں قسط:

تحریر: محمد بلال یاسر شیخ القرآن حضرت مولانا گل رحمٰن رحمہ اللہ مسئلہ توحید کے خاطر سینکڑوں تکالیف کا شکار ہونے والے حضرت مولانا گل رحمٰن 1931ء بمطابق(1391ہج) کو باجوڑ ایجنسی کے سنگم پر واقع ناوگئی گاؤں کے عرب خیل یا عربی خیل محلہ

تذکرہ علمائے باجوڑ چودھویں قسط:۔

تحریر: محمد بلال یاسر ماہر فی الفقہ حضرت مولانا جمعہ خان صاحب رحمہ اللہ سلارزو باجوڑ کے ایک غیر معروف گاؤں تلی میں 1949 کو شیرافضل خان کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا، یہ بچہ نہایت خوش نصیب تھا کیونکہ اسے ابتداء ہی سے نیک اور دیندار گھرانہ

ارطغرل غازی اور پاکستانی عوام

اسماء طارق گجرات ۔ آج کل پاکستان میں دو ہی چیزیں خاص اہمیت کی حامل ہیں کرونا اور ارطغرل غازی ۔۔۔۔ پاکستان میں کسی چیز کی مقبولیت کااندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا کہ آپ کو با آسانی اس کے پاپڑ میسر ہیں کہ نہیں ۔۔۔۔جی ہاں اب آپ کسی بھی

غازی ارتطغرل یا غازی امان۔

تحریر مولانا خانزیب۔ کچھ عرصہ سے الیکٹرانک میڈیا پر ایک ڈرامہ دکھایا جارہا ھے ارتطغرل غازی کے نام سے جو ترکی سے بھی یہاں زیادہ مقبول ہورہا ھے اور جسکے دیکھنے والوں کی تعداد یوٹیوب پر کروڑوں تک پہنچی ھے۔ اگر کردار کو صرف ڈرامے کی حدتک

قوم پرستی،ابہام اور شخصی عزائم

تحریر: شیرزادہ              قوم پرستی کا عنصر ہر زندہ معاشرے کا بنیادہ پہلوں ہوتا ہے۔ایک ایسا رویہ اور کیفیت کا ہونا قوم پرستی کی زمرے میں آتا ہے  جب انسان اپنی ذاتی خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر معاشرے کی فلاح و بہبود اوربقا ءکی  خاطر

وباء کی دنوں میں باجوڑ میں بجلی کا بحران

تحریر : غابد مغل : انگریزی سے اردو ترجمہ :انواراللہ خان ملک کے دیگر شہروں اور علاقوں کی طرح باجوڑ میں بھی گزشتہ کئی ہفتوں سے کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاون ہے اور یوں بارہ لاکھ عوام حکومتی احکامات کے تحت اپنے گھروں تک محدود ہوگئی ہیں ۔…

میں چاہتا ہوں کہ ایسا برتن بناؤں کہ دنیا اش اش کر اٹھے

سقراط جب بچہ تھا، تو روزانہ ایک راستے پر چہل قدمی کے لیے جایا کرتا تھا۔ اس راستے میں ایک کمہار کا گھر تھا، جو مٹی کے برتن بنایا کرتا تھا۔ وہ کمہار کے پاس جا کر بیٹھ جاتا اور اسے غور سے تکتا رہتا ۔ اسے برتن بننے کا عمل دیکھنا بہت اچھا لگتا…

کرونا وائرس اور مجنوں کی ہدایت

اسماء طارق سلام عرض ہے،سناو کیسی ہو پینو ۔۔ امید کرتا ہوں خیریت سے ہوگی ۔کہیں دنوں سے تمہاری یاد آ رہی تھی۔۔ سوچا تمہیں خط ہی لکھ لوں اج کل ویسے بھی چھٹیاں ہو گئی ہیں اور پڑھنا لکھنا تو ہم نے ہے نہیں ۔ ویسے مجال ہے جو کبھی تم ہمیں

خوشی کیسی بلا ہے, اسماء طارق

یونہی بیٹھے بیٹھے اچانک خیال آیا کہ بچپن کے دن بھی کتنے اچھے تھے۔ کیسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتے تھے تب تو کاغذ کا ایک جہاز بھی اتنی خوشی دیتا تھا جیسے پوری دنیا مٹھی میں ہو ۔ ایک چھوٹی سی گیند کے ساتھ سارا دن ہنسی خوشی گزر جاتا